Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

الفقہ 576

الفقہ

چند اہم عصری مسائل ازافادات مفتی زین الاسلام قاسمی…سے ماخوذ

(شمارہ 576)

ان احادیث سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدیوں کو قرّت نہیں کرنی ہے بلکہ خاموش رہنا ہے، نیز ان حدیثوں میں جہری و سری نمازوں کا کوئی فرق بھی مذکور نہیں، اس لیے یہ حکم سب نمازوں میں مقتدیوں کے لیے یکساں ہوگا۔ اب چند آثارِ صحابہ نقل کیے جاتے ہیں:

خلفائے راشدین امام کے پیچھے قرأت سے منع کرتے تھے:

قال( عبدالرحمن بن زید):اخبر نی اشیاخنا ان علیا رضی اللّٰہ عنہ قال:من قرأ خلف الامام فلاصلوٰۃ لہ، قال:واخبرنی موسیٰ بن عقبۃ: ان رسول اللّٰہﷺ و ابو بکروعمروعثمان کانوا ینھون عن القراء ۃ خلف الامام(مصنف عبدالرازق: رقم:۲۸۱۰،المکتب الا سلامی،بیروت)

ترجمہ:عبدالرحمن بن زید کہتے ہیں کہ ہمارے مشائخ نے خبر دی ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا: جو شخص امام کے پیچھے قرأت کرے اس کی نماز ہی نہیں، اور موسیٰ بن عقبہ نے مجھے خبردی کہ رسول اکرمﷺ ، ابوبکر، عمرو عثمان رضوان اللہ علیہم اجمعین امام کے پیچھے قرأت کرنے سے منع کرتے تھے۔

وکان عبداللّٰہ بن عمر لایقرأ خلف الامام(مؤطاالامام محمد:۹۹)

ترجمہ:حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ امام کے پیچھے قرأت نہیں کرتے تھے، امام شعبیؒ کہتے ہیں کہ میں نے ستر بدری صحابہ کو پایا ہے اور یہ سب کے سب مقتدی کو امام کے پیچھے قرأت کرنے سے منع فرماتے تھے، درکت سبعین بدریا کلھم یمنعون المقتدی عن القراء ۃ خلف الا مام( روح المعانی:۹/۱۵۲)

خلفائے راشدین، ستر بدری صحابہ کے افعال اور ان کے علاوہ دیگر صحابہ کرام کے آثار سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ مقتدیوں کو امام کے پیچھے قرأت کرنا منع ہے، جو حضرات امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی قرأت کو ضروری کہتے ہیں ان کی سب سے اہم دلیل حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث ہے جو محمد بن اسحاق نے روایت کی ہے، عن عبادۃ بن الصامت قال:کنا خلف النبیﷺ فی صلاۃ الفجر، فقرأ، فثقلت علیہ القراء ۃ، فلما فرغ قال:لعلکم تقرؤن خلف امامکم، قلنا:نعم! یارسول اللّٰہ! قال:لاتفعلواالا بفاتحۃ الکتاب، فانہ لا صلاۃ لمن یقرأبھا(ابودائود:رقم:۸۲۳،دارالفکر)

ترجمہ:حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی کریمﷺ کے پیچھے فجر کی نماز پڑھ رہے تھے، آپﷺ نے قرأت کی تو آپ کو قرأت میں دشواری ہوگئی، جب آپﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو فرمایا:شاید تم اپنے امام کے پیچھے قرأت کرتے ہو، ہم نے جواب دیا:جی ہاں یارسول اللہ! آپﷺ نے فرمایا:ایسا نہ کیا کرو، سوائے سورہ فاتحہ کے، کیونکہ جس نے اس کو نہیں پڑھا اس کی نماز نہیں، لیکن یہ حدیث سنداً ومتناً مضطرب ہے، اس لئے اس سے مذکورہ مسئلہ پر استدلال کرنا صحیح نہیں، معارف السنن میں علامہ بنوری رحمہ اللہ نے سند میں اضطراب کی آٹھ وجوہات اور متن میں اضطراب کی تیرہ وجوہات نقل کی ہیں:

فھذہ ثمانیۃ وجوہ من اخطرابہ فی الاسناد رفعاً ووقفاً وانقطاعاً و اتصالًا(معارف السنن:۳/۲۰۳،ط:دار الکتاب دیوبند) وامااضطراب متنہ فھو کذلک علی وجوہ…ثم قال:فھذہ ثلاثۃ عشر لفظافی حدیث عبادۃ( معارف السنن:۳ /۲۰۵) اسی وجہ سے امام احمد اور امام ابن تیمیہ اور دیگر ائمہ حدیث نے اس کو ضعیف قرار دیا ہے، وھذاالحدیث مطلل عند ائمۃ الحدیث بامورکثیرۃ ضعفہ احمد وغیرہ من الائمۃ الخ( فتاویٰ ابن تیمیہ:۲۳/۲۸۶) وقال النیموی:حدیث عبادۃ بن الصامت فی التباس القراء ۃ قدروی بوجوہ کلھا ضعیفۃ( آثارالسنن:۱/۷۹)

