Bismillah

686

۱۴تا۲۰رجب المرجب۱۴۴۰ھ  بمطابق ۲۲تا۲۸مارچ۲۰۱۹ء

الفقہ 676

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 676)

کاروباری شخص کی امامت

س:ہمارے محلے کی جامع مسجد کے امام صاحب کاروبار بھی کرتے ہیںاور امامت بھی کرتے ہیں،کاروباری امام کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یانہیں؟قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب دیں۔

کیا کمیشن پر کاروبار کرنے والے شخص کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے؟

ج:امام ایسے شخص کو بنانا چاہئے جو علم و فضل، ورع وتقویٰ میںسب سے بہتر ہو، جائز تجارت اور حلال طریقے سے کمیشن پر کاروبار کرنا اس کے منافی نہیں ہے، خلیفۂ ثالث حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو علم و فضل، ورع وتقویٰ میں جو مقام حاصل تھا وہ محتاج اظہارنہیں،ان کا بھی بہت بڑا کاروبار تھا، اسی وجہ سے انہیں اغنیاء صحابہؓ میںشمار کیا جاتا ہے۔

ذریعۂ معاش کاروبارکوبنانا شریعت کی نگاہ میںمحمود ہے، خود قرآن میں اس کی صراحت ہے کہ’’جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں چلو،پھر واور اللہ کا فضل( روزی) تلاش کرو‘‘(الجمعہ)

رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : سچے،امانت دار تاجر، انبیاء ، صدیقین اورشہداء کے ساتھ ہوں گے(الجامع للترمذی)لہٰذا امام کا جائز تجارت اور حلال طریقے سے کمیشن پر کاروبار کرنا درست ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔

امام مقتدیوں سے اونچی جگہ پر

س:مسجد میں امام صاحب کے کھڑے ہونے کی جگہ پہلی صف کی جگہ سے ایک فٹ یا اس سے کچھ زائد اونچائی پر ہے، اتنی اونچائی پر کھڑے ہو کر امامت درست ہے یا نہیں؟

ج:رسول اللہﷺنے اس بات سے منع فرمایا ہے کہ لوگ نیچے ہوں اور امام اوپر(سنن ابی داؤد) اس لئے فقہاء نے اس بات سے منع کیاہے کہ امام تنہا مقتدیوں کی نماز کی جگہ سے ایک ہاتھ یا اس سے زیادہ اونچائی پر نماز ادا کرے، اگر اس سے کم اونچائی ہو یا امام کے ساتھ ساتھ مقتدیوں کی بھی کم سے کم ایک صف امام کے ساتھ اونچی جگہ پر کھڑی ہوتو کچھ حرج نہیں، تنہاامام کا اتنی اونچائی پر کھڑا ہونا مکروہ تنز یہی ہے، البتہ جمعہ، عیدین یا کسی خاص موقعہ پر ازدہام کی وجہ سے ایساکرنا پڑے تو کوئی مضائقہ نہیں(الدرالمختار و رد المحتار:ج۱ ص ۴۳۴) لہٰذا اگر ایک فٹ یا اس سے زیادہ اونچائی ہو لیکن ایک ہاتھ سے کم ہو تو کچھ حرج نہیں۔

 امام اور مقتدیوں میں جالی کا فاصلہ

س:ہماری قدیم مسجد اور جدید تعمیر شدہ حصہ کے درمیان لوہے کی جالی لگی ہوئی ہے، کبھی کبھی امام صاحب قدیم مسجد میں کھڑے ہوکر امامت کرتے ہیںاور پہلی صف جالی سے باہرتعمیر شدہ جدید حصہ میں ہوتی ہے، کیااس صورت میں نماز صحیح ہوجاتی ہے یاامام کو جالی سے باہر جدید تعمیر شدہ حصہ میں کھڑے ہو کر نماز ادا کرنی چاہئے؟

ج:اقتداء کے درست ہونے کے لئے یہ ضروری ہے کہ امام اور مقتدی کے درمیان شارع عام یاکوئی ایسی نہر جس میں کشتی چل سکتی ہو، فاصل نہ ہو (فتاویٰ ہندیہ:ج۱ص۸۷) اور مقتدیوں کو امام کی نقل و حرکت معلوم ہوتی رہے، آپ نے جو صورت ذکر کی ہے اس میں امام اور مقتدیوں کے درمیان محض ایک جالی کا فصل ہے اور جالی نہ امام کی آواز سننے میں رکاوٹ بنتی ہے اور نہ اس کی نقل و حرکت دیکھنے میں، اس لئے امام صاحب جالی کے اندر ہوں اور مقتدی باہر کے حصے میں، یہ صورت جائز و درست ہے کوئی حرج نہیں،بشرطیکہ نئے اور پرانے حصہ کی سطح کے درمیان ایک ہاتھ اونچ نیچ کا فاصلہ نہ ہو ،اگر اتنافرق ہوتو جیسا کہ اس سے پہلے سوال کے جواب میں مذکور ہوا کراہت تنز یہی ہے۔

