Bismillah

689

۶تا۱۲شعبان المعظم۱۴۴۰ھ  بمطابق ۱۲تا۱۸۱اپریل۲۰۱۹ء

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 680

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 680)

اس کے بعد دوسرا نمبر دربند (بحرقزوین) کی دیوار( سد) کوزیر بحث لانے کا ہے اس کے متعلق یہ تو معلوم ہو چکا کہ اس کو عرب باب الابواب اور الباب کہتے ہیں اور اہل فارس دربند اور وہ آہنی نام رکھتے ہیں اور اس میںشک نہیں کہ بڑی کثرت سے مؤرخین اس دربند کی دیوار( سد)کو ’’سد سکندری‘‘کہتے چلے آئے ہیں مگر محققین یہ بھی کہتے چلے آئے ہیں کہ بانی کا صحیح حال معلوم نہیں ہے ، البتہ اس کو سد سکندری بھی کہہ دیتے ہیں اور کا کیشین دال( کاکیشیا کی دیوار) اور دیوار نوشیرواں بھی۔

لیکن ہم اس بحث کو مؤخر کرتے ہوئے کہ اس کے متعلق یہ اضطراب بیانی کیوں ہے اس سد کوسد ذوالقرنین جب ہی مان سکتے ہیں کہ یہ قرآن عزیز کے بیان کردہ ہر دو صفات کے مطابق پوری اُترے۔ مگر افسوس کہ ایسا نہیں ہے اس لیے کہ اس دیوار کے عرض و طول اور اس کے حجم کی تفصیلات دیتے ہوئے تمام مؤرخین یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اس دیوار کا بھی بڑا حصہ سطح زمین پرتعمیر کیا گیا ہے اور آگے بڑھ کر پہاڑ پر بھی بنایا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی مانتے ہیں کہ اگر چہ دیوار بعض جگہ دوہری بھی ہے اور اس میں متعدد لوہے کے پھاٹک بھی ہیں جن میں سے بعض بعض پہاڑوں کے درمیان قائم ہیں اور پہاڑوں پر اس کے استحکامات بھی بہت ہیں تاہم یہ دیوار لوہے کے ٹکڑوں اور تانبے سے نہیں بنائی گئی بلکہ عام دیواروں کی طرح پتھر اور چونہ ہی سے بنائی گئی ہے، پس اس کابانی کوئی شخص بھی ہو اس دیوار کو سد ذوالقرنین کہنا کسی طرح صحیح نہیں ہے، اب اس کو ’’ سد سکندری‘‘ کہنا سو ہمیں اس سے انکار کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی اگر تاریخی حقائق اس دعویٰ کا ساتھ دیتے مگر حیرت اور تعجب کی بات یہ ہے کہ یہی مؤرخین جب سکندر مقدونی کا ذکر کرتے اور اس کی وسعت فتوحات کوزیر بحث لاتے ہیں تو ان میں سے کوئی ایک بھی یہ نہیں کہتا کہ سکندر اعظم کا کیشیا تک پہنچا ہے اور بقول مولانا ابو الکلام:

لیکن جب سکندر کے تمام فوجی اعمال خود اس کے عہد میں اور خود اس کے ساتھیوں نے قلمبند کردئیے ہیں اور ان میں کہیں بھی کا کیشیا کے استحکامات کی تعمیر کا اشارہ نہیں ملتا تو پھر کیونکر ممکن ہے کہ اس طرح کی توجیہات قابل اطمینان تسلیم کرلی جائیں۔( ترجمان القرآن جلد۲ ص ۴۲۸)

یہ کیسے کہاجا سکتا ہے کہ سکندر اعظم کی جانب یہ انتساب صحیح ہے۔

امریکہ کے ایک مشہور جغرافیہ داں(CRAM) نے اپنے جغرافیہ کریمس یونیورسل اٹلس میں سکندر اعظم کی سلطنت ۳۸۱۔۳۳۱ ق م کا جو مکمل نقشہ تیار کیاہے اس میں بھی کاکیشیا کا علاقہ اس کی فتوحات سے سینکڑوںمیل دور نظر آتا ہے۔

 بہرحال اکثر مؤرخین تو اس کا بانی نوشیرواں کو بتاتے ہیں اور جو زیفس سکندر کو اس کا بانی قرار دیتا ہے مگر بیان کردہ تاریخی حقائق کے پیش نظرنہ تو نوشیرواں کی نسبت صحیح ہے اور نہ اسکندراعظم کی اور اگر ان دونوں میں سے کسی کی نسبت کوبالفرض صحیح بھی مان لیاجائے تب بھی اس کو سد ذوالقرنین کہنا حقائق قرآنی سے آنکھیں بند کرلینا ہوگا، پس دربند( حصار ہو یا دربند( بحر خزر) دونوں کی ’’سد‘‘ سد ذوالقرنین نہیں ہے۔

 تیسری قابل ذکر وہ سد ہے جو دربند( قزوین) یا کاستین دال کے مغرب جانب میں ایک درہ کو بند کرتی ہے، یہ درہ بند سے مغرب کی جانب کا کیشیا کے اندرونی حصوں میں آگے بڑھتے ہوئے ملتا ہے اور درئہ داریال کے نام سے مشہور ہے اور قفقاز اورتفلس کے درمیان واقع ہے، یہ درہ کاکیشیا کے بہت حصوں سے ہو کر گذرا ہے اور قدرتی طور پر پہاڑ کی دوبلندچوٹیوں سے گھرا ہواہے، اس کو فارسی میں درئہ آہنی اور ترکی میں دامر کیو کہتے ہیں۔

 اس درہ کے متعلق گذشتہ صفحات میں امام رازی کی تفسیر سے اس تشریح کے بعد یہ دوپہاڑ جن کے درمیان سد واقع ہے ’’قفقاز میں ہے‘‘ ہم ابن خرداد کی کتاب المسالک کا یہ حوالہ نقل کر چکے ہیں کہ واثق باللہ نے جب اپنے خواب کی تعبیر کے پیش نظر سد ذوالقرنین کی تحقیق کے لیے تحقیقاتی وفد( ریسرج کمیشن) مقرر کیااور اس نے باب الابواب( دربند) سے آگے چل کر جب اس کا مشاہدہ کیا تو یہ تصریح کی ہے کہ یہ دیوار تمام لوہے اور پگھلے ہوئے تانبے سے بنائی گئی ہے۔ اصل الفاظ ہیں:

ان الواثق باللّٰہ رأی فی المنام کانہ فتح ھذاالروم فبعث بعض الخدم الیہ لیعاینوہ فخرجوامن باب الا بواب حتی وصلوا الیہ و شاھد وہ فوصفوا انہ بناء من لبن من حدید مشدود بالنحاس المذاب وعیلہ باب مقفل (دربندنامہ کاظم بک:ص۲۱)

پس جبکہ آج کے مشاہدے سے بھی یہ ثابت ہے کہ داریال کا یہ درہ پہاڑوں کی دو چوٹیوں کے درمیان گھرا ہوا ہے اورتاریخی حقائق بھی اس کو تسلیم کرتے اور واضح کرتے ہیں، نیزواثق باللہ کے کمیشن نے اپنایہ مشاہدہ بیان کیا ہے کہ یہ دیوار لوہے اور پگھلے تانبے سے تیار کی گئی ہے بلاشبہ یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ یہی دیوار وہ سد ذوالقرنین ہے جس کا ذکر قرآن عزیز نے سورئہ کہف میں کیا ہے، کیونکہ قرآن عزیز کے بتائے ہوئے دونوں وصف صرف اسی دیوار پر منطبق ہوتے ہیں۔ اس لیے وہب، ابو حیان، ابن خرداد، علامہ انورشاہ اور مولانا آزاد جیسے محققین کی یہی رائے ہے کہ سد ذوالقرنین قفقاز کے اسی درہ کی سد کا نام ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online