Bismillah

677

۱۱ تا۱۷جمادی الاولیٰ۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۸تا۲۴جنوری۲۰۱۹ء

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 676

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 676)

یہاں سے وہ پھر اپنی پہلی سمت کومڑ جاتا ہے حتی کہ ساتویں اقلیم کے نویں حصہ میں ہوجاتاہے اوریہاں پہنچ کر جنوب سے شمام مغرب کوہوتا ہواگیا ہے اور اسی سلسلۂ کوہ کے درمیان’’سد سکندری ‘‘ ہیجس کی اطلاع قرآن نے بھی دی ہے اورعبداللہ بن خردادبہ نے اپنی جغرافیہ کی کتاب میں واثق باللہ( خلیفہ عباسی) کا وہ خواب نقل کیا ہے جس میں اس نے یہ دیکھا تھا کہ سدکھل گئی ہے چنانچہ وہ گھبراکر اُٹھا اور دریافت حال کے لیے’’سلام ترجمان‘‘ کو روانہ کیا اور اس نے واپس آکر اسی سد کے حالات واوصاف بیان کیے۔

اور ساتویں اقلیم کے دسویں حصہ میں ماجوج کی بستیاں ہیں جو مسلسل آخر تک چلی گئی ہیں یہ حصہ بحر محیط کے ساحل پر واقع ہے جو اس کے مشرقی شمالی حصہ کو اس طرح گھیرے ہوئے ہے کہ شمال میں تو طول میں چلاگیا ہے اوربعض مشرقی حصہ میں گیا ہے۔

ابن خلدون نے یاجوج وماجوج اور سد کے متعلق اسی طرح اقلیم رابع، اقلیم خامس اور اقلیم سابع کی بحث میں بھی ضمناً بیان کیا ہے بلکہ اقلیم رابع میں یہ بھی تصریح ہے:

اقلیم رابع کے جزء عاشرکا ایک حصہ بحر محیط کے اوپر واقع ہے اوریہ جبل یاجوج وماجوج ہے اوریاجوج و ماجوج تمام قبائل ترک ہیں۔

گذشتہ بحث میں یہ بھی کہاگیا تھا کہ منگول یا کا کیشیا کے یہ قبائل جب تک اپنے مرکز میں رہتے ہیں یاجوج و ماجوج کہلاتے ہیں اور جب وہاں سے نکل کر کہیں بس جاتے اور صدیوں بعد متمدن ہوجاتے ہیں تو پھر وہ اس نام کوبھلادیتے ہیں اوردوسرے بھی ان کو اس وحشیانہ امتیاز سے یاد نہیں کرتے کیونکہ پھریہ اپنے مرکز سے اس قدر اجنبی ہوجاتے ہیں کہ مرکز کے وحشی قبائل ان کو بھی اپنا حریف بنالیتے اور ان پر غارت گری کرتے رہتے ہیں اوریہ بھی اپنے ہی ہم نسل مرکزی وحشی قبائل سے اسی طرح خوف کھانے لگتے ہیں جس طرح دوسرے قبائل،چنانچہ اس مسئلہ کی تائید حافظ عمادالدین ابن کثیر کی اس عبارت سے بھی ہوتی ہے تحریر فرماتے ہیں:

 سدین سے مراد وہ دوپہاڑ ہیں جو ایک دوسرے کے مقابل ہیں اور ان کے درمیان شگاف ہے۔ اسی شگاف سے یاجوج وماجوج ترکوںکے شہروں پر آپڑتے اور ان میں فساد مچادیتے اور کھیتوں اورنسلوں کوہلاک اور برباد کرڈالتے تھے۔

