Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 667

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 667)

ایرانیوں( پارسیوں ) کا اپنا بیان ہے کہ جب سکندر مقدونی نے اصطخر پر حملہ کیا تو اس نے شہر کو آگ لگادی اور اس میں زردست کا مقدس صحیفہ’’اوستا‘‘ جل کر راکھ ہوگیا، گویا بیت المقدس پر حملہ کے وقت جو معاملہ بخت نصر نے یہود کی مقدس کتاب تو راۃ کے ساتھ کیا وہی سکندر نے اوستا کے ساتھ کیا اور اس طرح دونوں مذاہب کے مقدس صحیفے دنیا سے مفقود ہوگئے۔

 پھر تقریباً پانچ سو سال کے بعد ایران کے تیسرے تاریخی عہد میں ساسانی حکومت کے بانی ارد شہر بابکانی نے ازسرنواوستا کو مرتب کرایا پس ظاہر ہے کہ اب یہ صحیفہ اصل اوستا نہیں ہے بلکہ قدیم ایرانی مذہب، یونانی مذہب اور زردشتی مذہب کا ایک معجون مرکب ہے بلکہ اس کے نمایاں عقائد واعمال بیشتر قدیم مجوسیت ہی سے ماخوذ نظر آتے ہیں، تاہم اس صحیفہ کا جو ناقص اور منحرف حصہ آج پارسیوں کے ہاتھ میں ہے اس میں اصل مذہب کی جھلک اب بھی کہیں کہیں نظر آتی ہے جس کے بعض حو الہ جات ہم اصحاب الرس کے واقعہ میں نقل کرچکے ہیں۔

 مسلمانوں نے جب خیر القرون میں ایران کو فتح کیا تو ان کو ان ہی پیروانِ زردشت سے واسطہ پڑا جو صحیح دین زردشتی چھوڑ کر قدیم مجوسی مذہب پر واپس ہوچکے تھے اور ان میں ایک نبی اور اس کی کتاب کے تصور کے علاوہ کوئی بات زردشتی مذہب کی باقی نہیں رہی تھی اور اسی بنا پر قرآن نے بھی ان کو مجوس ہی کہہ کر ذکر کیا ہے اس لیے متقدم عرب مؤرخین نے سمجھ لیا کہ مجوسی مذہب اور زردشتی مذہب ایک ہی حقیقت کے دونام ہیں اس کے باوجود بعض متقدم محقق اور اصحاب سیرۃ اس قدرپتہ دے سکے ہیں کہ ایران میں دو مذاہب نے یکے بعد دیگرے اپنا اثر قائم کیا ہے۔ ایران اول صابی مذہب رکھتا تھا اور اس کے بعد اس نے زردشتی مذہب قبول کر لیا۔ لغت عرب میں صابی کے معنی بددین کے ہیں چنانچہ قریش مکہ اسی بناء پر اپنے خیال میں مسلمانوں کو صابی کہا کرتے تھے اس لیے صابی سے ان حضرات کی مراد غالباً اسی مذہب قدیم سے ہے جو آتش پرستی، بت پرستی اور دیوتا پرستی پر قائم تھا۔

 متأخرین علماء میں سے شاہ عبدالقادر نور اللہ مرقدہ بھی تردد کے ساتھ’’المجوس‘‘ کی تفسیر میں ارشاد فرماتے ہیں: ’’ مجوس آگ پوجتے ہیں اور ایک نبی کا نام بھی لیتے ہیں معلوم نہیں پیچھے بگڑے یاسر ے سے غلط ہیں‘‘ مگرآج عرب اور یورپ کے محققین اہل تاریخ بغیر کسی تردد کے دلائل و براہین کی روشنی میں اس حقیقت کااعلان کرتے ہیں کہ زردشت کا مذہب ایران کے قدیم مذہب سے جدا دین تھا جس میں مظاہر پر ستی، اصنام پرستی، آتش پر ستی سب ممنوع تھی اور خدائے واحد کی پرستش کے سوا کسی کی پر ستش جائز نہیں تھی۔

چنانچہ مصر کے مشہور عالم فرج اللہ زکی نے اس قول کی پرزورتردید کی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ زردشت نے اول یر میاہ علیہ السلام کی شاگردی کی مگرجب کسی بات پر یرمیاہ نبی اس سے خفا ہوگئے تو وہ ان سے جدا ہوگیا اور آتش پرستی کا ایک نیا مذہب ایجاد کرلیا۔ ابن کثیر نے بھی اس قول کو قیل کہہ کر نقل کیا ہے یعنی وہ بھی اس کو قابل اعتماد نہیں سمجھتے ۔

 ذوالقرنین اور قرآن عزیز

ذوالقرنین کی شخصیت کے بارے میں اگرچہ دواہم مباحث یعنی’’ ذوالقرنین سے متعلق توراۃ کی پیشین گوئیاں اور تاریخی شہادتیں‘‘سپرد قلم ہوچکیں لیکن ابھی ایک اہم مسئلہ یہ باقی ہے کہ کیا وہ شخصیت جس کے لیے توراۃ اور تاریخ سے روایات و شہادات پیش کی گئی ہیں درحقیقت قرآن میں مذکور ذوالقرنین ہی کی شخصیت ہے تو اس کے جواب سے قبل قرآن عزیز کی ان آیات کو پیش کردینا ضروری ہے جو سورئہ کہف میں اس واقعہ سے متعلق بیان کی گئی ہیں تاکہ بعد میں تطبیق کا مسئلہ بخوبی واضح ہو سکے۔

قرآن عزیز( سورئہ کہف) میں ذوالقرنین کا واقعہ اس طرح مذکور ہے:

اے پیغمبر! تم سے ذوالقرنین کا حال دریافت کرتے ہیں تم کہہ دو میں اس کا کچھ حال تمہیں( کلام الہٰی میں) پڑھ کر سنا دیتا ہوں ہم نے اسے زمین میں حکمرانی دی تھی نیز اس کے لئے ہر طرح کا سازوسامان مہیا کردیا تھا۔ تو (دیکھو) اس نے (پہلے) ایک مہم کے لیے سازو سامان کیا( اور پچھم کی طرف نکل کھڑا ہوا) یہاں تک کہ (چلتے چلتے) سورج کے ڈوبنے کی جگہ پہنچ گیا وہاں اسے سورج ایسا دکھائی دیا جیسے ایک سیاہ دلدل کی جھیل میں ڈوب جاتا ہے اور اس کے قریب ایک گروہ کو بھی آباد پایا ہم نے کہا اے ذوالقرنین( اب یہ لوگ تیرے اختیار میں ہیں) تو چاہے انہیں عذاب میں ڈالے چاہے اچھا سلوک کرے اپنا بنالے۔ ذوالقرنین نے کہا’’ہم نا انصافی کرنے والے نہیں جو سرکشی کرے گا اسے ضرور سزادیں گے پھر اسے اپنے پروردگار کی طرف لوٹنا ہے وہ( بداعمالوں کو) سخت عذاب میں مبتلا کرے گا اور جو ایمان لائے گا اور اچھے کام کرے گا تو اس کے بدلے اسے بھلائی ملے گی اور ہم اسے ایسی باتوں کا حکم دیں گے جس میں اس کے لئے راحت و آسانی ہو‘‘ اس کے بعد اس نے پھر تیاری کی اور (پورب) کی طرف نکلا یہاں تک کہ سورج نکلنے کی آخری حد تک پہنچ گیا اس نے دیکھا سورج ایک گروہ پر نکلتا ہے جس سے ہم نے کوئی آڑ نہیں رکھی ہے…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online