مذکورہ بالاآیات قرانیہ،احادیث مبارکہ،خلفائے راشدین اور ستر بدری صحابہ کے عمل سے یہ بات واضح ہوگئی کہ مقتدیوں کو امام کے پیچھے قرأت نہیں کرنی ہے،بلکہ خاموشی سے کھڑے رہنے کا حکم ہے۔ موجودہ دور کے غیر مقلدین امام کے پیچھے قرأت نہ کرنے کی وجہ سے احناف پر جو لعن طعن کرتے ہیں اور ان کی نمازوں کو قرآن و حدیث کے خلاف بتلاتے ہیں، وہ سراسر غلط اور گمراہ کن ہے۔ الحمدللہ احناف کا مذہب قرآن و حدیث سے ثابت و مبرہن ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم

عندالاحناف نماز میں رفع یدین کا حکم  احادیث و آثار کی روشنی میں

 سوال:کیا فرماتے ہیں علماء کرام ذیل کے مسئلہ میںکہ نماز میںرفع یدین کے سلسلے میں امام ابو حنفیہؒ کا کیا مذہب ہے؟ان کا قول قرآن و حدیث سے ثابت ہے یا نہیں؟ ہمارے یہاں کچھ لوگ ہیں جو احناف کی نمازوں کو رفع یدین نہ کرنے سے وجہ سے خلاف سنت کہتے ہیں، ان کا کہناکہاں تک درست ہے؟ آپ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔

الجواب وباللہ التوفیق:

تمہید

’’رفع یدین کے سلسلے میں احناف کا مسلک اور صحیح احادیث و آثار سے اس کے ثبوت کے بیان سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ چند باتیں بطور مقدمے کے عرض کردی جائیں۔

 ۱)تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین باجماع امت مستحب ہے(اوجز المسالک:ج۱ص۲۰۱یحیوی) اور باقی مقامات میں اختلاف ہے، امام شافعیؒ و امام احمدؒ تین مواقع پر رفع یدین کو مستحب قرار دیتے ہیں، باقی جگہ پر نہیں(الفقہ علی المذاہب الاربعہ:ج۱ص۱۲۶) امام ابو حنیفہ ؒ اور مشہور و معتمدقول کے مطابق امام مالکؒ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین مستحب سمجھتے ہیں، اور باقی جگہ ان کے نزدیک مکروہ ہے۔(الدرمع الرد:ج۱ص۳۴۷۔الفقہ علی المذاہب الاربعہ:ج۱ص۲۵۰)

۲)رفع یدین کے مسئلے میں اختلاف کامنشا اور وجہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں روایات بھی مختلف ہیں اور اکابر کا عمل بھی مختلف رہا ہے۔

 ۳)جس طرح امام شافعیؒ اور امام احمدؒ سات جگہوں میںسے’’ جن میں حدیث کے اندر رفع یدین کی صراحت ہے‘‘ صرف تین جگہوں پر رفع یدین کرنے کی وجہ سے تارکِ سنت نہیں کہلاتے، اسی طرح اگر امام ابو حنیفہؒ و امام مالکؒ دلائل وترجیحات کی بنا پر تحریمہ کے وقت رفع یدین کو سنت قرار دیں اور باقی مواقع پر مکروہ تو کوئی وجہ نہیں کہ ان کو تارکِ سنت کا خطاب دیا جائے۔

 ۴)رفع یدین کا مسئلہ چونکہ معرکۃ الآراء مسئلہ ہے، اس لیے موافق و مخالف دونوں میں سے ہر ایک نے دوسرے کے دلائل کو مختلف طریقوں سے کمزور کرنے کی کوشش کی ہے، مگر اس سلسلے میں ہمارے نزدیک صحیح اور راجح بات وہ ہے جو حضرت مفتی سعید احمد صاحب پالن پوری مدظلہ نے’’ادلۂ کاملہ/۲۸‘‘پر علامہ ابن الہمامؒ سے نقل کی ہے کہ دونوں طرح کی روایتیں حضورﷺ سے ثابت ہیں، یعنی رکوع میں جاتے وقت ہاتھ اُٹھانا اور نہ اٹھانا(فتح القدیر:ج۱ص۲۷۰) لہٰذا تعارض کی وجہ سے ترجیح کی ضرورت پیش آئے گی،نیز عمل کے اعتبار سے بھی دونوں باتیں حضورﷺ سے تواتر کے ساتھ ثابت ہیں(نیل الفرقدین:۳)

(جاری ہے)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online