 یعنی یاجوج وماجوج بھی اگرچہ منگولی( تاتاری) ہیں مگر پہاڑوں کے درے سے جو تا تاری قبائل اپنے مرکز سے ہٹ کر آباد ہوگئے تھے اور متمدبن گئے تھے ہم نسل ہونے کے باوجود دونوں میں اس قدر تفاوت ہوگیا کہ ایک دوسرے سے نا آشنا بلکہ حریف بن گئے اورایک ظالم کہلائے اور دوسرے مظلوم اور ان ہی قبائل نے ذوالقرنین سے سد بنانے کی فرمائش کی۔

اوربعض عرب مؤرخین نے تو ترک کی وجہ تسمیہ ہی یہ بیان کردی کہ یہ وہ قبائل ہیں جو یاجوج وماجوج کے ہم نسل ہونے کے باوجود سد سے ورے آباد تھے اور اس لئے جب ذو القرنین نے سد قائم کی اور ان کو اس میں شامل نہیں کیا تو اس چھوڑ دئیے جانے کی وجہ سے ترک کہلائے۔( البدایہ و النہایہ جلد ۲)

یہ وجہ تسمیہ اگرچہ ایک لطیفہ ہے تاہم اس امر کا ثبوت ضروربہم پہنچاتی ہے کہ متمدن قبائل تمدن و حضارت کے بعد اپنے ہم نسل سے اجنبی ہوجاتے تھے اور وہ یا جوج وماجوج نہیں کہلاتے تھے اور لفظ یاجوج وماجوج ان ہی قبائل کے لیے مخصوص ہوگئے ہیں جواپنے مرکز میں سابق کی طرح ہنوز وحشت و بربریت اور درندگی کے ساتھ وابستہ ہیں۔

سد

یاجوج وماجوج کے اس تعین کے بعد دوسرامسئلہ’’سد‘‘ کاسامنے آتا ہے یعنی وہ’’سد‘‘ کس جگہ واقع ہے جو ذوالقرنین نے یاجوج وماجوج کے فتنہ و فسادکوروکنے کے لئے بنائی اور جس کا ذکر قرآن عزیز میں بھی کیاگیا ہے۔

تعیین سد سے پہلے یہ حقیقت پیش نظر رہنی چاہیے کہ یاجوج وماجوج کی تاخت و تاراج اور شروفسادکا دائرہ اس قدر وسیع تھا کہ ایک طرف کا کیشیا کے نیچے بسنے والے ان کے ظلم وستم سے نالاں تھے تو دوسری جانب تبت اورچین کے باشندے بھی ان کی شمالی دستبرد سے محفوظ نہ تھے، اس لیے صرف ایک ہی غرض کے لیے یعنی قبائل یاجوج وماجوج کے شروفساد اورلوٹ مارسے بچنے کے لیے مختلف تاریخی زمانوں میں متعدد’’سد‘‘ تعمیر کی گئیں۔

ان میں سے ایک ’’سد‘‘ وہ ہے جودیوار چین کے نام سے مشہور ہے یہ دیوار تقریباً ایک ہزار میل طویل ہے اس دیوارکو منگولی اتکودہ کہتے ہیں اورترکی میں اس کانام بوقورقہ ہے۔

دوسری سدو سط ایشیا میںبخارا اور ترمذ کے قریب واقع ہے اور اس کے محل و قوع کا نام دربندہے، یہ سد مشہورمغل بادشاہ تیمورلنگ کے زمانہ میں موجود تھی اورشاہ روم کے ندیم خاص سیلا برجر جرمنی نے بھی اس کا ذکر اپنی کتاب میں کیا ہے اور اندلس کے بادشاہ کسٹیل کے قاصد کلامچونے بھی اپنے سفر نامہ میں کیا ہے،یہ ۱۴۰۳؁ء میں اپنے بادشاہ کا سفیر ہوکر جب تیمورصاحب قراں کی خدمت میں حاضر ہواہے تو اس جگہ سے گذرا ہے وہ لکھتاہے کہ باب الحدید کی سد موصل کے اس راستے پر ہے جو سمر قند اور ہندوستان کے درمیان واقع ہے۔ ( جواہر القرآن جلد ۹ص ۱۹۸)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online