 نمازیوں کی ناپسندیدگی کے باوجودامامت

س:ایک مسجد میں امام صاحب جو مسجد کے صدربھی ہیں، کافی عرصہ سے امامت کررہے ہیں بہت سے مصلی ان سے ناراض ہیں، ان کی قراء ت ،الفاظ کی ادائیگی اورتلفظ صحیح نہیں ہے،نہ دوسرے امام کا تقرر کرتے ہیں اور نہ خود اپنا نائب مقرر کرتے ہیں۔

ج:اگر مقتدی حضرات ان کی کم علمی اور قراء ت وغیرہ میں دسترس نہ ہونے کی وجہ سے ان کی اقتداء کوپسند نہیں کرتے، تو امام صاحب کو اس کا لحاظ کرناچاہئے اور امامت سے دستبردار ہو کر بہ حیثیتِ صدر کسی عالم یا کم سے کم مجود حافظ کو امام مقرر کردینا چاہئے، ایسی صورت میں ان شاء اللہ انہیں اجر و ثواب حاصل ہوگا، مقتدی کی کسی معقول وجہ کی بناء پر کراہت و ناپسندیدگی کے باوجود امامت پر مصر رہنا مذموم بات ہے، چنانچہ رسول اللہﷺ نے تین اشخاص پر لعنت فرمائی ہے، ان میں ایک وہ شخص ہے جو ایسے لوگوں کی امامت کرے کہ لوگ اس کی اقتداء میں نماز پڑھتے ہوئے کراہت محسوس کرتے ہوں،’’رجل ام قوما وھم لہ کارھون‘‘ (الجامع للترمذی مع تحفۃ الأحوذی: ج۲ص۲۸۹)

اہل علم اورمعمر حضرات کی موجودگی میں نوجوان حافظ کی امامت

س:وقتی امامت کے لئے کیا ایک نوجوان حافظِ قرآن قابلِ ترجیح ہے ایک ایسے مصلی پر جہاں اہل علم اور معمر حضرات موجود ہوں؟

ج:جو شخص احکام نماز سے زیادہ واقف ہو، وہ حافظ سے زیادہ امامت کااہل ہے:

’’والاحق بالامامۃ تقد یمابل نصبا الا علم با حکام الصلاۃ’’(ردالمحتار:ج۲ص۴۹۲)

نیز اگر دو شخص امامت کے اہل ہوں، تو جو عمر کے اعتبار سے بڑا ہو وہ امامت کازیادہ حق دار ہے،’’ثم الاسن‘‘ (حوالہ سابق)

ڈاڑھی منڈائے ہوئے شخص کی امامت

س:ایک صاحب نہ داڑھی رکھتے ہیں اور نہ مونچھیں، نیز شرٹ،پینٹ پہنتے ہیں اور امامت بھی کرتے ہیں، کیاایسے شخص کانماز پڑھاناجائز ہے؟ اور جو لوگ ان کی اقتداء میں نماز ادا کریں، کیاان کی نماز درست ہوجائے گی؟

ج:نماز تو ہر مسلمان کے پیچھے ہوجاتی ہے’’ نبی کریم ﷺنے فرمایا:الصلوٰۃ المکتوبۃ واجبۃ خلف کل مسلم براکان أو فاجراوان عمل الکبائر‘‘سنن ابی داؤدنیز دیکھئے الفتاویٰ الہندیہ:ج۱ص۸۴) البتہ مسئلہ یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کوامامت کرنی چاہئے؟رسول اللہﷺ نے بتاکید داڑھی رکھنے کا حکم فرمایا ہے (صحیح بخاری)لہٰذا داڑھی منڈانا فاسق ہونے کی علامت ہے اور فاسق کے پیچھے گو نماز درست ہوجاتی ہے لیکن اس کی امامت مکروہ تحریمی ہے،چونکہ نماز کی امامت ایک بڑی امانت ہے اور فاسق اسے اٹھانے کے لائق نہیں، ’’لان الامامۃ امانۃ عظیمۃ فلایتحملھا الفاسق‘‘(بدائع الصنائع:ج۱ص۳۸۶) اگر کوئی شخص ان صاحب سے زیادہ بہتر موجود ہو تو انہیں خود اس سے احتیاط کرنی چاہئے کہ دوسرے کی نماز کابوجھ اس مسلسل فسق و گناہ کے ساتھ اپنے سر اٹھائیں اور داڑھی نہ رکھ کر اپنے آپ کے منصبِ امامت سے محروم ہونے سے یقینا یہ بات بہتر ہے کہ ایک مسلمان داڑھی رکھ کر اپنے آپ کو منصبِ امامت کا اہل بنالے کہ اس میں اس کی دنیا کی بھی بھلائی ہے اور آخرت کی بھی اور یہی اہل ایمان کی شان ہے۔

نابینا کی اقتداء

س:(الف) مستقل امام (جو حافظ و عالم دین ہیں) کی موجودگی میں کیا ایک نابینا شخص کوجو حافظ اور دینی مدرسہ میں استاذ ہیں اورمستقل امام صاحب کے بھی استاذ ہیں ،فرض نماز کی امامت کے لئے آگے بڑھایاجا سکتا ہے؟

(ب)منع کرنے کے باوجود اگر نابینا حافظ صاحب کوامامت کے لئے آگے بڑھایا جائے تو کیا ہم ان کی اتباع میں فرض نماز ادا کر سکتے ہیں؟یا علاحدہ نماز پڑھنا بہتر ہے؟

(ج)نابینا شخص کے امام ہونے کی وجہ سے میں نے علاحدہ نماز ادا کی ، تو میری نمازہوگئی یانہیں؟

ج(الف) اگر وہ نابیناحافظ پاکی وغیرہ کے سلسلہ میں احتیاط کرتے ہوں اور ان کوامام بنانے پر مقتدیوں کو اعتراض نہیں ہو، توانہیں امامت کے لئے آگے بڑھانا درست ہے، نابیناکے امام بننے میں فی نفسہٖ کوئی حرج نہیں، رسول اللہﷺ نے حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کواپنے بعض اسفارکے موقع پر مدینہ کا گورنربنایاہے،ایسے مواقع پر وہ لوگوں کی امامت کرتے تھے(سنن ابی داؤد)حضرت عتبان بن مالک  رضی اللہ عنہ نابینا تھے اور اپنے محلہ کی مسجد میں وہی امامت فرمایاکرتے تھے،بخاری میں کئی مواقع پر اس کا ذکرموجود ہے(باب المساجد فی البیوت،باب الرخصۃ فی المطر والعلۃ،باب الرخصۃ فی التخلف عن الجماعۃ بعذر وغیرذلک)فقہاء نے نابینا کی امامت کو دوصورتوں میں مکروہ قرار دیا ہے: ایک یہ کہ وہ پاکی ناپاکی کے مسئلہ میں احتیاط نہ کرتاہو، دوسرے اس کے نابیناہونے کی وجہ سے لوگ اس کی اقتداء میں کراہت محسوس کرتے ہوں(البحر الرائق:ج۱ص۳۴۸)اگر یہ باتیں نہ ہوںتو نابیناکی امامت میں کچھ حرج نہیں۔

ب) اگر لوگ ان نابیناصاحب کی امامت کو پسند نہیں کرتے ہوں توانہیں آگے بڑھانے سے گریز کرناچاہئے، لیکن اگر بڑھا ہی دیا جائے تو ان کے پیچھے نماز پڑھ لینی چاہئے ،مقتدیوں کی نمازادا ہوجائے گی۔

ج) محض امام کے نابیناہونے کی وجہ  سے آپ کا علاحدہ نماز ادا کرنا قطعاًدرست نہیںاور غلط عمل ہے، رسول اللہﷺ نے توفاسق و فاجر کے پیچھے بھی نماز اداکرلینے کی اجازت دی ہے تاکہ امت کی اجتماعیت باقی رہے(سنن ابی داؤد) اور صحابہ ؓ نے حجاج بن یوسف جیسے ظالم کے پیچھے بھی نماز ادا کی ہے، امام کانابیناہونا توظاہر ہے کہ اس سے بہت ہی کمتربات ہے کیونکہ بینا اورنابیناہونااپنے اختیارمیںنہیں ۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online