Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 689

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 689)

غرض سورئہ کہف کی زیر بحث آیات کا سیاق و سباق یعنی ان سے پہلی اور بعد کی آیات کا ہرگز یہ تقاضا نہیں ہے کہ ذوالقرنین کے مقولہ’’اذا جاء وعدربی جعلہ دکاء‘‘ میں ’’وعد‘‘ سے مرادو عدئہ قیامت لیا جائے اور وہ معنی بیان کئے جائیں جو معترض نے ہماری بیان کردہ سورئہ انبیاء کی تفسیر کے مقابلہ میں پیش کئے ہیں۔

الحاصل جن معاصر مفسرین نے سورئہ انبیاء کی زیر بحث آیات کا مصداق فتنۂ تاتار کوبتایاہے اور اس کی تائید میں بخاری کی مشہور حدیث’’ویل للعرب من شرقد اقترب‘‘ الخ کو پیش کیا ہے ان کی یہ تفسیر غلط اور حدیث سے اس کی تائید قطعاً بے محل ہے، بلکہ بخاری ومسلم کی دوسری صحیح احادیث جو کتاب الفتن میں مذکور ہیں۔ اس تفسیر کے خلاف صاف صاف یہ بیان کرتی ہیں کہ علاماتِ قیامت میں جب آخری علامات رو نما ہوں گی تو پہلے حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا آسمان سے نزول ہوگا اور دجال کا سخت فتنہ برپا ہوگا اور آخر کار حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ہاتھوں وہ مارا جائے گااور پھر کچھ عرصہ کے بعد یا جوج وماجوج کا موعود خروج ہو گا جو تمام دنیا پر شروفساد کی صورت میں چھا جائے گا اور پھر کچھ وقفہ کے بعد نفخ صور ہوگااور یہ کارخانۂ دنیا درہم برہم ہو جائے گا۔( بخاری: کتاب الفتن ج ۲)

یہ بھی واضح رہے کہ یہ اور اسی قسم کی دوسری صحیح اور اصح روایات سے ان تینوں( جھوٹے مدعیانِ نبوت)کے دعووں کا بھی ابطال ہوجاتا ہے اور ان کے کذب صریح کی رسوائی آشکار اہوجاتی ہے جو اپنی نبوت کی صداقت کی تعبیر یہ کہہ کر تیار کرتے ہیںکہ انگریز اور روس یاجوج وماجوج ہیں اور جبکہ ان کا خروج ہوچکا اور وہ عالم کے اکثر حصوں پر قابض ہوچکے تو اب ’’یسوع مسیح‘‘ کی آمد ضروری ہوگئی۔لہٰذا وہ موعود مسیح( عیسیٰ علیہ السلام ) ہم ہیں کیونکہ جب شرط موجود ہے تو مشروط کیوں موجود نہ ہو۔

کسی جھوٹے مدعی نبوت کی دلیل اگر چہ خود تار عنکبوت سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتی اور اس لئے درخور اعتناء بھی نہیں ہے۔ تاہم عوام کوغلط فہمی سے محفوظ رکھنے کے لئے یہ بتادینا ضروری ہے کہ اس مدعی کے بیان کردہ یہ دونوں دعوے جو دلیل کے دو مقدموں کے طور پر بیان کئے گئے ہیں غلط اور نہ ناقابلِ قبول ہیں اور اس لئے ان سے پیدا شدہ نتیجہ بھی بلاشبہ باطل اور مردود ہے۔

 پہلا د عویٰ یا مقدمہ تو اس لئے غلط ہے کہ ہم نے یاجوج وماجوج کی بحث میں تفصیل کے ساتھ حدیث وتاریخ سے یہ ثابت کردیا ہے کہ یاجوج وماجوج کا اطلاق صرف ان ہی قبائل پرہوتارہا ہے جو اپنے اصل مرکز میں بہمہ طریق و حشت وبربریت مقیم ہیں اور ان میں سے جو افراد یا قبائل مرکز چھوڑ کردنیا کے مختلف حصوں میں بس گئے اورآہستہ آہستہ متمدن بن گئے ہیں وہ تاریخ کی نظر میں یاجوج وماجوج نہیں کہلاتے ، بلکہ اپنے بعض امتیازات خصوصی کے پیش نظر نئے نئے ناموں سے موسوم ہوگئے اور اپنے اصلی اور نسلی مرکز سے اس قدر اجنبی ہوگئے ہیں کہ وہ اور یہ دو مستقل جداجدا قومیں بن گئے ہیں اور ایک دوسرے کے دشمن ہوگئے ۔ اسی طرح قرآن اور حدیث کے مطالعہ سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ وہ ان ہی قبائل کو یا جوج وماجوج کہتا ہے جو اپنی بربریت اور وحشت کے ساتھ عام دنیا سے الگ اپنے مرکز میں گوشہ گیر ہیں۔

اور اسی اصول پر دوسرا دعویٰ یا مقدمہ بھی باطل ہے کہ انگریز اور روس بلکہ یورپین حکومتوں کا تسلط اور قبضہ یاجوج وماجوج کا خروج ہے اور یہ اس لئے کہ ایک تو ابھی ذکر ہوچکا کہ متمدان اقوام کو یاجوج وماجوج کہنا ہی غلط ہے۔

 دوسرے اس لئے کہ یاجوج وماجوج کے اس فتنہ و فساد کے پیش نظر جس کا ذکر ذوالقرنین کے واقعہ میں سورئہ کہف میں مذکور ہے اور صحیح احادیث کی تصریحات کے مطابق ان کا وہ خروج بھی جس کا ذکر سورئہ انبیاء میں کیا گیا ہے اور جس کو علامت ِ قیامت میں سے ٹھہرایا ہے ۔ ایسے ہی فساد و شر کے ساتھ ہوگا جس کا تعلق تمدن و حضارت سے دور کا بھی نہ ہو اور جو خالص وحشیانہ طرز و طریقہ پر برپا کیا جائے،کہاں سائنس کی ایجادات و آلات کا طریقۂ جنگ اور کہاں غیر متمدن وحشیانہ جنگ و پیکار؟شتان بینھما

 اور یہ بات اس لئے بھی واضح ہے کہ متمدن اقوام کی جنگ وپیکار کتنی ہی وحشیانہ طرز و طریقہ اختیار کیے ہوئے کیوں نہ ہو، بہرحال سائنس اور حرب و ضرب کے اصول کے مطابق ہوتی ہیں اور یہ سلسلہ اقوام وامم میں ہمیشہ سے جاری ہے۔اس لئے اگر اس قسم کے جابرانہ وقاہرانہ تسلط اور قبضہ کے متعلق قرآن کو پیشین گوئی کرنی تھی تواس کی تعبیر کے لئے ہرگز یہ طریقہ اختیار نہ کیا جاتا جو یاجوج وماجوج کے خروج موعود کے سلسلہ میں سورئہ انبیاء میں اختیار کیا گیا ہے بلکہ ان کی ترقی نمابربریت کی جانب ضروری اشارات یا تصریحات کا ہونالازم تھا۔

 الحاصل احادیث ِ صحیح اور آیاتِ قرآنی کی مطابقت کے ساتھ ساتھ جب مسئلہ زیر بحث پر غور و فکر کیا جاتاہے تو بصراحت یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس علامت سے قبل حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا نزول از آسمان ضروری ہے نہ یہ کہ پہلے یاجوج وماجوج کا خروج ہوگا اور پھر مسیح علیہ السلام کی آمد کا انتظار کیاجائے، چنانچہ صحیح مسلم کی ایک طویل حدیث میں مذکور ہے۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor