Bismillah

681

۹تا۱۵ جمادی الثانی۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۵تا۲۱ فروری۲۰۱۹ء

تذکرۃ المفسرین (حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ) 680

تذکرۃ المفسرین

از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ (شمارہ 680)

الشخ نورالدین ابو الحسن علی بن الحسین بن علی باقولیؒ

علم نحو میں اپنے وقت کے امام مانے گئے، اسی وجہ سے آپ کا عرف ’’الجامع النحوی‘‘ تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ قرآن حکیم کی تفسیر اور قرأ ت سبعہ پر بھی علمی حیثیت رکھتے تھے، اسی موضوع پر ایک کتاب لکھی جس کا نام’’کشف فی نکت المعانی والاعراب وعلل القرأت المرویۃ عن الائمۃ السبعۃ‘‘ہے، آپ کی وفات ۵۴۶؁ھ کو ہوئی۔

ابو الفتح محمد بن عبدالکریم شہر ستانیؒ

 خوارزم کے شہر شہر ستان میں ۴۶۹؁ھ کو ولادت ہوئی ، اس وقت کے مشہور علماء کرام احمد اغوانی، ابو نصر قشیری ، ابو القاسم انصاری، ابو الحسن علی بن احمد بن محمد المدینی سے علم حاصل کیا، زیادہ وقت خوارزم ہی میں مقیم رہے، سلطان سنجر سلجوقی کے ہاں بڑے مقرب تھے، فرق اسلامیہ پر ان کی جامع کتاب’’ کتاب الفصل‘‘ مشہور و معروف ہے، قرآن عزیز کی تفسیر بھی لکھی ہے، حسب نقل’’تاریخ ادبیات ایران‘‘ اس تفسیر کا نام’’مفاتح الاسرار و مصابیح الابرار‘‘ ہے، شہر ستانی کی وفات ۵۴۷؁ھ کو ہوئی، بعض تاریخ وفات ۵۴۹؁ھ بتاتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب

ف)… اس تفسیر کا ایک ناقص قلمی نسخہ ایران میں ہے جو کہ ۶۲۷؁ھ کا مکتوبہ ہے،کاتب کا نام محمد بن محمد ہے اور اس تفسیر کے صرف ۳۹ صفحات ہیں اور ایک نسخہ کتب خانہ مجلس شوریٰ ملی ایران میں ہے جو کہ ۶۶۷؁ھ میں محمد بن محمد زانجی نے ابراہیم بن محمد کے لئے لکھا تھا اور یہ نسخہ ۴۶۸ صفحات پر مشتمل ہے اور تہران کے اس نسخے کے پہلے صفحے کی پشت پر مندرجہ ذیل عبارت تحریر ہے:’’ اتفقت بدایۃ ھذا لمصنف فی شھورثمان وثلاثین وخمسمأۃ‘‘ اور اس کتاب کے آخر میں یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس کی تکمیل محرم ۵۴۰؁ھ میں ہوئی۔ اس جلد میں صرف سورۃ الفاتحہ اور سورۃ البقرہ کی تفسیر ہے۔ اس سے ثابت ہوا کہ یہ نسخہ مصنف کے زمانہ میں لکھا گیا تھا۔

 ف(۲)…علماء مصر نے شہر ستانی کے متعلق لکھا ہے کہ وہ فرقہ اسماعیلیہ سے تعلق رکھتا تھا، چنانچہ جب اس کو علی بن بیہقیؒ نے تفسیر بالماثور کرنے کا مشورہ دیا تو وہ غضبناک ہوگیا۔

امام امین الدین ابو علی الفضل بن  الحسن طبریؒ

مشہد کے ان مشہور علماء میں سے تھے جن کوتفسیر قرآنی کے ساتھ خاص شغف تھا، چنانچہ قرآن عزیز کی ایک تفسیر بہ نام’’مجمع البیان ‘‘ مرتب کی۔ دولت صفویہ کے دور میں جب عبداللہ خاں نے حملہ کیا تو۵۴۸ ؁ میں ’’طبری‘‘ بھی مارے گئے ، آپ کامزارمشہد میں ہے، تفسیر طبع ہوچکی ہے۔

ف)…’’مجمع البیان‘‘ تو عربی میں ہے مگر اس کاترجمہ فارسی زبان میں محمد بن احمد خواجگی شیرازی نے کیاہے۔

ابو نصر احمد بن الحسن بن احمد بن سلیمان درواجکی یا دروازقی

جوکہ’’زاہدی‘‘ کے نام سے مشہور تھے، اس دور کی علمی دنیا میں آپ کی کافی شہرت تھی۔ قرآن عزیز کی ایک تفسیر فارسی زبان میں بہ نام’’زاہدی‘‘ مرتب کی،اس تفسیر کا بخارا اور اس کے قرب و جوار میں کافی چرچا تھا، حتی کہ بقول ڈاکٹر علامہ سید سلیمان ندویؒ ’’ہندوستان کے قرون وسطیٰ میں امام زاہدیؒ کی تفسیر کے ترجمہ نے سب سے زیادہ ہر دلعز یزی حاصل کی اس کے قلمی نسخے اب بھی ملتے ہیں‘‘ (مقدمہ ترجمۃ القرآن حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ)

آپ ہی کے جانشین تلمیذ رشید’’مولانا ابو الحسن علی ندوی‘‘ نے احقر مرتب کے نام ایک مکتوب میں فرمایا:

’’استاد حیدر حسن خاں صاحب کے پاس اس تفسیر کا قلمی نسخہ موجود تھا‘‘

اس تفسیر کے حوالے اکثر تفاسیر مثلاً’’بحرمواج دولت آبادی، شرح القرآن فارسی از خواجہ معین الدین کشمیری، تفسیرات احمد یہ ازملاجیون رحمۃ اللہ علیہم اجمعین ‘‘ میں درج ہیں۔

آٹھویں صدی ہجری کے ولی باعمل حضرت شیخ شرف الدین احمدیحییٰ منیری رحمۃ اللہ علیہ نے اس تفسیر کومعتبر سمجھا اور یہ ارشاد فرمایا کہ:

’’دین میں جن باتوں کی ضرورت ہے وہ سب کچھ اس میں موجود ہے اس میں افراط اور تفریط سے کام نہیں لیا گیا‘‘ (مقدمہ ترجمہ مکتوبات صدی ص ۲۳)

زاہدی نے ۵۴۹؁ھ کو وفات پائی۔

ف(۱)…اسی تفسیر زاہدی کا کامل مخطوطہ مکتوبہ ۱۱۲۵؁ھ دوجلدوں میں اور ئینٹل لائبریری بانکی پور (بھارت) میں موجود ہے۔( فہرست مرتبہ مولوی عبدالمقتدرص ۱۸۰)

ف(۲)…تفسیر زاہدی پاکستان میں مندرجہ ذیل مقامات پر جزوی طور پر موجود ہے:

۱)ادارہ تحقیقات پاکستان دانش گاہ لاہور، تفسیر زاہدی جلد اول ودوم نمبر ۶۲۲۱ بار چہار مہر ازسعدالدین محمدیہ سال ۱۷۵۰؁ء ۱۱۶۴؁ھ جس کے سرورق پر یہ لکھا ہوا ہے کہ:

’’ناقص الآخر و کمی کرم خوردہ‘‘

۲)جناب مولوی محمد شفیع صاحب مرحوم کے ذاتی کتب خانہ میں ۳۴ اوراق محفوظ ہیں، ابتداء از من بقلھا وقثائھا سے ہے۔

۳)اس تفسیرکا نصف اول اسلامیہ کا لج پشاور کی لائبریری میں قلمی موجود ہے جس کے ٹائٹل پر مندرجہ ذیل عبارت ہے:

’’حق تعالیٰ شفیق عبداللطیف راجزاء خیر نصیب کندایں تفسیرگرفتہ شد ازویر محمود ویر محمود لاغرض انداز ملک عبداللطیف است ۹ شوال ۱۲۰۷؁ھ نوشتہ ایم ایں حروف مالک ایں کتاب بالاستحقاق فقیر غلام محمد است‘‘

کتاب کا خطبہ کسی شاگرد نے یوں تحریر کیا ہے:

’’قال الشیخ الامام الاجل الزاھد المجاھد سیف الملۃ والدین مقتدی الاسلام والمسلمین ناصر السنۃ قاطع الملحدین ابونصراحمد بن الحسن بن احمد الدرسی السلیمانی الدرو اجکی البخاری تغمد اللّٰہ بغفرانہ واسکنہ بحموحۃ جنانہ فی تفسیرکلام اللّٰہ تعالیٰ واملیٰ ببخاری یوم التسع سنۃ تسع عشر خمسماۃ‘‘ (۵۱۹ھ)

اس مخطوطہ کے کل صفحات ۱۵۰۶ ہیں۔

 ۲۶) محمد بن عبدالحمید بن الحسن بن  الحسین بن حمزۃؒ

سمرقند میں ۴۰۸؁ھ کوپیدا ہوئے اور اس دورکے جلیل القدر علماء علی بن عثمان الخراط وغیرہ سے اکتساب فیض کیا، امام غزالیؒ سے کئی مناظرے کئے، آپ کی مرتبہ تعلیقات کئی جلدوں میں ہیں، آخر عمر میں رجوع الی اللہ زیادہ ہوگیا تھا ، ساری زندگی قرآن عزیز کی تفسیر کی تدریس میں گذاری اور ایک تفسیر بھی لکھی، ۵۵۲؁ھ کو انتقال ہوا۔

 ابو عبداللہ الحسین بن محمد بن الحسین المروزیؒ

بنجدیہ کے محلہ’’زاغول‘‘میں ولادت ہوئی اسی نسبت سے زاغولی مشہور ہوئے۔ علم لغت، ادب، فقہ پر کئی کتابیں لکھیں جن کی تعداد علامہ ذہبیؒ نے چار سو سے زائد لکھی ہے، قرآن عزیز کی ایک تفسیر بھی لکھی، ۵۵۹؁ھ کو وفات پائی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online