Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

تذکرۃ المفسرین (حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ) 694

تذکرۃ المفسرین

از قلم: حضرت مولانا قاضی محمد زاہد الحسینی ؒ (شمارہ 694)

۳۹)محمد بن علی بن عبدالواحد

ابو امامہ ابن نقاش کے نام سے مشہور تھے،۱۵ رجب ۷۲۰؁ھ کو ’’دکال‘‘ نامی قصبہ میں پیدا ہوئے، دینی علوم میں یگانہ روزگار تھے،’’ عمدۃ الاحکام‘‘ کی شرح آٹھ جلدوں میں لکھی اورایک طویل ترین تفسیر بنام’’السابق و اللاحق‘‘ لکھی جس کے مقدمہ میں یہ لکھا:

’’میں نے التزام کیا ہے کہ اپنی تفسیر میں متقد مین مفسرین کا کوئی قول نقل نہ کروں گا‘‘

 اس لئے علامہ صفدی نے کہا ہے کہ :

’’تفسیر قرآن کا یہ طرز جدید میں نے پہلے نہیں دیکھا‘‘

اگرچہ مفسرین اور مؤرخین نے طرز تفسیر پرکچھ نہیں لکھا مگر خود ابن نقاش کے اس قول:’’الناس الیوم رافعیۃ، شافعیۃ و نوویۃ لانبویۃ‘‘ سے معلوم ہوتا ہے کہ مفسر نے اپنی تفسیر میں یا تو حدیث پر اکتفاء کیا ہے یا اپنی تاویل کو تحریر کیا ہے، ربیع الاول ۷۶۳؁ھ کوفوت ہوئے۔

۴۰) علامہ مخلص بن عبداللہ الہندیؒ

دہلی کے جلیل القدر عالم تھے، قرآن عزیز کی ایک تفسیر بنام’’کشف الکشاف‘‘لکھی جس میںزیادہ تر کشاف پر علمی تنقید ہے ،۷۶۴؁ھ کو فوت ہوئے۔

۴۱)عبدالصمدبن ابراہیم بن خلیل بغدادیؒ

’’شیخ تقی الدینؒ‘‘ کی خدمت میں کافی زمانہ گذارا اور ان سے علوم حاصل کئے، بقول ابن کثیرؒ یہ بغداد کے محدث تھے۔ابن تیمیہؒ کی خاص عقیدت کی بناء پر ان کی رحلت پر ایک دردناک مرثیہ لکھا ، تفسیر قرآن عزیزسے بھی کافی مناسبت تھی اگرچہ مستقل تفسیر تو نہیں لکھی مگر’’تفسیر الرالسعنی‘‘ کا اختصار کیا، رمضان المبارک ۷۶۵؁ھ میں بغداد ہی میں فوت ہوئے۔

۴۲)محمد بن محمد الرازیؒ

تحتانی کے لقب سے مشہور تھے، ۷۶۳؁ھ کو دمشق میں آکر مقیم ہوگئے تھے،زندگی کا آخری دور علم تفسیر، معانی اور بیان کی تدریس میں گذارا۔اہل دمشق آپ کے گرویدہ تھے، تفسیر کشاف کا حاشیہ لکھا، دمشق ہی میں ۷۶۶؁ھ کو فوت ہوئے۔

۴۳۔محمد بن محمد بن محمدبن فخر الدین الاقصرائیؒ

اپنے زمانہ کے محقق اور نکتہ شناس عارف تھے، قرمان کے مدرسہ مسلسلہ میں کافی زمانہ درس حدیث وتفسیر دیتے رہے، اس مدرسہ کے بانی نے یہ شرط لگائی تھی کہ اس مدرسہ کے مدرس کو جوہری کی مرتبہ’’ صحاح‘‘ حفظ ہو،’’اقصرائی‘‘ نے تفسیر کشاف پر حاشیہ لکھا، ۷۷۰؁ھ کو انتقال ہوا۔

۴۴)محمود بن احمد بن مسعود ابو الثناء قنویؒ

آپ دمشق کے رہنے والے تھے، دینی علوم عموماً اور فقہ وتفسیر میں خصوصاً محقق سمجھے جاتے تھے، ۷۵۹؁ھ کو دمشق کے قاضی مقرر ہوئے۔ جلد ہی معزول کر دئیے گئے، پھر۷۶۶؁ھ میں’’ریحانہ‘‘ کے قاضی مقرر‘‘ ہوئے، کئی کتابوں کے مصنف تھے جن میں سے’’المغنی‘‘ کی شرح’’المنتہی‘‘’’کتاب القلائد فی شرح العقائد، کتاب البغیہ فی الفتاویٰ، کتاب المعتمد اختصار مسند ابی حنیفہ، کتاب مشرق الانوارلحل مشکل الآثار مشہور اور قابل ذکر ہیں۔ قرآن عزیز کی ایک تفسیر بنام ’’تہذیب احکام القرآن‘‘لکھی،دمشق ہی میں ۷۷۱؁ھ کوانتقال ہوا۔

 ۴۵)سراج الدین بن اسحاق ابن احمدؒ (سراج الہندی)

آپ کے آباواجداد غزنی سے آکر بر صغیر میں مقیم ہوگئے تھے، یہیں آپ ۷۰۴؁ھ کوپیدا ہوئے۔ طلب علم کے لئے حجاز اور مصر کا سفر کیاپھر مصر ہی میں مقیم ہوگئے، مصر میں احناف کے مقتداء تسلیم کئے جانے کی وجہ سے ’’قاری الہدایہ‘‘ کا خطاب آپ کودیا گیا ، پہلے’’قاضی عسکر‘‘ اورپھر’’قاضی القضاۃ‘‘ مقرر ہوئے ۔تاریخ اور اسماء الرجال کی کتابوں میں آپ کو’’سراج الہندی‘‘ کے نام سے یادکیاجاتا ہے۔ امام ابن تیمیہؒ کے ساتھ کئی مناظرے کئے، آپ کا وہ جملہ جو آپ نے ابن تیمیہؒ کو کہا تھا:

’’ابن تیمیہؒ تو پرندے کی طرح کبھی ایک ٹہنی پر بیٹھتا ہے اور کبھی دوسری پر جابیٹھتا ہے‘‘

مشہور اور معروف ہے ، مصر کی جامع طولون میں ۷۷۱؁ھ سے درس تفسیر قرآن عزیز دینا شروع کیا تھا اور ساتھ ہی قرآن عزیز کی ایک تفسیر بھی بنام ’’تفسیر السراج‘‘لکھی ہے، ۷/رجب المرجب ۷۷۳؁ھ کوقاہرہ میں انتقال ہوا۔

۴۶)خضر بن عبدالرحمن زردیؒ

قرآن کریم کی ایک تفسیر بنام’’تبیان‘‘ لکھی جوچھوٹے سائز کے بارہ سو صفحات پر مشتمل ہے، مفسر کی وفات ۷۷۳؁ھ کوہوئی۔

ف)…اس تفسیر کا ایک مخطوطہ محررہ ۱۰۴۷؁ھ ٹونک کے کتب خانہ عرفانیہ میں محفوظ ہے۔

۴۷)اسمٰعیل بن عمر بن کثیر القیسیؒ

۷۰۰؁ھ میں دمشق میں پیدا ہوئی، دمشق کے جلیل القدر علماء ابن الشحنہؒ، اسحق الآمدی، ابن عساکر ؒوغیر ہم سے اکتساب فیض کیا، پھر امام ابن تیمیہؒکے جان نثاروں میں شریک ہوگئے جس کی پاداش میں کئی آزمائشوں سے دوچار ہوئے،آپ کے متعلق علامہ ذہبیؒ کا یہ جامع ارشاد ہے:

’’الامام المفتی المحدث البارع الفقیہ الفسر‘‘

کئی عظیم کتابیں تصنیف فرمائیں جن میں سے ’’تفسیرابن کثیر‘‘مشہور متداول اور مستند تفسیر ہے، آپ کی تمام تصانیف نے آپ کی زندگی ہی میں قبولیت حاصل کرلی تھی،شعبان ۷۷۴؁ھ کو فوت ہوئے۔

ف)…تفسیر ابن کثیر کااختصار علامہ محمد علی صابونیؒ استاذ دراسات اسلامیہ مکہ مکرمہ نے مرتب کیا ہے اور اس کا اردوزبان میں ترجمہ کراچی کے مطبع اصح المطابع نے شائع کیا ہے۔

 ۴۸)محمد بن محمد بن محمودؒ

بغداد کے قریب ایک بستی’’بابرتا‘‘ میں ولادت کی وجہ سے ’’ بابرتی‘‘ بھی کہلائے جاتے ہیں، حنفی مسلک کے محقق اور جلیل القدر عالم ہونے کی وجہ سے ’’اکمل الدین‘‘ خطاب ملا تھا ، ہدایہ کی ایک شرح لکھی اور تفسیر کشاف کا جامع حاشیہ لکھا اور ایک مستقل تفسیر بھی لکھی، رمضان المبارک میں شب جمعہ ۷۷۶؁ھ کو آپ کا انتقال ہوا۔

ف)…علامہ سیوطیؒ نے آپ کا سال وفات ۷۸۶؁ھ لکھا ہے اور یہ بھی تصریح کی ہے کہ آپ کی نماز جنازہ میں سلطان وقت بھی حاضر تھا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor