Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 680

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 680)

ایک مسلمان کی شان تو یہ ہونی چاہئے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کا غم خوار ہو، ہمدرد ہو، اس کو خدانخواستہ کسی تکلیف یا مصیبت میں دیکھے تو پریشان ہوجائے اور اس کے ازالے کی ہر ممکن کوشش کرے اور کچھ نہیں کرسکتاتو اخلاص و دِلسوزی کے ساتھ دعاء سے تو دریغ نہ کرے، آنحضرتﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

’’المومنون کرجل واحد ان اشتکی عینہ اشتکی کلہ، وان اشتکی راسہ اشتکی کلہ‘‘

اہلِ ایمان کی مثال ایک آدمی کے وجود کی ہے کہ اگر اس کی آنکھ میں تکلیف ہو تو پورے وجود میں تکلیف ہوتی ہے اور اگر سر میں تکلیف ہو تو پورے وجود میں تکلیف ہوتی ہے۔‘‘( رواہ مسلم عن نعمان بن بشیر مشکوٰۃ :ص ۴۲۲)

دوسری حدیث میں ہے::تم اہل ایمان کو دیکھتے ہو کہ وہ باہمی رحمت اور محبت وشفقت میں جسدِ واحد کی طرح ہیں کہ جس کے ایک عضو میں تکلیف ہوتی ہے تو جسم کے باقی اعضاء بھی بے خوابی اور بخار میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔‘‘(مشکوٰۃ)

اس کے برعکس کسی مسلمان کو مبتلائے مصیبت دیکھ کر خوش ہونا، یہ کسی مسلمان کی شان نہیں بلکہ یہ منافقین کا شیوہ تھا کہ وہ مسلمانوں کی خوشی سے رنجیدہ ہوتے اور حس کی وجہ سے جل بھن جاتے اور مسلمانوں کی تکلیف سے خوش ہوتے، چنانچہ قرآن مجید میں ہے:

ان تمسسکم حسنۃ تسؤہم وان تصبکم سیئۃ یفرحوابہا(آل عمران)

ترجمہ:’’اگر تم کوکوئی اچھی حالت پیش آتی ہے تو ان( منافقوں) کے لئے موجبِ رنج ہوتی ہے اور اگر تم کو کوئی ناگوار حالت پیش آتی ہے تو اس سے خوش ہوتے ہیں۔‘‘

کسی کی نقل اُتارنا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:میں پسند نہیں کرتا کہ میں کسی کی نقل اُتاروں ،خواہ مجھے اتنا اتنا خزانہ بھی مل جائے۔‘‘

تشریح:کسی کی نقل اُتارنا عموماً اس کی تحقیریا اس کے کسی عیب کے اظہار کے لئے ہوتاہے اور کسی مسلمان کی تحقیر اور اس کی عیب جوئی کابرا ہونا واضح ہے، اس لئے آنحضرتﷺ کو کسی کی نقل اُتارنے سے نفرت تھی۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے روایت ہے کہ میں نے نبی کریمﷺ کے سامنے کسی آدمی کی نقل اُتاری تو آپﷺ نے فرمایا :مجھے اس سے خوشی نہیں ہوگی کہ میں کسی کی نقل اُتاروں خواہ مجھے اتنا اتنا خزانہ مل جائے۔

 حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے ایک بار عرض کیا:یا رسول اللہ! صفیہ تو اتنی سی عورت ہے، ہاتھ کے اشارے سے ان کا پستہ ہونا ظاہر کیا۔ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا:تو نے ایسی بات ملادی کہ اگر وہ سمندر کے پانی میں ملادی جائے تو وہ بھی متغیر ہوجائے۔‘‘

 تشریح:بسااوقات آدمی بے خیالی میں کسی کی نقل اُتارتا ہے اور س کا احساس بھی نہیں ہوتا کہ وہ کوئی ناجائز یا نامناسب کام کررہا ہے، اس حدیث میں اس کی اصلاح فرمائی گئی ہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ہاتھ کے اشارے سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کاپستہ قد ہونا ظاہر کیا، ان کے خیال میں یہ کوئی نامناسب فعل نہیں تھا کیونکہ بظاہر ایک واقعے کا اظہار تھا،لیکن چونکہ اس سے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاکی تحقیر لازم آتی تھی،اس لئے آنحضرتﷺ نے اس کی قباحت وشناعت بیان فرمائی۔

’’یحییٰ بن و ثابؒ آنحضرتﷺ کے صحابہؓ میں سے ایک بزرگ سے روایت کرتے ہیں( راوی کہتے ہیں کہ) میرا خیال ہے کہ وہ آنحضرتﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا: جو مسلمان لوگوں سے ملتا ہو اور ان کی ایذاء پر صبر کرتاہو وہ بہتر ہے اس مسلمان سے جو لوگوں سے نہ ملتا ہو اور نہ ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہو۔

ابنِ عدی ؒ کہتے ہیں کہ شعبہؒکی رائے یہ تھی کہ یحییٰ بن وثابؒ نے جس بزرگ صحابی سے روایت کی ہے اس سے مراد حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہماہیں۔‘‘

تشریح:سنن ابنِ ماجہ میں روایت مندرجہ ذیل الفاظ میں مروی ہے:

یحییٰ بن وثاب ؒ ابن ِ عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جو مومن لوگوں سے ملتا ہو اور ان کی ایذاء پر صبر کرتاہو وہ اجر وثواب میں بڑھ کر ہے اس مومن سے جو لوگوں سے نہ ملتا ہواور نہ ان کی ایذاء پر صبر کرتا ہو۔‘‘

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جوشخص امر بالمعروف اورنہی عن المنکر کر سکتا ہو اور اس ضمن میں پیش آنے والی تکالیف کو صبر اور حوصلے سے برداشت کر سکتا ہو، اس کے لئے گوشہ نشینی کے بجائے لوگوں سے مل جل کررہنا بہتر ہے۔

 ’’حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرتﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں کہ آپﷺ نے فرمایا :آپس میں جھگڑے اورفساد سے احتراز کرو، کیونکہ یہ چیزمونڈنے والی ہے۔‘‘

تشریح:آپس کے جھگڑے اور فساد سے مراد جیسا کہ امام ترمذیؒ نے فرمایا ہے،آپس کابغض وعناد اور باہمی کدورت و عداوت ہے، جب دو مسلمانوں کے درمیان بغض وعداوت کازہر پھیل جاتاہے تو اس سے بیسیوں گناہ جنم لیتے ہیں، ایک دوسرے کی غیبت کی جاتی ہے، آپس کے عیب تلاش کئے جاتے ہیں، ایک دوسرے پر تہمت تراشی اور بہتان بازی تک سے پرہیز نہیں کیا جاتا،ان میں سے ہر ایک دوسرے کو نیچادکھانے کی کوشش کرتاہے، اس سے حسد اور شماتت پیدا ہوتی ہے، الغرض آپس کا معاملہ بگڑنے کی دیر ہے کہ ایک دوسرے کی عزت و آبرو سے کھیلنے کو حلال سمجھ لیاجاتا ہے اور بعض اوقات نوبت مارپٹائی اورقتل و خونریزی تک پہنچ جاتی ہے۔ اس لئے آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ:آپس کا فساد دِ ین کو مونڈنے اور صاف کرنے والا ہے، کیونکہ باہمی بغض و عداوت کی حالت میں دین کے حدود کو محفوظ نہیں رکھا جا سکتا، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ اس سے دینداری غارت ہوکر رہ جاتی ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor