Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الفقہ 680

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 680)

طلوع آفتاب سے قبل نفل مکروہ ہے یاسنت؟

س:۱۳/اگست بروز جمعہ’’آپ کے شرعی مسائل‘‘ میں آپ نے دو مختلف سوالات کے جوابات رقم کیے ہیں، اس تعلق سے معلومات درکار ہیں:

الف) فریضہ فجر کے بعد سنت نماز کی ادائیگی کے متعلق آپ نے تحریر فرمایا کہ اگر فجر کی سنتیں چھوٹ جائیں تو فجر کی نماز کے ختم ہونے اورمکروہ وقت کے ختم ہونے پر سنت ادا کریں۔

ب)فجر کے بعد سجدئہ تلاوت میں آپ تحریر فرماتے ہیں کہ بعد نماز فجر تاطلوع آفتاب اور بعد نماز عصر تا غروب آفتاب صرف نفل نمازیں مکروہ ہیں، فرض وواجب نمازیں اور سجدئہ تلاوت( جو واجب ہے) کے ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں، پس فجر بعد آیت سجدہ کی تلاوت اور سجدہ کی ادائیگی میں کوئی حرج نہیں، ان دو جوابات سے دوباتیں سامنے آرہی ہیں:

ایک یہ کہ پہلے جواب میں فجر کے فوری بعد جبکہ طلوع آفتاب کا وقت ابھی شروع نہیں ہوا، سنتیں نہیں ادا کرنی چاہئیں۔ دوسرے جواب میں یہ بات سامنے آرہی ہے کہ طلوع آفتاب کا وقت شروع ہونے سے قبل صرف نفل نماز مکروہ ہے، دوسری نمازیںمکروہ نہیں تو پھر سنت فجر کیوں نہیں پڑھی جا سکتی؟

ج:اصل میں نفل کے لفظ سے غلطی فہمی ہوئی ہے، نفل کے معنی زائد کے آتے ہیں، لہٰذا فرض وواجب سے زائد جوبھی اعمال ہوں، خواہ سنت ہوں یا مستحب، ان کو اصطلاح میں نفل کہاجاتا ہے۔ اس لحاظ سے فجر کی سنت مؤکدہ بھی نفل میں داخل ہے، بخلاف سجدہ تلاوت کے کہ وہ واجب ہے ،عوام میں چونکہ مستحب کو نفل کہتے ہیں اور سنن کو نفل نہیں کہتے ، اسی سے غلط فہمی پیدا ہوئی ہے۔

 چار رکعت والی سنت غیر مؤکدہ ادا کرنے کا طریقہ

س:عصر اور عشاء کی سنت غیر مؤکدہ پڑھنے کا کیا طریقہ ہے؟ہمارے ایک عالم صاحب نے کہا کہ دوسری رکعت کے قعدہ میں التحیات ، درود اوردعاء ماثورہ پڑھ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہونا چاہئے اور تیسری رکعت کو ثناء سے شروع کرنا چاہئے۔

 ج:جو سنت نمازیں ایک سلام سے چار رکعت منقول ہیں اور مؤ کدہ ہیں، ان کے ادا کرنے کا وہی طریقہ ہے جو چاررکعت فرض کی ادائیگی کا ہے، البتہ فرض کی آخری دو رکعتوں میں سورئہ فاتحہ پر اکتفا ء کیا جائے گااور سنت میں سورئہ فاتحہ کے علاوہ کوئی اور سورت بھی ملائی جائے گی، قعدئہ اولیٰ میںتشہد پر اکتفاء کیا جائے گا اور تیسری رکعت میں ثناء نہیں پڑھیں گے، لیکن سنت غیر مؤکدہ اور نوافل میں ہردورکعت کی حیثیت مستقل نماز کی ہے، اس لیے زیادہ درست یہ ہے کہ ہر قعدہ میں تشہد کے ساتھ ساتھ درود بھی پڑھے اورہر قعدہ کے بعد اگلی رکعت میں ثناء اور تعوذ بھی پڑھے، علامہ ابن نجیم مصریؒاورعلامہ شامی وغیرہ نے اسی کوترجیح دی ہے۔

’’وفی البواقی من ذوات الاربع یصلی علی النبیﷺ ویستفتح و یتعوذ ولو ندرا لان کل شفع صلاۃ، وقیل:لا ( درمختار) قال فی البحر:وزاد فی المنح ومن ثم عولنا علیہ‘‘ (ردالمحتار:ج۲ص۲۵۷۔۲۵۶)

سنت زوال

سوال:جمعہ کے روز اذان سے قبل لوگ نمازپڑھتے ہیں، یہ کونسی نماز ہے؟

ج:دوپہر میںوقت مکروہ کے ختم ہونے کے بعد سنت زوال کے نام سے ایک نماز حدیث سے ثابت ہے،بعض روایات میں دورکعت اوربعض میں چار کا ذکر ہے، اس لیے سنت زوال اس وقت پڑھی جا سکتی ہے، اس کے علاوہ جمعہ کا وقت شروع ہوجائے تو گو اذان نہ ہوئی ہو، سنت جمعہ بھی ادا کی جا سکتی ہے اور مسجد میں آتے ہی’’تحیۃ المسجد‘‘ بھی پڑھی جاسکتی ہے۔

کیا سنت مؤکدہ نہ پڑھنا باعث  گناہ ہے؟

س:اگر جمعہ کی فرض کے بعد چاررکعت سنتیں نہ پڑھی جائیں توگناہ تو نہیں ہوگا؟

 ج:جمعہ کے بعد کی یہ سنت ’’ سنتِ مؤکدہ‘‘ ہے، اگر کبھی اتفاقاً ضرورت کی وجہ سے نہ پڑھ پائے تو کوئی حرج نہیں، لیکن اس کی عادت بنالے تو اس صورت میں گنہگار ہوگا، گناہ کے بھی درجات ہیں، ظاہر ہے کہ کوئی شخص فرض کو ترک کر دے تو شدید گناہ ہوگا، ترک واجب پر اس سے کم گناہ ہوگا اور سنت ترک کر دی جائے تو اس کاگناہ ترک واجب سے کم ہوگا لیکن بہرحال ترکِ سنت بھی باعث گناہ ہے اور اس سے بھی بچنا چاہئے، چنانچہ علامہ شامیؒنے نمازِ پنچ گانہ سے متعلق سنتوں کے ترک کوباعث گناہ قرار دیتے ہوئے یہی بات لکھی ہے:

’’ولا شک ان الاثم بعضہ اشد من البعض، فالا ثم  لتارک المؤکدۃ اخف منہ لتارک الواجب‘‘ (ردالمحتار:ج۲ص۱۷۰)

سنت غیر مؤکدہ کا حکم

 س:کیا سنت غیر مؤکدہ نمازیں نہ پڑھنے سے کوئی گناہ ہے؟

ج:سنت غیر مؤکدہ پڑھنے پر ثواب ہے اور نہ پڑھنے پر کوئی گناہ نہیں،

’’ سنۃالزوائد وترکھا لا یوجب ذلک ای اساء ۃ‘‘(حوالہ سابق:ج۱ص۲۱۸)

البتہ کون شخص ہے جواجر و ثواب کا محتاج نہ ہو، اس لئے کوشش یہی کرنی چاہئے کہ حسب موقع و حال سنت غیر مؤکدہ بھی پڑھ لیا کریں۔

 فجر کی سنت طلوعِ آفتاب سے پہلے؟

س:اگر ہم کو فجر کی فرض نماز میں قعدئہ اخیرہ ملتا ہے اور سنت پڑھنے کا وقت نہیں ملتا تو کیا ہم فرض نماز ادا کر کے فجر کے وقت میں ہی سنت ادا کر سکتے ہیں؟

ج:رسول اللہﷺ نے نماز فجر کے بعد سے طلوع آفتاب تک کسی نفل نماز کے پڑھنے سے منع فرمایا ہے:’’ لا صلاۃ بعد صلاۃ الفجر حتی تطلع الشمس‘‘(صحیح بخاری) نیز مسند احمد اور ترمذی میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جو شخص فجر کی دوگانہ سنت نہ پڑھ پایا ہو،اسے چاہئے کہ طلوعِ آفتاب کے بعد ان دو رکعتوں کو پڑھ لے:

’’من لم یصل رکعتی الفجر فلیصلھمابعدما تطلع ا لشمس‘‘(الجامع للترمذی)

اوریہ روایت سند کے اعتبار سے بھی صحیح ہے۔(الجامع الصغیروفتح القدیر)اس لئے آپ یہ سنت طلوع آفتاب کے بعد ہی ادا کریں۔

جماعت شروع ہونے کے بعد  فجر کی سنت

س:نماز فجر کی جماعت کھڑی ہوجانے کے بعد سنت کا پڑھنا شرعی نقطۂ نظر سے مناسب ہے یا نہیں؟اور اگر مناسب نہیں ہے تو فرض ادا کرنے کے بعد پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

ج:رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:جب جماعت شروع ہوجائے تو سوائے اس نماز کے کوئی اور نماز نہ پڑھی جائے:’’اذااقیمت الصلاۃ فلا صلاۃ الا المکتوبۃ‘‘(مسلم)

(جاری)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor