Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

تذکرۃ المفسرین (حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ) 667

تذکرۃ المفسرین

از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ (شمارہ 667)

ابو بکر محمد عبداللہ بن جعفر بن درستویہ فارسی نحویؒ

بغداد میں ۲۵۸؁ھ کو پیدا ہوئے، ابن قتیبہؒ اور مبردؒ جیسے جلیل القدر علماء سے اکستاب فیض کیا، اپنے دور کے عظیم مدرس تھے چنانچہ’’امام دار قطنیؒ‘‘جیسے امام الحدیث بھی آپ کے شاگردوں میں سے تھے، آپ کو علم تفسیر اور معانی القرآن میں کافی دسترس تھی، آپ نے اگرچہ کوئی علیحدہ تفسیر مرتب نہیں کی مگر ’’ثعلب‘‘اور ’’اخفش‘‘ کی مرتب کردہ تفاسیر پر ایک محاکمہ لکھا جس کا نام ’’کتاب التوسط بین الاخفش و ثعلب فی تفسیر القرآن‘‘ ہے، آپ کی وفات ۲۴ صفر ۳۴۳؁ھ کو ہوئی۔

 قاضی ابو احد محمد بن ناصر بن ابراہیمؒ

آپ ۲۶۹؁ھ کو اصبہان میں پیدا ہوئے،’’عسالی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئے، علوم ظاہر یہ کے علاوہ تزکیہ نفس اور تقویٰ میں عظیم شان رکھتے تھے ،چنانچہ آپ کے متعلق مشہور ہے کہ نوافل میں صرف ایک رکعت میں پورا قرآن مجید ختم کرلیا کرتے تھے۔ تفسیر قرآن عزیز کا باقاعدہ درس دیا کرتے تھے اور طلباء کو تفسیر ی نوٹ لکھوایا کرتے تھے، آپ کی تصانیف میں سے حدیث میں ایک تو مسند ہے جو مسند عالی کے نام سے مشہور ہے اوراپنے سلسلہ کے شیوخ پر بھی ایک مبسوط تذکرہ مرتب فرمایا ، اس کے علاوہ قرآن کریم کی ایک تفسیر بھی لکھی ہے، رمضان المبارک ۳۴۹؁ میں انتقال ہوا۔

 احمدبن کامل بن خلف الشحریؒ

آپ علم تفسیر، تاریخ، ادب کے علاوہ فقہ میں کافی مہارت رکھتے تھے، محمد بن الجہمؒ کے آپ شاگرد تھے جبکہ محدث کبیردار قطنی آپ کے شاگردوں میں سے تھے، اپنے زمانہ میں کوفہ کے قاضی تھے، قرآن عزیز کی ایک تفسیر لکھی،محرم الحرام ۳۵۰؁ھ کو فوت ہوئے۔

ف)…علامہ سیوطیؒ نے لکھا ہے کہ الشحریؒ نے ایک کتاب’’غریب القرآن‘‘ کے نام سے بھی لکھی تھی، نیز فقہ میں ایک علیحدہ مسلک اختیار کرلیا تھا۔

ابو بکر محمد بن الحسن بن یعقوبؒ

آپ’’ابن مقسم‘‘ کے نام سے مشہور تھے، قرآنی علوم سے واقفیت تھی مگر ان کی یہ عادت تھی کہ غیر مشہور قرأتوں میں تلاوت کیا کرتے تھے۔ فتنہ کے خوف سے سلطان بغداد نے ان کو اس عمل سے روک دیا تھا،قرآن حکیم کی ایک تفسیر بنام’’کتاب الانوار فی تفسیر القرآن ‘ ‘ لکھی ہے جس کا قلمی نسخہ کتب خانہ مدرسہ عالیہ رامپور (بھارت) میں موجود تھا، مفسر کی وفات ۳۵۱؁ھ کو ہوئی۔

 ف)…خلیفہ چلپی نے سال وفات ۳۴۱؁ھ لکھا ہے۔واللہ اعلم

محمد بن الحسن بن محمد المقریؒ

آپ نقاش کے لقب سے مشہور تھے ،۲۶۶؁ھ کو موصل میں پیدا ہوئے۔ حصول علم کے لئے کوفہ، بصرہ، مکہ مکرمہ، مصر، شام، خراسان اور ماوراء النہر تک سفر کیا اور کامیاب رہے، بغداد کو اپنا مستقربنا کر اشاعت علوم میں مشغول رہے۔ آپ کے درس سے امام دار قطنیؒ،مجاہدؒ اور ابن الفحامؒ جیسے جلیل القدر علماء پیداہوئے، بغداد کے جلیل القدر قراء اور مفسرین میں آپ کا شمار تھا مگر تحقیق میں خودرائے بھی تھے چنانچہ قرآن عزیزکی جو تفسیرلکھی ہے اس کا نام انہوں نے تو’’شفاء الصدور‘‘ رکھا جو کہ چھٹی صدی ہجری تک متداول رہی، خلیفہ چلپی نے ان کی ایک کتاب ’ ’ کتاب الاشارۃ فی غریب القرآن‘‘کا بھی ذکرکیا ہے مگر ان پر تنقید کرتے ہوئے’’ابن خلکان‘‘نے ’’برقانی‘‘ کا قول نقل کیا ہے کہ ’’لیس فی تفسیرہ حدیث صحیح‘‘ اور ’’لالکائی ‘  مفسر نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ اس کا نام ’’اشفاء الصدور‘‘ہونا چاہئے یعنی وہ تفسیر جس سے دلوںکا چین جاتا رہے’’ دار قطنی‘‘ نے ’’کتاب التصحیف‘‘ میں یہ نقل کیا ہے کہ نقاش نے ایک مرتبہ انوشیروان کو ابو شیرواں پڑھا ، ۲ شوال المکرم ۳۵۱؁ھ کو فوت ہوئے۔

ابو عبداللہ محمد بن حبان بن احمد البُستیؒ

غور کے علاقہ میں بستی نام کے ایک قصبہ میں ولادت ہوئی ،علم حدیث اور تفسیر میں کامل رسوخ حاصل تھا چنانچہ حدیث میں کتاب ’’التقاسم والا نواع‘‘ لکھی جو سات جلدوں میں ہے اور قرآن عزیز کی ایک تفسیر بھی لکھی جو طبع ہوچکی ہے اور اس کا یک قلمی نسخہ مدینہ منورہ کے کتب خانہ محمودیہ میں ہے۔ بُستی نے ۴۵۳؁ھ کو وفات پائی۔

احمد بن محمد بن سعید الحیریؒ

نیشاپور کے جلیل القدر علماء میں سے تھے۔ ابو عمرو الخفاف اور عبداللہ بن شیرویہؒ آپ کے اساتذہ میں سے ہیں، عظیم محدث امام حاکم جیسے علماء آپ کے شاگردوں میں سے ہیں، کچھ زمانہ بغداد میں بھی قیام فرمایا، اپنے ہاتھ سے احادیث کی کتابت فرمایا کرتے تھے۔صحیح مسلم کی شرح ’’الصحیح المخرج‘‘ مرتب کی اور قرآن کریم کی ایک بہت بڑی تفسیر لکھی۔ طرطوس میں ۳۵۳؁ھ کو شہید کردیئے گئے۔

شیخ امام ابو نصر منصور بن سعیدؒ

آپ جلیل القدر عالم تھے،’’ابو علی‘‘ حاکم وقت نے آپ سے قرآن کریم کی تفسیر لکھنے کی درخواست کی چنانچہ آپ نے ’’تاج المعانی‘‘ کے نام سے ایک تفسیر مرتب فرمائی جس میں جملہ تفاسیر مروجہ کا انتخاب ہے یہ تفسیر ۳۵۳؁ھ کو لکھی گئی، مفسر کا سال وفات نامعلوم ہے۔

محمد بن القاسمؒ

ابو اسحق کنیت تھی اور اسی کے ساتھ شہرت پائی، سلسلہ نسب حضرت عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ تک پہنچا ہے۔ مالکی علماء میں ابن قرطبی کے نام سے متعارف ہیں، اپنے زمانہ میں مصر کے مفتی اعظم تھے، آپ نے’’احکام القرآن‘‘ کے نام سے ایک تفسیر لکھی ،۳۵۵؁ھ کو فوت ہوئے۔

محمد بن علی بن اسماعیل القفال الشاشیؒ

شاش قصبہ میں ۲۹۱؁ھ کو ولادت ہوئی اسی سے شاشی کہلائے۔ صاحب مسند ابن خزیمہ اور محدث عبداللہ سے علوم حاصل کئے۔ تفسیر، حدیث، کلام لغت اور ادب میں کافی مہارت حاصل تھی، مستدرک کے مصنف امام حاکم نے کہا ہے کہ’’قفال علاقہ ماوراء النہر میںشوافع کے امام تھے‘‘اس وقت اسلامی جنگوں میں حصہ لیا جب مسلمانوں نے رومیوں پر یلغار کی اور رومی بادشاہ تقفور نے مسلمانوں کی مذمت میں ایک قصیدہ لکھوا کر بھیجا تو اس کا جواب قصیدہ کی شکل میں ’’قفال‘‘ نے لکھ کر بھیجا(یہ قصیدہ امام سبکیؒ کی کتاب طبقات کبریٰ جلد دوم میں موجود ہے) شاشی نے دلائل النبوۃ کے نام سے معجزات پر ایک کتاب لکھی ہے اور قرآن عزیز کی ایک تفسیر بھی لکھی ہے جو کہ’’تفسیر قفال‘‘ کے نام سے مشہور ہے، قفال کی وفات ۳۵۶؁ھ کو ہوئی۔

ف)…ابو سہل صعلوکی نے اس تفسیرپر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے اعتزال کی بو آتی ہے، امام فخر الدین رازیؒ نے اگرچہ تفسیر ’’قفال‘‘ سے استفادہ کیا مگر ساتھ ہی یہ بھی فرمایا ہے کہ قفال نے بجائے اہل سنت کے مسلک کی تائید کے اعتزال کی زیادہ تائید کی ہے۔( تفسیر کبیر:ج ۲ ص ۴۶۹)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online