Bismillah

576

۱۴ تا۲۰ربیع الثانی۱۴۳۸ھ  ۱۳تا۱۹جنوری۲۰۱۷ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 576

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 576)

یااللہ!جتنے ہم نے تیرے بندوں کی حق تلفی کی ہے، خواہ عمداًیاسہواً،ہمیں معاف فرمادے اور ہم فقیر ہیں، فقیروںپر صدقہ کیا جاتا ہے۔ آپ اپنی رحمت سے ہم پر صدقہ فرمائیں اور ہماری طرف سے ہمارے تمام حقوق کو ادا فرمادیں۔

اس حدیث میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم میں سے ہرشخص کے ساتھ اس کا رب قیامت کے دن ہم کلام ہوگا اور بندے کو خود جوابدہی کرنی ہوگی، اس کے اوررب کے درمیان کوئی ترجمان نہیں ہوگا۔ اس حدیث سے حق تعالیٰ شانہ کی صفتِ کلام ثابت ہوئی، اس لئے امام وکیع علیہ الرحمۃ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے تھے کہ’’اس حدیث کا اعلان خراسان میں ہونا چاہئے کیونکہ وہاں جہمیہ یعنی جہم ابن صفوان کو ماننے والے بکثرت ہیں اور وہ اللہ تعالیٰ کی صفتِ کلام کے منکر ہیں۔‘‘ نعوذ باللہ!

حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:بندے کے قدم قیامت کے دن اپنے رب کے پاس سے نہیں ہلیں گے یہاں تک کہ اس سے سوال کیا جائے پانچ چیزوں کے بارے میں

۱)اس کی عمر کے بارے میں کہ اس نے عمر کو کس چیز میں فنا کیا؟

۲)اور اس کی جوانی کے بارے میں کہ اس نے اس کو کس چیز میں ہنڈایا؟(گزارا)

۳)اور اس کے مال کے بارے میں کہ اس نے کہاں سے حاصل کیا؟

۴) اور یہ کہ مال کس چیز میں خرچ کیا؟

۵)اور جو چیزیں اس کو معلوم تھیں ان میں سے کن چیزوں پر عمل کیا؟‘‘

’’حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:بندے کے قدم اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے یہاں تک کہ اس سے (چند چیزوں کے بارے میں) سوال کیا جائے ( اور وہ ان کا معقول جواب دے)

(اول) اس کی عمر کے بارے میں (سوال کیا جائے گا) کہ کس چیز میں ختم کی؟

(دوم) اس کے علم کے بارے میں کہ اسے کس چیز میں استعمال کیا؟

(سوم) اس کے مال کے بارے میں کہ کہاں سے کمایا؟اور کس چیز میں خرچ کیا؟ اور

(چہارم ) اس کے بدن کے بارے میں کہ اس کی (قوتوں) کو کس چیز میں کمزور کیا؟‘‘

تشریح:یعنی بندے کو اپنی عمر، اپنے مال، اپنے علم اور اپنی بدنی قوتوں کے بارے میں جوابدہی کرنی ہوگی کہ آیا ان تمام چیزوں کا استعمال صحیح ہوایا غلط؟ خدا اور رسول اللہﷺ کے احکام کے مطابق ہو ایا ان کے خلاف؟

حساب و کتاب کا مرحلہ بہت ہی دشوار ہے، اگر آدمی اپنی زندگی کے ایک دن کا حساب چکانے بیٹھے تو سوچا جا سکتا ہے کہ اس میں کتنی پریشانی ہوگی! اور یہاں تو ایک آدھ دن کا قصہ نہیں بلکہ پوری زندگی کا حساب چکانا ہوگا، یہ ایسی ہولناک حقیقت ہے کہ اس کے تصور ہی سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ،لیکن ہماری غفلت لائق تعجب ہے کہ مسکین انسان کو حساب و کتاب کا یہ مرحلہ پیش آنے والا ہے مگر وہ نشۂ غفلت میں مدہوش اس ہوش ربا مرحلے سے بالکل غافل اور بے خبر ہے، مبارک ہیں وہ لوگ جو یوم الحساب کے آنے سے پہلے اپنا میزانیہ درست کرلیں، اپنے نفع و نقصان کا موازنہ کریںاور جو لغزشیں اور کوتاہیاں سرزد ہوگئی ہیں مرنے سے پہلے ان کا کچھ تدارک کرلیں۔ یہ آنحضرتﷺکی امت کے حال پر نہایت شفقت ہے کہ جو امتحانی پرچہ اسے قیامت کے دن حل کرنا ہے اور جن چیزوں کا حساب بے باق کرنا ہے، اس کی اطلاع پہلے سے کردی، تاکہ ہر شخص فکر مندی کے ساتھ اس کی تیاری کرے اور اسے وقت پر پریشانی کا سامنا نہ ہو، حق تعالیٰ شانہ اپنی رحمت و عفو سے اس دن کی پریشانیوں سے محفوظ فرمائیں اور ہمارے عجزو ضعف پر نظر فرما کر ہمارے عیوب کو اپنی مغفرت سے ڈھانک لیں۔

’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:جانتے ہو مفلس کون ہے؟ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا:یا رسول اللہ! ہم میں مفلس و ہ شخص کہلاتا ہے جس کے پاس روپیہ پیسہ اور مال و متاع نہ ہو، رسول اللہﷺ نے فرمایا:میری امت میں مفلس وہ شخص ہے جو قیامت کے دن نماز ،روزہ اور زکوٰۃ لے کر ایسی حالت میں آئے گا کہ کسی کو گالی دی تھی، کسی پر تہمت لگائی تھی، کسی کامال کھایا تھا، کسی کا خون بہایا تھا، کسی کو مارا پیٹا تھا، پس یہ تمام لوگ اپنے حقوق کا بدلہ اس کی نیکیوں سے وصول کریں گے، اس کے ذمے جو لوگوں کے حقوق ہیں، اگر ان کے پورا ہونے سے پہلے نیکیاں ختم ہوگئیں تو اہل حقوق کے گناہ لے کر ا س پر ڈال دئیے جائیں گے، پھر اسے دوزخ میں پھینک دیا جائے گا۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے دوسری حدیث میں منقول ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ا س شخص پر رحم فرمائے جس کے ذمے اس کے بھائی کا کوئی غصب کردہ حق ہو، خواہ اس کی عزت و آبرو کے متعلق یا اس کے مال کے متعلق ، تو وہ اس کے پاس جا کر اس سے معاف کرالے، اس سے قبل کہ وہ(قیامت کے دن ان حقوق کی وجہ سے)پکڑا جائے اور وہاں کوئی درہم و دینار تو ہوگا نہیں (صرف نیکی اور بدی کا سکہ چلے گا اور انہی کے ذریعے وہاں حقوق کی ادائیگی ہوگی) پس اس شخص کے پاس اگر کچھ نیکیاں ہوئیں تو اس کی نیکیوں سے معاوضہ لیا جائے گا اور اگر اس کے پاس نیکیاں نہ ہوئیں تو لوگ( اپنے حقوق کے بدلے میں) اس پر اپنے گناہ ڈال دیں گے۔‘‘

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ایک تیسری حدیث میں روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا :قیامت کے دن اہل حق کو ان کے حق دلائے جائیں گے، یہاں تک کہ سینگ والی بکری سے بے سینگ بکری کا بدلہ دلایا جائے گا۔‘‘

تشریح:قیامت کا دن عدل و انصاف کا دن ہے، دنیا میں اگرکسی کا حق کسی کے ذمے رہ گیا تھا تو قیامت کے دن ہر صاحبِ حق کو اس کے حق کا معاوضہ دلایا جائے گا اور چونکہ وہاں نہ روپیہ پیسہ ہوگا، نہ کوئی اور سامان کسی کے پاس ہوگا، اس لئے حقوق کا معاوضہ نیکیوں اور بدیوں کی شکل میں دلایا جائے گا، یعنی جس کے ذمہ کسی کا کوئی حق باقی ہوگااس کی قیمت لگا کر اس شخص کی اتنی نیکیاں صاحب حق کو دلائی جائیں گی اور جب اس کی نیکیاں ختم ہوجائیں گی تو اصحابِ حقوق کے اتنے گناہ اس کے ذمے ڈالے جائیں گے، اس شخص کے مفلس ہونے میں کیا شک ہے جس کی عمربھر کی کمائی دوسرے لوگ لے جائیں اور جب وہ خالی ہاتھ ہوجائے تو لوگ اپنا بوجھ بھی اس کے ذمے ڈال دیں، اس لئے آنحضرتﷺ وصیت فرماتے ہیں کہ اگر کسی کا حق کسی کے ذمے واجب ہو تو دنیا ہی میں اسے ادا کردے یا معاف کرالے تاکہ قیامت کے دن رسوائی اور مطالبے سے بچ جائے۔

 ان احادیث طیبہ سے یہ معلوم ہوا کہ ہم جو دوسروں کی غیبتیں کرتے ہیں، ان کو گالی گلوچ کرتے ہیں، کسی کی تحقیر کرتے ہیں، کسی کو جسمانی یا ذہنی ایذاء پہنچاتے ہیں یاکسی کا مال ہضم کر جاتے ہیں، دراصل یہ اس کا نقصان نہیں بلکہ ہم اپنا نقصان کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ہمیں ان کا معاوضہ ادا کرنا ہوگا۔

 اکابر فرماتے ہیں کہ حقوق العباد کا معاملہ صرف انسانوں تک محدود نہیں بلکہ حیوانات تک پھیلا ہوا ہے، باوجودیکہ حیوانات احکام شرعیہ کے مکلف نہیں، لیکن اگر ایک بکری نے دوسری بکری سے زیادتی کی ہوگی تو اس کا بدلہ بھی دلایاجائے گا، پس انسان جو اپنی عقل و شعور کی بدولت مکلف ہے، اگر اس نے کسی جانور پر ظلم کیا ہوگا، اس کا بدلہ بھی اسے دلایا جائے گا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online