Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 694

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 694)

یعنی ان سے کوئی تعرض نہ کرو) ان لوگوں نے جوبرسر حکومت تھے کہا ہم تو ان کے غار پر ایک مسجد( ہیکل) تعمیر کریں گے اے پیغمبر کچھ لوگ کہیں گے وہ تین آدمی ہیں چوتھا ان کا کتا ہے کچھ لوگ ایسا بھی کہتے ہیں نہیں پانچ ہیں چھٹا ان کا کتا ہے، یہ سب اندھیرے میں تیر چلاتے ہیں، بعض کہتے ہیں سات ہیں آٹھواں ان کا کتا ہے(اے پیغمبر) کہہ دے ان کواصل گنتی تو میراپروردگار ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ ان کا حال بہت کم لوگوں کے علم میں آیا ہے اور تو لوگوں سے اس بارہ میں نزاع نہ کرمگر صرف اس حدتک کہ صاف صاف بات میں ہو( یعنی باریکیوں میں نہیں پڑنا چاہئے کہ کتنے آدمی تھے کتنے دنوں تک رہے تھے) اورنہ ان لوگوں میں سے کسی سے اس بارے میں کچھ دریافت کر اور ہرگز کسی چیز کے متعلق یہ نہ  کہنا کہ میں کل کو یہ ضرور کرنے والا ہوں مگر( یہ کہہ کر) کہ ہوگا وہی جو اللہ چاہے گا اور جب کبھی بھول جائوتو اپنے پروردگار کی یاد تازہ کرلو تم کہہ دو امید ہے میراپروردگار اس سے بھی زیادہ کامیابی کی راہ مجھ پر کھول دے گا اور کہتے ہیں وہ غار میں تین سو برس تک رہے اور لوگوں نے نو برس اور بڑھادئیے ہیں( اے پیغمبر) تو کہہ دے اللہ ہی بہتر جانتا ہے وہ کتنی مدت تک رہے وہ آسمان و زمین کی ساری پوشیدہ باتیں جاننے والا ہے بڑا ہی دیکھنے والا بڑا سننے والا ہے اس کے سوا لوگوں کا کوئی کارساز نہیں اور نہ وہ اپنے حکم میں کسی کوشریک کرتا ہے۔ (سورہ کہف)

 کہف ورقیم

لغت میں کہف پہاڑ کے اندر وسیع غار کو کہتے ہیں مگر رقیم کے معنی میں مفسرین کو سخت تردد ہے اور ضحاک و سدی جو ہرایک تفسیری روایت حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکی جانب ضرور منسوب کردیاکرتے ہیں، اس مقام پر بھی حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے متعدد اقوال نقل کرتے ہیں:

۱)یہ رقم سے مشتق ہے اور رقیم بمعنی مرقوم( مکتوب) ہے چونکہ بادشاہِ وقت نے ان کی تلاش کے بعد ان کے نام پتھر کی ایک تختی پر کندہ کردئیے تھے اس لئے ان کو اصحاب رقیم بھی کہاجاتا ہے۔ سعید بن جبیر اسی کی تائید میں ہیں اور مفسرین کے یہاں یہی قول مشہور ہے۔

۲)یہ وادی کانام ہے جہاں پہاڑ میں وہ غار تھا جس میں اصحابِ کہف روپوش ہوئے تھے۔ قتادہؒ ،عطیہؒ ،عوفیؒ اورمجاہدؒ بھی اسی کی تائید کرتے ہیں۔

۳)یہ اس پہاڑ کانام ہے جس میں غار تھا

۴)عکرمہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماکو یہ کہتے سنا: ماادری ماالرقیم کتاب ام بنیان، میں نہیں کہہ سکتا کہ رقیم سے کندہ تختی مراد ہے یا شہر مراد ہے۔

 ۵)بروایت کعب احبار، وہب بن منبہ، حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ یہ ایلہ( عقبہ) کے قریب ایک شہر کا نام ہے، یہ بلادروم میں واقع ہے۔

تاریخ اور اثری تحقیقات کے پیش نظر یہ آخری قول ہی صحیح اور قرآن عزیز کے بیان کے مطابق ہے اور باقی اقوال محض قیاس و تخمین پر مبنی ہیں۔

اس اجمال کی تفصیل کے لئے تاریخ اور علم الآثار کے چنداوراق کا مطالعہ ضروری ہے۔ اصل یہ ہے کہ یہ واقعہ بعثتِ مسیح علیہ السلام سے کچھ زمانہ بعدکا ہے اور انباط کے قبیلہ سے تعلق رکھتا ہے یہ انباط کون ہیں؟اور ان کا مسکن و موطن کہاں ہے؟یہی وہ گتھی ہے جس کے سلجھ جانے پر حقیقت روشن ہوسکتی ہے۔

 مؤرخین عرب انباط کے متعلق عموماً یہ بیان کرتے ہیں کہ عجمی النسل ہیں اور اسی لئے وہ نبطی کوعربی کا مقابل قرار دیتے ہیں مگر یہ صحیح نہیں ہے اورعرب مؤرخین کے مختلف تاریخی مقولے اور توراۃ اور رومی ویونانی تاریخیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ نبطی خالص عربی اور اسمٰعیلی النسل ہیں مگربدویانہ زندگی ترک کردینے اور حجاز سے نکل کر دوسرے علاقوں میں بس جانے کی وجہ سے یہ عربوں کے لئے اجنبی ہوگئے۔ حتیٰ کہ خودیہ بھی بھول گئے کہ عرب سے ان کو کیا نسبت ہے؟اسی بناء پر حضرت فاروقِ اعظم رضی اللہ عنہ کامشہور مقولہ ہے:

اپنے نسب کو سیکھو، عراق کے نبط کی طرح نہ بن جائو کہ جب ان میں سے کسی سے دریافت کیا جائے کہ تم کس خاندان سے ہو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم فلاں شہر کے ہیں۔

لیکن’’انباط‘‘ کی بحث کوچھوڑ کر جب مؤرخینِ عرب سے دریافت کیا جائے کہ نبط یانابت کون ہے تو وہ بغیر کسی اختلاف کے فوراً یہ جواب دیں گے’’ابن اسمٰعیل علیہ السلام‘‘ کیونکہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے بارہ لڑکوں میں سے بڑے کا نا م نابت یانبط ہے، چنانچہ ابن کثیر اپنی تاریخ میں نابت کے متعلق تحریر کرتے ہیں:

تمام حجازی عرب کے مختلف قبائل کا نسب حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے دو صاحبزادوں نابت اور قیدار پر ختم ہوا ہے اور اسمٰعیل علیہ السلام کے بعد ان کا جانشین نابت ہو ا، وہی تمام امور کا والی، مکہ کا حاکم، زمزم اور کعبہ کا متولی قرار پایا اور یہ بنی جرہم کا بھانجا تھا۔ پس بنی جرہم اس تعلق کی وجہ سے اس کے بعد عرصہ تک مکہ پر حاکم و قابض رہے اور اطراف ِ مکہ پر بھی انہی کی حکومت رہی ،مدت دراز کے بعد نابت کی پانچویں پشت میں سے ایک شخص مضاض نے دوبارہ مکہ کی حکومت اور بیت اللہ کی تولیت کو بنی جرہم کے قبضہ سے نکال کراپنے ہاتھ میں لیا۔( البدایہ و النہایہ :ج ۲)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor