Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 667

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 667)

اور جب بدکار( یا فرمایا: کافر)دفن کیا جاتا ہے تو قبر اس ے کہتی ہے کہ تیرآنا نامبارک ہے، میری پشت پر جتنے لوگ چلتے تھے تو ان میں مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور مبغوض تھا، آج جبکہ تو میرے حوالے کیا گیا ہے اور میرے پاس پہنچا ہے تو تو دیکھ لے گا کہ میں تجھ سے کیا برا سلوک کرتی ہوں! پس قبر اس پر مل جاتی ہے یہاں تک کہ اس کو اس قدر بھینچ دیتی ہے کہ اِدھر کی ہڈیاں اُدھر نکل جاتی ہیں( اس کو سمجھانے کے لئے) آنحضرتﷺ نے ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسری میں ڈالیں اور اس پر ستر زہریلے سانپ مسلط کردئیے جاتے ہیں( یہ سانپ اس قدر زہریلے ہیں کہ) اگر ان میں سے ایک زمین میں پھونک مارے تو رہتی دنیا تک زمین پر کوئی سبزہ نہ اُگے، پس وہ سانپ اسے ہمیشہ نوچتے اور کاٹتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ اسے قیامت کے دِن حساب کے لئے پیش کیا جائے گا۔

 حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا:قبر یا تو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔‘‘

تشریح :اس حدیث پاک میں آنحضرتﷺ نے ہنسنے پر نکیر فرمائی ،کیونکہ ہنسنا اکثر و بیشتر غفلت سے ہوتا ہے اس لئے لذتوں کو توڑنے والی ہولناک چیز یعنی موت کو کثرت سے یاد کرنے کا حکم فرمایا کہ یہ مرض غفلت کا تریاق ہے۔

اس کے بعد آنحضرتﷺ نے قبر اور برزخ کے احوال بیان فرمائے ہیں ، قبر کا عذاب و ثواب برحق ہے اور اس سلسلے کی احادیث معنی ًمتواتر ہیں، اس لئے قبر کے ثواب و عذاب کا عقیدہ اہل حق کے عقائد میں شامل ہے ۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ آنحضرتﷺ ،صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی کیسی دقیق تربیت فرماتے تھے۔

آنحضرتﷺ کے دولت خانے کی کیفیت

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں( بالاخانے میں) داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپﷺ چٹائی سے بنی ہوئی چار پائی پر تکیہ لگائے ہوئے ہیں، پس میں نے چٹائی کے نشانات آپﷺ کے پہلو مبارک میں دیکھے۔ اور حدیث میں طویل قصہ ہے۔

تشریح :یہ طویل قصہ ہے جس کی طرف حضرت امام ترمذیؒ نے اشارہ فرمایا ہے، ایلاء کا مشہور واقعہ ہے جو صحاحِ ستہ میں مذکور ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ ایک بار آنحضرتﷺ نے امہات المومنین رضی اللہ عنہن سے ایک مہینے تک الگ رہنے کی قسم کھالی تھی، لوگوں میں یہ بات مشہور ہوگئی( غالباً منافقوں نے بے پرکی اڑائی ہوگی) کہ آپﷺ نے ازواجِ مطہرات کو طلاق دے دی ہے۔ ان دنوں آپﷺ کا قیام ایک بالا خانے میں تھا، حضرت عمررضی اللہ عنہ اس کی تحقیق کے لئے آنحضرتﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور طلاق کادریافت کیا، آپﷺ نے نفی میں جواب دیا۔ صحیح بخاری شریف میں حضرت عمررضی اللہ عنہ سے مروی ہے:

’’پس میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ آپﷺ کھجور کے تنکوں سے بنی ہوئی چارپائی پر لیٹے ہوئے ہیں، چارپائی پر بچھونا بھی نہیں جس سے آپﷺ کے پہلوئے مبارک پر نشان پڑگئے ہیں، سرہانے چمڑے کا ایک تکیہ ہے جس میں کھجور کی چھال بھری ہوئی ہے، میں نے سلام کیا اور کھڑے کھڑے عرض کیا:یا رسول اللہ! کیا آپ نے اپنی ازواجِ مطہرات کو طلاق دے دی ہے؟آپﷺ نے نظرمبارک میری طرف اٹھاتے ہوئے فرمایا :نہیں! میں نے ( اس پر خوشی کے مارے) نعرئہ تکبیر بلند کیا۔‘‘(صحیح بخاری: ج۲ ص۷۸۱)

حضرت عمررضی اللہ عنہفرماتے ہیں کہ میں نے آنحضرتﷺ کے دولت خانے کا جائزہ لیا تو دیکھا کہ ایک طرف دباغت کے لئے چند کھالیں لٹکی ہوئی ہیں، ایک کونے میں ایک صاع کے قریب جو رکھے ہیں اور ایک طرف کھالوں کی دباغت کا کچھ سامان( قرظ) پڑا ہے، یہ اس گھر کی کل کائنات تھی ،یہ دیکھ کر مجھ پر بے اختیاررقت طاری ہوگئی، آنحضرتﷺ نے رونے کا سبب دریافت فرمایا، میں نے عرض کیا:آپ اللہ کے رسول اور اس کے برگزیدہ ہیں، آپ کا یہ حال ہے کہ پہلوئے مبارک پرچٹائی کے نشانات ہیں اور آپﷺ کے خزانے کی کل کائنات یہ ہے جو میں دیکھ رہا ہوں، ادھر قیصر و کسریٰ خدا کے دشمن ہونے کے باوجود عیش و راحت میں ہیں، دعا فرمائیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی امت کو رزق کی وسعت و فراخی عطاء فرمائیں، حضرت عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آنحضرتﷺ تکیہ لگائے استراحت فرمارہے تھے ، میرا یہ معروضہ سن کر اُٹھ بیٹھے اور خشم ناک لہجے میں فرمایا:

خطاب کے بیٹے! کیا تم بھی اسی خیال میں گرفتار ہو؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کی اچھی چیزیں دنیا ہی میں دے دی گئی ہیں، کیا تم اس پرر اضی نہیں کہ ان کو دنیا مل جائے اور ہمیں آخرت ملے؟میں نے عرض کیا:یا رسول اللہ! میرے لئے استغفار فرمائیے!‘‘(صحیح بخاری :ج۲ ص ۷۳۰، ۷۸۲)

اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ زُہد( دنیا سے بے رغبتی) میں آنحضرتﷺ کا مقام کس قدر بلند تھا اور آپﷺ کی نظر میں دنیا کی حقیقت کیا تھی؟

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online