Bismillah

694


۱۰رمضان المبارک۱۴۴۰ھ

الفقہ 694

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 694)

عشاء، وتر اورتراویح علیحدہ امام پڑھائیں

س:بعض جگہ ایسا ہوتا ہے کہ مستقل امام صاحب نماز عشاء اور وتر پڑھادیتے ہیں اور حافظ صاحب تراویح،کیایہ صورت درست ہے؟

ج:اس طرح نماز پڑھانا درست ہے، حضرت عمررضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ نمازِ عشاء اور وتر خود پڑھایا کرتے تھے اور نمازِ تراویح حضرت اُبی بن کعب رضی اللہ عنہ پڑھایا کرتے تھے:

’’وقد کان عمرؓ یؤمھم فی الفریضۃ وکان اُبی ؓ یؤمھم فی التراویح‘‘(فتاویٰ ہندیہ:ج۱ص۱۱۶)

پہلے تراویح کی چھوٹی ہوئی رکعتیں ادا کرے یا وتر باجماعت

س:اگر کسی کی تراویح کی چند رکعتیں چھوٹ جائیں تو اسے پہلے یہ رکعتیں ادا کرنی چاہئیںیا وتر کی جماعت میں شامل ہوجانا چاہئے؟

ج:ایسی صورت میں بہتر ہے کہ پہلے وتر جماعت کے ساتھ پڑھ لے، پھر تراویح کی چھوٹی ہوئی رکعتیں ادا کرلے۔

’’واذا فاتتہ ترویحۃ اوترویحتان فاذااشتغل بھایفوتہ الوتربالجماعۃ، یشتغل بالوتر، ثم یصلی مافاتہ من التراویح‘‘(فتاویٰ ہندیہ:ج۱ص۱۱۷)

تراویح کی بعض رکعتیں طویل اور بعض مختصر

س:ـعام طور پر تراویح میں ختم قرآن کے دن ابتدائی رکعتوں میں قرآن مجید کی زیادہ مقدار پڑھی جاتی ہے اور آخری چار رکعت میں کچھ چھوٹی چھوٹی سورتیں، کیا ایسا کرنابہتر ہے؟

ج:بہتر طریقہ تو یہی ہے کہ تما م ترویحات میں قرآن برابر پڑھاجائے، البتہ ایک میں زیادہ اور ایک میں کم پڑھنے میں بھی قباحت نہیں، بشرطیکہ مصلیوں کو اس سے بوجھ نہ ہوتا ہو:

’’الافضل تعدیل القراء ۃ بین التسلیمات فان خالف فلا باس بہ‘‘(فتاویٰ ہندیہ:ج۱ص۱۱۷)

تراویح کی قضاء

س:اگر کسی شخص کی تراویح قضاء ہوجائے تو وہ کس طرح اس کی قضاء پڑھے؟

ج:اگر تراویح کی نماز جماعت کے ساتھ نہیں پڑھ سکا، تو اسی شب میں صبح ہونے سے پہلے پہلے کسی بھی وقت تراویح اداکرلے،جب رات گزرگئی اور اگلادن شروع ہوگیا، تواب تراویح کی قضاء کی گنجائش نہیں، نہ تنہا اور نہ جماعت کے ساتھ، اب اپنی کوتاہی کے لئے استغفارکرے:

’’اذافاتت التراویح لا تقضی بجماعۃ ولابغیرھا وھوالصحیح‘‘(فتاویٰ ہندیہ:ج۱ص۱۱۷)

تراویح کے درمیان گرین لائٹ جلانا

س:ہمارے پاس والی مسجد میں تراویح کے درمیان گرین لائٹ جلادی جاتی ہے، جس کی وجہ سے مصلیان پرنیند کا غلبہ ہوتا رہتا ہے، اس کی شرعی حیثیت کیاہے؟

ج:اسلام میں اس کی اہمیت نہیں کہ نماز کے وقت لائٹ جلائی جائے یا نہ جلائی جائے اور جلائی جائے تو کس رنگ کی؟اہمیت اس بات کی ہے کہ اس نماز کو اس کے آداب اور خشوع و خضوع کے ساتھ پڑھا جائے، اس لئے یہ نماز پڑھنے والوں کی سہولت اور منتظمین کی صوابدید سے متعلق ہے، تاہم ایسی باتوں کو باہمی اختلاف اور انتشار کا سبب نہ بننے دیجئے۔

نماز تراویح کی نیت

س:نماز تراویح کی نیت کس طرح باندھی جائے؟بحیثیت فرض کے یا سنت مؤکدہ کے یا نفل کے؟

ج:نماز تراویح کے سلسلہ میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ تراویح یاقیام لیل یاسنت وقت کی نیت کی جائے ، تاہم مطلق نفل یاسنت کی نیت کرلے توبھی کافی ہے، فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

’’ویکفیہ مطلق النیہ للنفل و السنۃ والتراویح و ھو الصحیح…والاحتیاط فی التراویح ان ینوی التراویح اوسنۃ الوقت اوقیام اللیل‘‘(ج۱ص۶۵)

کیا حضورﷺ نے تراویح کا حکم دیا؟

س:کیا حضورﷺ نے نماز تراویح کا حکم دیا؟

ج:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’من صام رمضان وقامہ ایمانا واحتسابا غفرلہ ماتقدم من ذنبہ‘‘

’’جس نے رمضان کے روزے رکھے اور قیام رمضان کیا اخلاص کے ساتھ، اس کے پچھلے گناہ معاف کردئیے جائیں گے‘‘(ترمذی)

یہاں قیام رمضان سے رمضان کی مخصوص نماز یعنی تراویح مراد ہے، اس سے تراویح کی تاکید معلوم ہوتی ہے،کیونکہ آپﷺنے قیام رمضان یعنی تراویح کو صیام رمضان یعنی روزہ کے ہم درجہ کی حیثیت سے ذکر فرمایاہے، جبکہ روزے فرض ہیں، اس سے معلوم ہوا کہ تراویح گو سنت ہے،لیکن شریعت میں یہ بہت ہی مؤکد اور مہتم بالشان عمل ہے۔

ایک شبی اور سہ شبی شبینہ

س:مسجد میں آخری عشرہ میں ایک شبی شبینہ اور کبھی سہ شبی شبینہ کیا جاتا ہے اور اکثر مساجد میں اس کا اہتمام کیاجاتا ہے، کیا یہ عمل دور رسالت مآبﷺ و خلافت راشدہ میں رائج تھا؟

ج:چونکہ نمازمیں قرآن مجید پڑھنے کی کوئی قطعی حد مقرر نہیں ہے، اس لئے اگر اس طرح نماز پڑھائی جائے تو نماز ہوجائے گی،لیکن رسول اللہﷺ یا صحابہؓ کے عہدمیں ایک شب یا تین شب میں پورے قرآن مجید کی تکمیل کا اہتمام نہ تھابلکہ غالباً ثبوت بھی نہیں، عام طور پرفقہاء نے پورے ماہ میں ایک ختم مسنون قرار دیا ہے، فقہاء حنفیہ میں صدر الشہید بہت اعلیٰ درجہ کے فقیہ ہیں، انہوں نے لکھا ہے کہ ہر رکعت میں دس آیات پڑھنی چاہئیں(خلاصۃ الفتاویٰ:ج۱ص۶۴) بعض حضرات نے دو ختم کو افضل قرار دیا ہے(حوالہ سابق) ایک اور دو ختم کی بات اس لیے بھی قرین قیاس ہے کہ رسول اللہﷺ اور حضرت جبرئیل علیہ السلام کے درمیان جو مذاکرئہ قرآنی ہوا کرتا تھا، وہ پورے رمضان میں ایک ختم قرآن پرمشتمل ہوتا تھا اور جس سال آپﷺ کی وفات ہوئی اس سال کے مذاکرہ میں دوفعہ قرآن ختم ہو ااور تراویح میں اس سنت کی پیروی کا پہلو بھی ملحوظ ہے، فتاویٰ عالمگیری میں تین ختم تک اجازت دی گئی ہے،لیکن یہ بھی نقل کیاہے کہ امام ابو حنیفہؒ ہر رکعت میں دس آیتیں پڑھا کر تے تھے، نیز یہ لکھا ہے کہ اتنا قرآن نہ پڑھاجائے کہ لوگ جماعت سے بھاگنے لگیں۔(فتاویٰ ہندیہ:ج۱ ص۱۱۸ ۔۱۱۷ )

آج کل جو شبینے منعقد کئے جاتے ہیں، اس میں قرآن اتناتیز پڑھا جاتا ہے کہ تجوید کا لحاظ نہیں ہوپاتابلکہ اکثر اوقات توالفاظ بھی سمجھ میں نہیں آتے،کچھ لوگ رکوع کاانتظار کرکے جماعت میں شریک ہوتے ہیں اور جو لوگ شروع سے شامل ہو کر پڑھتے ہیں وہ بھی تکان کی وجہ سے کسل مندی سے دو چار  ہوتے ہیں، کچھ لوگ چند دنوں میں قرآن ختم کرکے باقی دنوں میں تراویح ہی کو خیرآباد کہہ دیتے ہیں، ظاہر ہے کہ یہ تمام باتیں کراہت سے خالی نہیں اورایسی صورتوں میں قرآن کی بے احترامی اور بے تکریمی کا اندیشہ ہے، اس لئے ایسا غلو مناسب نظر نہیں آتا،ہاں اگر کسی شخص میں حوصلہ و ہمت ہو وہ خود تنہا اس طرح نماز پڑھ لے تو شاید مضائقہ نہ ہو۔

 واللہ اعلم

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
Rangonoor Web Designing Copyrights Khabarnama Rangonoor