Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الفقہ 689

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 689)

نمازِ استخارہ

’’اے اللہ! میں آپ کے علم کے مطابق آپ سے بھلائی کا طلب گار ہوں، آپ کے خزانۂ قدرت کا خواستگار ہوں، آپ سے آپ کی عظیم مہربانی مانگتا ہوں،آپ قادر ہیں، میں قادر نہیں، آپ باخبر ہیں، میں باخبر نہیں، آپ غیب کی باتوں کوبھی جانتے ہیں، اے اللہ! اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ بات میرے لیے دین و دنیا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہے، تو اس کو میرے لیے آسان فرمادیجئے، پھر میرے لئے اس میں برکت دیجئے اور اگر آپ جانتے ہیں کہ یہ چیز میرے لئے دین و دنیا اور انجام کے اعتبار سے بہتر نہیں تو اس کو مجھ سے پھیر دیجئے اور مجھ کو اس سے اور میرے لئے جہاں کہیں بھی بھلائی ہو اس کو میرے لیے مقدر فرمادیجئے، پھر مجھ کو اس پر راضی کردیجئے۔‘‘ (ترمذی)

اس دعاء کے بعد جس چیز کے بارے میں استخارہ کرنا چاہتے ہیں، اس کا ذکر کرے۔ دعاء کے لئے کوئی خاص زبان متعین نہیں، اگر عربی زبان میں دعاء کرنا دشوار ہو تو اس دعا کا مفہوم اردوزبان میں ہی ادا کر سکتے ہیں، استخارہ کے بعد یہ ضروری نہیں کہ خواب کے ذریعہ ہی رہنمائی ہو اور نہ یہ ضروری ہے کہ جو خواب دیکھے وہ استخارہ ہی سے متعلق ہو۔(فتح الباری:ج ۱۱ص ۱۵۸ )استخارہ کرنے کے بعد جس بات پر قلب مطمئن ہو جائے اسے اختیار کریں، البتہ ممکن ہے کہ کبھی یہ اطمینان قلبی خواب کی بناء پر حاصل ہوجائے ، جب تک قلب کو طمانینت نہ ہو، استخارہ کا سلسلہ جاری رکھنا چاہئے۔

جہاں تک آپ کے خواب کی بات ہے تو بعض اہل علم نے لکھا ہے کہ خواب میں سفیدی یا سبزہ کو دیکھنا نیک فال ہے اور اس بات کے بہتر ہونے کی علامت ہے اور سیاہ یا سرخ چیز کا دیکھنا اس امر کے نامناسب ہونے کا اشارہ ہے، مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے علامہ شامیؒ کے حوالہ سے یہ بات نقل کی ہے(معارف السنن:ج۴ ص۲۷۸) لہٰذا آپ کا پانی یا انڈے دیکھنا بظاہر اس امر کے بہتر ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ واللہ اعلم

نمازِ معکوس

س:بعض اولیاء کرام کے بارے میں یہ ذکر ملتا ہے کہ انہوں نے چالیس دن اُلٹے لٹک کر نماز ادا کی ، ایک بزرگ کی سوانح میں ہے کہ انہوں نے چالیس دن اپنے پائوں باندھ کر کنویں میں خود کو راتوں کے اوقات اُلٹا لٹکا لیا اور اسی حالت میں نماز ادا کی اور سجدے کئے، اسی کو’’نمازِ معکوس‘‘ کا نام دیا گیا تو ایسی معکوس نماز کا کیا حکم ہے؟ کیا حضورﷺ نے بھی کبھی ایسی نماز پڑھی ہے؟اور کیا اولیاء کرام انسانی تقاضوں اور بشری ضرورتوں سے بے نیاز ہوتے ہیں؟

ج:رسول اللہﷺ، صحابہؓ اور سلف صالحینؒ نے کبھی ایسی نماز نہیں پرھی، اسلام دین فطرت ہے اس نے کبھی غیر فطری  طریقۂ عمل پر لوگوں کو مجبور نہیں کیا، آپﷺ نے نماز کی تفصیلی کیفیت اپنے ارشادات اور عمل کے ذریعہ بیان فرمادی ہے، اولیاء کرام جو آپﷺ کی ایک ایک سنت کی پیروی کرتے ہیں، حضورﷺ کے قول و عمل کے خلاف کیسے کر سکتے ہیں؟

یہ واقعات غلط طریقہ سے ان کی طرف منسوب کردئیے گئے ہیں، ان غلط حکایات کی وجہ سے بزرگوں سے بدگمان نہ ہونا چاہئے، اسلام سے پہلے لوگوں نے انبیاء کی طرف بھی کیا کچھ باتیں منسوب نہیں کی تھیں، انسانی تقاضے اور ضروریات اولیاء کے ساتھ بھی ہوتی ہیں، صحابہ امت میں سب سے بڑے اولیاء تھے، ان کے حالات مستند طریقہ پر منقول ہیں، ان کے واقعات سے بہ خوبی اندازہ ہوتا ہے کہ بشری تقاضے ان کے ساتھ بھی تھے، البتہ وہ ہمیشہ اپنے آپ کو شرعی حدود کا پابند رکھتے تھے، اگر ایسا نہ ہوتا تو وہ دوسرے انسانوں کے لئے نمونہ کیسے بنتے؟

نوشہ کا دوگانۂ شکر ادا کرنا

س:نکاح سے پہلے نوشہ کو قاضی صاحب دورکعت شکرانہ ادا کراتے ہیں، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

ج:خوشی کے موقع پر نماز شکرادا کرنا رسول اللہﷺ سے ثابت ہے(مجمع الزوائد:ج۲ص۲۸۲ باب صلوٰۃ الشکر) اس لئے اس کے پڑھنے کی گنجائش ہے، البتہ خاص اس موقع پر نماز ادا کرنا رسول اللہﷺ یا صحابہؓ سے ثابت نہیں اور آج کل بعض مقامات پر اس کو رواج بنالیا گیا ہے، جہاں بہ طور رواج کے اس طرح نماز ادا کی جاتی ہو، وہاں نہ پڑھنا بہتر ہے۔

نمازتراویح کا بیان
نابالغ کے پیچھے نمازِ تروایح

س:ہمارے محلہ میں اس سال ایک لڑکے نے حفظ مکمل کیا ہے، لیکن ابھی اس کی عمرپندرہ سال سے کم ہے اور وہ نابالغ ہے، تراویح چونکہ نفل نماز ہے، تو کیا اس کے پیچھے تراویح ادا کی جا سکتی ہے؟

ج:راجح اور درست قول یہی ہے کہ تراویح میں بھی نابالغ، بالغ نمازیوں کی امامت نہیں کر سکتا ،فقہاء نے اس کی صراحت کی ہے، کیونکہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:امام مقتدیوں کی نماز کا ضامن ہے۔’’الامام ضامن‘‘ (کنزالعمال:بحوالہ ترمذی)اور کوئی چیز اپنے سے کمتر کو شامل ہوسکتی ہے نہ کہ اپنے سے برتر کو، اور صورتِ حال یہ ہے کہ نابالغ کی نماز نفل ہونے کے باوجود کم درجہ کی ہے اور بالغوں کی نماز شروع کرنے کے بعد واجب ہوجاتی ہے، اس کی تائید حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے فتاویٰ سے بھی ہوتی ہے، حضرت عمررضی اللہ عنہ نے محمد بن ابی بریدہ کو اس بات پر تنبیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ تم کو چھوٹے بچوں کو امام نہیں بنانا چاہئے تھا،آپ کا مکتوب یہ ہے:

’’ما کان نولک! ای:ماکان ینبغی لک ان تقدم للناس غلامالم تجب علیہ الحدود (مصنف عبدالرزاق:ج۲ص۳۹۸)

اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب تک بالغ نہ ہوجائے امامت نہیں کر سکتا۔’’لایوم الغلام حتی یحتلم‘‘(نیل الاوطار:ج۳ص۴۳)

خواتین اور تراویح

س:کیا تراویح کی نماز عورت کو بھی پڑھنا ضروری ہے؟ اگر کسی عورت کو دس سورتیں ہی یادہوں، تو کیا ان ہی دس سورتوں کو بیس رکعتوں میں پڑھ سکتی ہے؟

ج:تراویح کی نماز کا حکم عورتوں کے لیے بھی وہی ہے جو مردوں کے لیے ہے، عورتیں بھی اگر تراویح کو بلا عذر ترک کردیں تو ترکِ سنت کا گناہ ہوگا، اگر دس سورتیں یاد ہوں تو یہ درست ہے کہ پہلی دس رکعت میں ان سورتوں کو پڑھا جائے، پھر اگلی دس رکعت میں دوبارہ ان ہی سورتوں کو پڑھے یا ایک رکعت میں کوئی ایک سورت اور دوسری رکعت میں سورئہ اخلاص پڑھتی جائے، یہ تو آپ کے سوال کا جواب ہے، اس کے ساتھ ساتھ آپ کے دینی بھائی کی حیثیت سے ایک خیرخواہانہ مشورہ یہ ہے کہ آپ قرآن مجیدکی کچھ اور سورتیں یاد کرلیں۔ ان شاء اللہ تھوڑی محنت سے آپ مزید سورتیں یاد کر سکتی ہیں، قرآن یاد کرنے اور دین کا علم حاصل کرنے کے لیے کوئی عمر متعین نہیں ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor