Bismillah

668

۷تا۱۳ربیع الاول۱۴۴۰ھ  بمطابق       ۱۶تا۲۲نومبر۲۰۱۸ء

الفقہ 667

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 667)

لیکن علامہ مطرزی کی وضاحت سے معلوم ہوتا ہے کہ تداعی کا تعداد سے تعلق نہیں بلکہ دعوت سے تعلق ہے، یعنی لوگوں کو تہجد کی جماعت میں شرکت کی دعوت دی جائے یہ مکروہ ہے:’’التداعی ھو ان یدعو ابعضھم بعضا‘‘(الدرالمختار علی ہامش الرد المحتار:ج۲ص۵۰۰) اس طرح اگر اعلان عام اور دعوت کے بغیر ازخود کچھ لوگ جمع ہوجائیں اور تہجد کی نماز جماعت سے ادا کرلیں، تو اس میں حرج نہیں، یہی اس کو تاہِ علم کی رائے ہے ۔واللہ اعلم

پہلی صف افضل ہے یا امام سے قریبی جگہ؟

س:صف اول کا ثواب زیادہ ہے، اگر مسجد بہت وسیع ہو اور امام کی آواز نہ پہنچ سکتی ہو، تو صف اول کو ترجیح دی جائے یا صف دوم میں امام سے قربت سے حاصل کی جائے؟

ج:حدیث میں صفِ اول کی فضیلت آئی ہے اور صف اول میں امام سے متصل پوری لائن شامل ہے، خواہ وہ نسبتاً امام سے دور ہی کیوں نہ ہو، اس لیے صفِ دوم میں وہ فضیلت حاصل نہیں ہو سکتی، رہ گئی امام کی آواز جہاں پہنچتی ہو وہاں نماز پڑھنے کی فضیلت ، تو اگر دوری کی وجہ سے آواز نہیں پہنچ پاتی تو ایک تو اسے عبادت میں سبقت حاصل ہوا اور دوسرے آوازنہ پہنچنے کی وجہ سے یکسوئی اور دلجمعی حاصل کرنے میں مشقت بھی اُٹھائی اور عبادت میں شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے جس قدر مشقت ہوگی اسی قدر اجر میں اضافہ ہوگا۔ اس لیے بہر حال صفِ اول کی فضیلت زیادہ ہے۔

گھر میں جماعت

س:زید کے پاس حافظ صاحب کے قیام و طعام کا انتظام تھا، سردی کی وجہ سے زید اور اس کے گھر کے افراد نیز حافظ صاحب رمضان میں سحر کھانے کے بعداذان ہوتے ہی فجر کی جماعت اداکرکے فوری سوجاتے ہیں، یہ عمل ختم رمضان تک جاری رہا، کیا ایسا کرنا درست ہے؟

ج:اگر کوئی شخص بیماری وغیرہ کی وجہ سے گھر میں اہل خانہ کے ساتھ جماعت کرلیاکرے یا کبھی اتفاقاً اس طرح جماعت کرلی جائے اور مسجد میں دوسرے لوگ جماعت کرلیںتو اس کی گنجائش ہے کیونکہ جماعت واجب یا سنت مؤکدہ ہے اور مسجد میں جماعت کا اہتمام واجب کفایہ ہے، تو اس کے گھر میں نماز پڑھنے کی وجہ سے مسجد کی جماعت معطل نہ ہوجائے تو اسے مسجد میں نماز پڑھنے کا ثواب تو حاصل نہ ہوگا، لیکن جماعت کاثواب حاصل ہوگا۔

’’لوصلی فی بیتہ بزوجتہ اوو لدہ فقد اتی بفضیلۃ الجماعۃ‘‘(جمع الانہر:ج۱ص۱۰۶)

لیکن اس کی عادت بنالینا مکروہ ہے، بلکہ علامہ حلوانیؒ نے اسے بدعت قرار دیا ہے:

’’ویکون بدعۃ ومکروھا بلا عذر‘‘(فتح القدیر:ج۱ص۳۰۰)

اس لئے ان حضرات کا مسلسل ایک ماہ اس کو معمول بنالینا مناسب نہیں تھا، آئندہ اس سے احتیاط کرنی چاہئے۔

دوسری جماعت کا حکم

 بعض احباب جماعت اولیٰ کے چھوٹ جانے پر اسی مسجد میں جماعت ثانیہ کرکے نماز پڑھتے ہیں اور دوسرے احباب کو بھی دعوت دیتے ہیں، اس کے شرعی جواز سے آگاہ فرمائیں؟

ج:اصولی طورپر ایک ہی مسجد میں دوبارہ جماعت کرنا مکروہ ہے، کیونکہ اگر باربار جماعت کی جائے تو جماعت کا اہتمام ہی فوت ہوئے گا۔ مقصودیہ ہے کہ جماعت میں لوگوں کی تعداد زیادہ سے زیادہ ہو اور تکرار جماعت سے جماعت مختصر ہونے کا اندیشہ ہے، چنانچہ حضرت حسنؒ سے مروی ہے کہ اگر صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت چھوٹ جاتی تو مسجد میں تنہا تنہا نماز ادا کر لیتے۔(رد المحتار : ج۲ص۶۴)

جماعت ثانیہ کے سلسلہ میں فقہاء نے تفصیل اسی طرح لکھی ہے:

الف)ایسی مسجد جس میں کوئی امام یا مؤذن مقرر نہ ہو، جیسا کہ ویران، غیر آباد مقامات میں ہوا کرتا ہے تو وہاں اذان و اقامت کے ساتھ بھی مکررجماعت کی جا سکتی ہے، علامہ شامیؒ لکھتے ہیں:

’’مالیس لہ امام ومؤذن رأت فلا یکرہ التکرار فیہ باذان واقامۃ‘‘(رد المحتار:ج۲ص۶۴)

اگر مقررہ امام و مؤذن ہو تو اذان واقامت کے ساتھ دوسری نماز مکروہ ہے۔

 ب)اگر دوسری جماعت میں تین سے زیادہ افراد نہ ہوں تب بھی مکروہ نہیں، یہ امام ابو حنیفہؒسے منقول ہے:

’’لوکانت الجماعۃ الثانیۃ اکثر من ثلاثۃ یکرہ التکرار والا فلا‘‘(کبیری:۵۷۰)

ج)امام ابو حنیفہؒ کے سب سے ممتاز شاگرد قاضی ابو یوسفؒ سے مروی ہے کہ

’’اگر دوسری جماعت کی ہیئت پہلی جماعت سے مختلف ہو تواس صورت میں بھی بغیراذان و اقامت کے دوسری جماعت کی جا سکتی ہے، ہیئت کے مختلف ہونے کے لئے یہ بات کافی ہے کہ پہلی جماعت مسجد کے جس حصہ میں ہوئی ہے اس حصہ سے ہٹ کر دوسری جماعت کی جائے، اسی پر فقہاء نے فتویٰ دیا ہے۔‘‘(کبیری:۵۷۱،رد المحتار:ج ۲ ص۶۴)

بہرحال اہل محلہ کو بار بار جماعت سے بچنا چاہئے، ورنہ جماعت کی اہمیت لوگوں کے دل سے رخصت ہوجائے گی اور لوگ سستی اور کسل مندی میں مبتلا ہوجائیں گے،اتفاقاً دوسری جماعت کرنے میں مضائقہ نہیں، اسی طرح مسافروں کے لئے بھی جماعت ثانیہ کی گنجائش ہے۔

 صفیں کس طرح سیدھی کی جائیں؟

س:نماز میں جو صفیں برابر کی جاتی ہیں، وہ کس لحاظ سے برابر کی جائیں گی یعنی پنجوں کے لحاظ سے یا ایڑیوں کے لحاظ سے؟

ج:چونکہ پائوں انسان کے قدو قامت کے لحاظ سے بڑے چھوٹے ہو سکتے ہیں، اس لئے اگر پنجوں یا ایڑیوں کے لحاظ سے صف درست کی جائے تو لوگ آگے پیچھے ہوجائیں گے، اس لئے صفیں پنڈلیوں اور ٹخنوں کے لحاظ سے سیدھی کرنی چاہئیں…

’’وان تفاوتت الا قدام صغرا وکبرا فالعبرۃ بالساق والکعب‘‘ (البحرالرائق:ج۱ص۶۱۷)

بچوں کی صف

س کیا نابالغ بچوں کو صف سے ہٹا دیناچاہئے ،کیا اس سے بڑوں کی نماز نہیں ہوتی ہے؟

ج:رسول اللہﷺ نے صفوںکی ترتیب اس طرح مقرر فرمائی ہے کہ بڑے آگے رہیں اور بچوں کی صف پیچھے ہو(سنن ابی داؤد) فقہاء نے بھی اس طریقے کو مسنون لکھا ہے(کبیری:ص۴۸۵) لیکن اگر ازدحام زیادہ ہو اور بچوں کی صف پیچھے لگانے میں ان کے گم ہوجانے کا یا بھٹک جانے کا اندیشہ ہو یاا تنے بے شعور بچے ہوں کہ اگر ان کی الگ صف بنائی جائے، تو وہ شور کریں گے اور دوسروں کی نمازمیں خلل ہوگا، تو ایسی صورت میں فقہاء نے اجازت دی ہے کہ بچوں کو صف میں ساتھ رکھ لیا جائے۔(تقریرات رافعی علی حاشیۃابن عابدین الشامی:ج۲ص۷۳)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online