Bismillah

595

۲۹شعبان تا۵رمضان المبارک ۱۴۳۸ھ        بمطابق       ۲۶مئیتا۱جون۲۰۱۷ء

معارف سورۃ یوسف (حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ) 576

معارف سورۃ یوسف

از قلم: حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ (شمارہ 576)

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف

سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام نے خواب کی تعبیر کا وقت مقرر فرمانے کے بعد ان دونوں قیدیوں کو اپنی بابت دو باتیں بیان فرمائیں:

اول:’’علمنی ربی‘‘سکھایا ہے مجھ کو میرے رب نے

یعنی ’’میری یہ علمی قابلیت‘‘کسی دنیا کے انسان اور علم سے تعلق نہیںرکھتی بلکہ براہ راست میرے رب تعالیٰ کی طرف سے ہے۔

دوم:’’کفر کی ملت‘‘چونکہ یہ ملت اللہ تعالیٰ کی وحدت اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتی اس لئے میں نے کفر کی ملت کو اختیار نہیں کیا۔

حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ دونوں باتیں ان قیدیوں کے سامنے اس لئے بیان فرمائیں تاکہ آپ علیہ السلام پر اُن کا اعتماد ویقین بڑھے اور آپ علیہ السلام کی تعبیر ان کے قلوب پر اثر کرے،شاید وہ اس سے مسلمان ہوجائیں۔

 حضرت یوسف علیہ السلام نے ان دونوں قیدیوں کو دو مرتبہ ’’یٰصاحبی السجن‘‘ کے الفاظ سے خطاب فرمایا۔

پہلی مرتبہ:مسئلہ توحید سمجھانے کے وقت( آیت ۳۹)

دوسری مرتبہ: خوابوں کی تعبیر فرمانے کے وقت(آیت ۴۱)

آپ علیہ السلام نے ان دونوں قیدیوں کو’’اپنے رفیق‘‘قرارنہ دیا بلکہ’’جیل کے رفیق‘‘ کہا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ چونکہ یہ قیدی کفر سے تعلق رکھتے اور آپ علیہ السلام کے روحانی رفیق نہ تھے اس لئے آپ علیہ السلام نے انہیں’’جیل کے رفیقو‘‘کے الفاظ سے خطاب فرمایا۔

رفاقت صدیق اکبررضی اللہ عنہ

حضرت یوسف علیہ السلام کے اس انداز بیان سے یہ بات خوب اُجاگر اور منور ہوجاتی ہے کہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ آخری پیغمبرﷺ کے مسلک سے تعلق رکھتے ، آپﷺ کے لاثانی صحابی اور جاں نثار ساتھی تھے، کیونکہ اگر حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ ساقی کوثرﷺ کے روحانی ساتھی اور لاثانی صحابی نہ ہوتے تو آپﷺ حضرت یوسف علیہ السلام کی طرح سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی مصاحبت و رفاقت کو’’غار‘‘کی طرف منسوب فرماتے مگر چونکہ آپﷺ نے حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کی مصاحبت ورفاقت کو ’’ غار‘‘کی طرف منسوب نہیں فرمایا بلکہ آپﷺ نے سیدنا صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی رفاقت و مصاحبت کو اپنی طرف منسوب فرمایا۔ ذاتِ بابرکات جناب رسالت مآبﷺ کا یہ اسلوب بیان اس بات کی واضح دلیل اور زبردست ثبوت ہے کہ حضرت صدیق رضی اللہ عنہ شافع محشرﷺ کے روحانی ساتھی اور لاثانی صحابی ہیں۔ اس کے علاوہ باری تعالیٰ نے جب ہجرت کے کئی سال بعد تبوک کے موقعہ پر واقعہ ہجرت کو مدحت و منقبت کے پیرایہ میں حضرات صحابہ رضی اللہ عنہم کے سامنے مثال کے طور پر بیان فرمایا تو پروردگار عالم نے حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو نبی پاکﷺکا ’’ صاحب ‘‘(رفیق) قرار دیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس سے آپﷺکے فرمان مبارک پر اپنی مہر تصدیق ثبت فرما کردنیا بھر کے انسانوں پر قیامت تک کے لئے یہ حقیقت اظہرمن الشمس فرمادی کہ آخری پیغمبرشافع محشرﷺ کا روحانی ساتھی اور لاثانی صحابی صدیق اکبررضی اللہ عنہ ہے۔ اگر تینوں زمانوں(ماضی ، حال اور مستقبل) میں سیدنا حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کے قلب میں آنحضرتﷺ کی بابت ذرہ بھر کدورت اور اسلام کے متعلق تل برابر نفرت موجود ہوتی تو مولاکریم(جو کہ عالم الغیب اور اسے ہر وقت ہر ایک کے دل کی خبر ہے کہ اس میں اطاعت ہے یا بغاوت، محبت ہے یا عداوت، طہارت ہے یاغلاظت)یقینا حضرت ابوبکررضی اللہ عنہ کو’’رفیق غار‘‘قرار دیتا،مگر اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پاک کلام میں’’رفیق غار ‘‘نہیں بلکہ صدیق اکبررضی اللہ عنہ کو ’’رفیق پیغمبرﷺ‘‘ قرار دیا۔ چنانچہ قرآن مجید فرماتا ہے:

’’اذھما فی الغار‘‘

جب تھے وہ دونوں( آخری پیغمبرﷺ اور صدیق اکبررضی اللہ عنہ) غار میں

’’اذیقول لصاحبہ‘‘

جس وقت کہ فرماتے تھے( شافع محشرﷺ) واسطے رفیق( ابو بکررضی اللہ عنہ) اپنے کے۔

’’لاتحزن‘‘

 مت غم کھا

’’ان اللّٰہ معنا‘‘

 تحقیق اللہ ہمارے (ساقیٔ کوثرﷺ اور صدیق اکبررضی اللہ عنہ) ساتھ ہے۔( التوبہ آیت ۴۰)

پس باری تعالیٰ کے کلام مبارک’’لصاحبہ‘‘ سے یہ بات خوب روشن ہوگئی کہ سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ صاحب لولاک رسول پاکﷺ کے صرف ہمنشین ہی نہ تھے بلکہ ذات بابرکات جناب رسالت مآبﷺ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے دلنشین بھی تھے اور اسی روحانی ،لاثانی، اعلیٰ، افضل اورارفع مقام کے لحاظ ہی سے آپ رضی اللہ عنہ نبی اکرمﷺ کے بلا فصل اور اول جانشین بنے۔

یہ بات بھی حضرت ابو بکررضی اللہ عنہ کے اعلیٰ و افضل ہونے پر دلالت کرتی ہے کہ آنحضرتﷺ کے تمام اصحاب رضی اللہ عنہم میں سے صرف اور فقط صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہی کو یہ فخر حاصل ہے کہ آپ رضی اللہ عنہ کا’’صحابیٔ رسول اللہﷺ‘‘ہونا قرآن پاک کے زیر نظر مقام سے ثابت ہے۔

 یہ کہنا کہ جس طرح قرآن کریم میں نبی پاکﷺ کو مشرکوں کا’’صاحب‘‘یعنی’’رفیق‘‘مسلمان کو کافر کا اور کافر کو مسلمان کا’’صاحب‘‘یعنی’’رفیق‘‘کہا گیا ہے بالکل اسی طرح حضرت ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ کو’’صاحب‘‘ کہا گیا ہے،پس اس لفظ سے آپ رضی اللہ عنہ کو’’صاحب‘‘ کہا گیا ہے،پس اس لفظ سے آپ کا ایمانی، اسلامی رفیق اور ’’صحابی رسول اللہﷺ‘‘ہونا ثابت نہیں ہوتا۔

 ہم اس اعتراض کا یہ جواب دیتے ہیں کہ سورہ نجم کی دوسری آیت میں جو لفظ ’’صاحبکم‘‘موجود ہے، اس جگہ’’صاحب‘‘ کے مصداق آنحضرتﷺاور’’کم‘‘ کا مرجع’’مشرکین مکہ‘‘ہیں اور ان کی ذلت واہانت اسی سورئہ مبارکہ کی آیت ۱۹ سے لے کر آیت ۲۳تک بیان کی گئی ہے پس ان کی اس ذلت واہانت سے صاف صاف معلوم ہوتا ہے کہ نبی پاکﷺ مشرکین مکہ کے مذہب و مسلک کے اعتبار سے ان کے ’’صاحب‘‘ہرگز ہرگز نہیں بلکہ نسل انسانی یا مکہ معظمہ کے باسی اور رہائشی ہونے کی وجہ سے تھے۔ مگر آیت ہجرت(سورئہ توبہ آیت۴۰) کے لفظ’’لصاحبہ‘‘ کے سیاق و سباق سے سیدنا حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی مدحت و منقبت خوب چمکتی اور آپ کی عزت و عظمت خوب دمکتی ہے۔یہ حقیقت اس بات کی بین دلیل اور واضح ثبوت ہے کہ سیدنا حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلامی، ایمانی اور روحانی طور پر صاحبِ لولاک رسول پاکﷺ کے رفیق ، ساتھی اور’’لاثانی صحابی‘‘ ہیں۔

 باقی رہا یہ کہ قرآن پاک میں’’مومن و کافر‘‘کو جو ایک دوسرے کا ’’صاحب‘‘ کہا گیا ہے اس کا مطلب کیا ہے؟اس کا مطلب بھی وہی ہے جو پہلے تحریر کیا گیا ہے اور وہ دوبارہ بھی لکھاجاتا ہے۔

قرآن مجید کی سورہ کہف آیت۳۴،۳۷ میں ایسا ضرور موجود ہے مگر اس کا مطلب ایمانی اور اسلامی’’صاحب‘‘ ہرگز ہرگز نہیں بلکہ دنیاوی’’صاحب‘‘ ہے کیونکہ’’مومن‘‘ اس کے مذہب سے بیزاری کا اظہار کرتا ہے (آیت ۳۷ تا ۴۱) اور اللہ تعالیٰ اس کی ذلت واہانت بیان فرماتا ہے۔’’ظالم‘‘ ( آیت ۳۵)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online