Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

الفقہ 663

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 663)

شرم سے وضوء کے لئے نماز سے  نہ نکلے

  اگر غلبۂ شرم کی وجہ سے نہ نکل سکے تو کم سے کم اتنا ضرور کرے کہ نماز کی نیت ختم کردے اور صرف نمازیوں کی حرکات کو نقل کرنے پر اکتفاء کرے ایسی صورت میں وہ نماز پڑھنے والا نہیں ہوگا بلکہ نمازی کی مشابہت اختیار کرنے والا ہوگا کیونکہ ناپاکی کی حالت میں نماز پڑھنا سخت گناہ ہے بلکہ اس میں کفر کا اندیشہ ہے۔

نماز فجر کے وقت لائٹیں بند کرنا

س:کیا فجر کی نماز میںجماعت کھڑی ہونے سے قبل مسجد کی تمام لائٹیں بند کردینی ضروری ہے؟

ج:لائٹ رکھنے اور بجھانے کا فجر کی نماز سے کوئی تعلق نہیں، نہ حدیث میں اس کا کوئی ذکر ہے نہ فقہاء کے یہاں اس کا تذکرہ ہے، البتہ فجر کی نماز حنفیہ کے یہاں صبح کے اچھی طرح روشن ہوجانے کے بعد ادا کرنے کا حکم ہے اور یہ بھی مسنون ہے کہ فجر میں طویل قراء ت کی جائے، غالباً اسی لئے بہت سے علاقوں میں فجر کی نماز شروع ہونے کے وقت روشنی بجھا دینے کی روایت قائم ہوئی تاکہ وقت کا صحیح اندازہ رہے اور لمبی قراء ت کی وجہ سے سورج نکلنے کی نوبت نہ آجائے کیونکہ اگر روشنی نہ ہو تو زیادہ بہتر طریقہ پر وقت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے، اب آج کل نہ امام صاحب اتنی طویل قراء ت کرتے ہیں اور اگر کریں تو مقتدیوں کو برداشت نہیں اور امام صاحب کی خیر نہیں، اس لئے روشنی بند کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ،البتہ نیند سے بیدارہونے کے بعد اگر سامنے تیز روشنی ہو تو اس سے آنکھ میں چبھن اور بے چینی بھی ہوتی ہے، ہو سکتا ہے کہ اس پس منظر میں لوگوں نے فجر کے وقت روشنی بجھانے کا سلسلہ شروع کیا ہو، بہرحال اس کی کوئی دینی اصل نہیں ہے، اس لئے روشنی کا بجھانا بھی درست ہے اور رکھنا بھی۔

لائوڈ اسپیکر پر نماز

س:لائوڈ اسپیکر پر نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟کیونکہ اس مسئلہ پر ایک مسجد میں خوداراکین کمیٹی کے مابین عین منبر کے پاس مار پیٹ ہوچکی ہے۔

 ج:لائوڈاسپیکر کے ذریعہ بعینہٖ امام کی آواز مقتدیوں تک پہنچتی ہے اور اس طرح خود امام کی آواز پر مقتدی نقل و حرکت کرتے ہیں، اس لئے مائک پر نماز پڑھنے میں کچھ حرج نہیں۔ فی زمانہ اس پر علماء کا اتفاق ہوچکا ہے لیکن ایک ایسے مسئلہ کے لئے جو نہ واجب ہے اور نہ مستحب، نہ حرام ہے اور نہ مکروہ، مسلمانوں کا آپس میں لڑپڑنا اور وہ بھی مسجدمیں ایک دوسرے سے ہاتھاپائی کرنا، یقیناً گناہ اور حرام ہے اور ایسے معمولی مسائل پر باہمی آویزش نہایت ہی افسوس ناک امر ہے ،اللہ تعالیٰ اس ناسمجھی سے پوری امت کی حفاظت فرمائے۔

نیل پالش لگا کر نماز کی ادائیگی

س:میری لڑکی جماعت اسلامی کے قائم کردہ اسکول کی طالبہ ہے، لڑکیوں کی عام زیبائش کی طرح وہ ناخنوں کو نیل پالش لگا کر سجاوٹ کرتی ہے، اسکول کا ماحول اور وہاں کے لوگ کہتے ہیں کہ نیل پالش لگا کر نماز پڑھنے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے اور لڑکی کا خیال ہے کہ صرف خشوع و خضوع سے نماز کا قیام ہے، تو نماز کے لیے ایسی زیبائش جائز ہے یا نہیں؟

ج:ناخن پر ایسی پالش جو پانی کے پہنچنے میں رکاوٹ ہو، اس کے ساتھ وضوء درست نہیں ہوتا کیونکہ وضوء کے درست ہونے کے لئے ضروری ہے کہ پانی جسم تک پہنچے، اگر یہ پالش اسی نوعیت کا ہو تو اس کے ساتھ وضوء درست نہیں ہوگا اور جب وضوء درست نہیں ہوا تو نماز بھی درست نہیں ہوگی، خشوع و خضوع تو باطنی کیفیت ہے، اس سے نماز کی مقبولیت کا امکان بڑھ جاتا ہے ،لیکن شریعت نے کسی بھی عبادت کے لئے جو ظاہری احکام متعین کئے ہیں، ان پر عمل کرنا ضروری ہے، ورنہ ان احکام و ہدایات کی حاجت ہی نہیں تھی بلکہ ان احکام کی اطاعت و تعمیل کے بغیر حقیقی معنوں میں خشوع و خضوع کی کیفیت بھی حاصل نہیں ہوگی۔

 نماز میں غیر معتدل آواز

س:امام نماز میں اپنی آواز بلاضرورت بلند کرتا ہو، ایک تکبیر معتدل آواز میں کہتا ہو اور دوسری تکبیر بلند آواز میں یا قرأ ت کے وقت ایک دو آیت معتدل آواز میں اور تیسری بہت بلند آواز میں، کیا اس طرح نماز پڑھنا مناسب ہے؟

ج:تکبیر انتقال ہو یا قرآن مجید کی قرأ ت ، امام کو اتنی ہی آواز بلند کرنی چاہئے کہ مقتدیوں کو آواز پہنچ جائے، خواہ مخواہ ضرورت سے زیادہ بلند آواز مناسب نہیں، علامہ حصکفیؒ نے لکھا ہے کہ ضرورت سے زیادہ بلند آواز میں قرآن پڑھنا بہتر نہیں:

’’یجھرالامام وجوبابحسب الجماعۃ فان زاد علیہ فقد اساء‘‘(الدرالمختار:ج۱ص۷۹)

آواز ایسی ہونی چاہئے کہ جو چاہے وہ آیات قرآنی میں تدبر کر سکے اور اس کو استحضار قلبی حاصل ہو(فتاویٰ ہندیہ: ج۱ ص۷۲) اگر آواز میں بہت زیادہ نشیب و فراز اور اُتار چڑھائو ہو تو اس ناہمواری کی وجہ سے استحضار قلبی پیدا نہیں ہو پاتا ہے اور انسان تدبر و تفکر کے موقف میں نہیں رہتا، اس لئے امام کو تکبیرات انتقال اور قرأ ت معتدل اور ہموار آواز میں کہنی اور کرنی چاہئے۔

 نماز میں آنکھیں بند رکھنا

 س:کچھ لوگ نماز پڑھتے وقت آنکھیںبند کر کے نماز پڑھتے ہیں کیا اس طرح نماز پڑھنا درست ہے؟

ج:نماز پڑھنے کی حالت میں آنکھیں بند کرنا مکروہ ہے، کیونکہ حدیث میں اس کی ممانعت آئی ہے:’’وکرہ تغمیض عینیہ للنھی‘‘(الدرالمختارعلی ہامش رد:ج۲ص۴۱۳) البتہ علامہ شامیؒ نے لکھا ہے کہ یہ کراہت تنز یہی ہے(ردالمحتار:ج۲ص۴۱۳) یعنی کم درجہ کی کراہت

دستک یا فون کی آواز پر نماز توڑنے کا حکم

س:مکان میں تنہا ہو کسی نے دروازہ پر دستک دی یا فون کی گھنٹی بجی تو اس حالت میں نماز توڑنا جائز ہے یا نہیں؟

ج:اگر کوئی شخص مصیبت میں مبتلا ہو اور اسے فوری مدد کی ضرورت ہو جیسے کوئی ڈوب رہا ہویا اس کے گردو پیش آگ لگ گئی ہو اور وہ آواز دے، تو خواہ فرض نماز ہو یا نقل نماز، توڑ کر اس کی فریاد کا جواب دینا اور اس کی مدد کرنا واجب ہے۔ اگر والدین میں سے کسی نے آواز دی اور کسی ضروری کام میں اعانت کا طالب ہو تو اس کے لئے بھی نماز کو توڑنا جائز ہے۔ اگر والدین نے کسی ضرورت کے بغیر آواز دی، ان کو معلوم نہیں کہ آپ نماز میں مشغول ہیں اور نمازنفل ہو تو نماز توڑ کر جواب دیا جا سکتا ہے، فرض نماز ہو تو نمازتوڑ کر جواب دینا درست نہیں، یہ تفصیل علامہ طحطاویؒ اور علامہ شامیؒ وغیرہ نے لکھی ہے(ردالمحتار:ج۲/۲۶۔۴۲۵) اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص عام حالت میں دستک دے اور نماز میں مصروف ہو یا نماز کے دوران فون آئے تو نماز نہیں توڑنی چاہئے، البتہ اگر دروازہ اتنا قریب ہو کہ ان تک آواز پہنچ سکے، تو ایسے موقع پر مردوں کو’’سبحان اللہ‘‘ کہنا چاہئے اور عورتوں کو ایک ہاتھ کی انگلیوں سے دوسرے ہاتھ کے اوپری حصہ پر تھپتھپانا چاہئے، جس کو حدیث میں ’’تصفیق ‘‘ کہا گیا ہے۔(صحیح بخاری:باب التصفیق للنساء)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online