Bismillah

581

 ۱۹تا۲۵جمادی الاولیٰ۱۴۳۸ھ   ۱۷ تا۲۳فروری۲۰۱۷ء

حضرت سلیمان علیہ السلام (قرآن کے سائے میں) 576

قرآن کے سائے میں

حضرت سلیمان علیہ السلام

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 576)

البتہ اسرائیلی روایات سے ماخوذ ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں فرشتۂ اجل نے حاضر ہو کر پیغام سنایا کہ ان کی موت میں چند ساعتیں باقی ہیں تو انہوں نے یہ سوچ کر کہ کہیں’’جن‘‘تعمیر کو ناقص نہ چھوڑدیں فوراً جنوں سے آبگینہ کا ایک حجرہ بنوایا اور اس میں دروازہ نہیں رکھا اور خودا س کے اندر بند اور لاٹھی کے سہارے کھڑے ہو کر مشغول ِ عبادت ہوگئے اور اسی حالت میں موت کے فرشتے نے اپنا کام پورا کرلیا۔ تقریباً ایک سال تک حضرت سلیمان علیہ السلام اسی طرح کھڑے رہے اور’’جن‘‘ مشغول تعمیر رہے۔ لیکن جب وہ تعمیر کو مکمل کرکے فارغ ہوگئے تو اب حضرت سلیمان علیہ السلام کی لاٹھی میںدیمک پیدا ہو گئی اور اس نے لاٹھی کو چاٹ کر بے جان کردیا اور وہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا بوجھ برداشت نہ کر سکی اور حضرت سلیمان علیہ السلام زمین پر گر گئے۔تب جن سمجھے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کا عرصہ ہوا انتقال ہوگیا اور اپنی نادانی پر افسوس کرنے لگے۔( تفسیر ابن کثیر جلد۳ ص۵۶۹،۵۳۰)

غرض یہ اور اسی قسم کی روایات ہیںجو اسرائیلیات سے نقل ہو کر اس سلسلہ میں کتبِ تفاسیر میں بیان کی گئی ہیں اور نقل کرنے کے بعد محققین نے واضح کردیا ہے کہ ان کی حقیقت کیا ہے۔ تورات میں حضرت سلیمان علیہ السلام کی وفات کا واقعہ اس طرح ہے:

’’غرض ساری مدت کہ سلیمان علیہ السلام نے یروشلم میں سارے اسرائیل پر سلطنت کی، چالیس برس کی تھی اور سلیمان اپنے باپ دادوں کے ساتھ سورہا ہے اور اپنے باپ دادوں کے شہر صیہون میں گاڑدیا گیا اور اس کا بیٹارجعام اس کی جگہ بادشاہ ہوا۔‘‘( سلاطین اباب۱۱آیات۴۲۔۴۳)

اورقاضی بیضاویؒ نے نقل کیا ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی عمر ابھی تیرہ سال ہی کی تھی کہ حضرت دائود علیہ السلام کا انتقال ہوگیا اور وہ سریر آرائے سلطنت ہوئے اور تریپن سال کی عمر میں انتقال فرمایا۔ بیضاوی کا یہ قول غالباً تورات ہی سے ماخوذ ہے۔

بصائر

حضرت سلیمان علیہ السلام کے واقعات کو جس ترتیب اورتفصیل سے بیان کیاگیا ہے وہ صاحبِ بصیرت کو خود دعوتِ بصیرت دیتے پیغامِ عبرت سناتے اور ایک حقیقت ہیں۔ نگاہ کے سامنے اہم حقائق کے پردے چاک کرتے ہیں۔ تاہم ان میں سے یہ چند امور خصوصیت کے ساتھ قابلِ مطالعہ ہیں:

۱)اُمم سابقہ نے خدا کے سچے دین میں اپنی خواہشاتِ نفس کے زیر اثر جہاں اور بہت سی تحریفات کی ہیں ان میں سے ایک شرمناک تحریف خدا کے سچے پیغمبروں اور اولوالعزم رسولوں پر بہتان طرازی اور ان کی جانب بے ہودہ اور فحش انتسابات کے لئے بے جا اقدام بھی ہے۔

 اور اس معاملہ میں بنی اسرائیل کا قدم سب سے آگے ہے۔ وہ ایک جانب خدا کی ایک برگزیدہ ہستی کو نبی اور رسول بھی تسلیم کرتے ہیں اور دوسری جانب بغیر کسی جھجک کے شرمناک اور غیر اخلاقی امور کا انتساب بھی ان کے ساتھ وابستہ رکھتے ہیں۔ مثلاً حضرت لوط علیہ السلام اور ان کی بیٹیوں کا معاملہ نیز بعض انبیاء ورسل اور خدا کے جلیل القدر پیغمبروں کی رسالت و نبوت سے انکار کر کے ان پر مختلف قسم کے بہتان اور جھوٹے الزامات لگاناقابلِ فخر بات سمجھتے ہیں ۔ مثلاً حضرت دائود علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کا معاملہ۔

قرآن عزیز نے دین کے بارے میں سچائی اور اعلان حق کا بیڑااُٹھایا اور اصلاح ادیان کے ساتھ دین حق ( اسلام ) کی جو حقیقی روشنی عطا کی، اس کے ان احسانات میں سے ایک بڑا احسان یہ بھی ہے کہ جن انبیاء ورسل کا اس نے ذکر کیا ہے ان سے متعلق بنی اسرائیل کی خرافات وہزلیات کا مدلل رد کیا اور ان کے مقدس دامن کو عائد کردہ آلودگیوں سے پاک ظاہر کیا اور اس طرح اصل حقیقت کو آشکار ا کر کے کورباطنوں کی خباثت نفس کا پردہ چاک کردیا۔

 ۲)صدہزار قابل عبرت یہ بات ہے کہ جس گمراہی کو بنی اسرائیل نے اختیار کیا اور قرآن عزیز نے جس کو روشن اور واضح دلائل کے ساتھ مردود قرار دیا تھا۔ اس آلودگی سے ہمارا دامن بھی محفوظ نہ رہ سکا اور قرآن عزیز کی صاف اور روشن راہ کو چھوڑ کر ہم نے تحریف شدہ روایات بنی اسرائیل کو اسلامی روایات میں جگہ دینی شروع کردی۔

نبی اکرمﷺ نے ایک جگہ صرف یہ ارشاد فرمایا ہے کہ اہل کتاب کی جوروایات قرآن اور تعلیم اسلام کے منافی نہ ہوں ان کو نقل کرنا درست ہے لیکن ہم نے اس ارشاد مبارک کی بنیادی شرط’’کہ قرآن اور تعلیم اسلام کے خلاف نہ ہو‘‘کو نظرانداز کر کے ہمہ قسم کی اسرائیلی روایات کو نہ صرف نقل کیا بلکہ قرآن عزیز کی تفسیر وتوجیہ کے لئے ان کو دلیل بنا لیا او رجگہ جگہ تاویلات وتفسیر قرآن میں ان کو پیش کرنا شروع کر دیا ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک طرف تو غیر مسلموں نے ان روایات کو اسلامی روایات ظاہر کیا اور ان میں آب ورنگ پیدا کرکے اسلام کی بے لوث اور پاک تعلیم پر حملے شروع کردئیے اور ان کو اپنے ناپاک مقاصد کے لئے بہانہ اور حیلہ بنالیا اور دوسری جانب خودمسلمانوں میں الحادوزندقہ کے علم برداروں نے ان روایات کی آڑلے کر قرآن عزیز اور صحیح احادیث سے ثابت اور علم یقین( وحی الہٰی) سے حال حقائق( معجزات) حشر و نشر کے واقعات، جنت و جہنم کی تفصیلات سے انکار کے لئے راہ بنا لی اور ہر ایسے مقام پر بے سند یہ کہنا شروع کردیا کہ یہ تو ہمارے مفسرین نے عادت کے مطابق اسرائیلی اعتقادات سے اخذکرلیا ہے۔ حالانکہ اس واقعہ کے لئے خود قرآن عزیزیاحدیثِ رسولﷺ کی نص قطعی(یقینی صراحت ) موجود ہوتی ہے۔

چنانچہ سرسید،مولوی محمد حسن امروہوی، مولوی چراغ علی،غلام احمدقادیانی، محمد علی لاہوری کی تفاسیر قرآن اور تفسیری مضامین کی اساس اسی الحاد پر قائم ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online