Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

معارف سورۃ یوسف (حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ) 598

معارف سورۃ یوسف

از قلم: حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ (شمارہ 598)

حضرت شاہ صاحبؒ اس آیت کے تحت فرماتے ہیں:

’’حضرت محمدﷺ نے اپنے چچاکے واسطے سعی کی کہ مرتے وقت کلمہ ہی کہے اس نے قبول نہ کیا، اس پر یہ آیت اُتری۔‘‘( موضح القرآن)

اس آیت سے صاف صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ایمان لانے پر بھی’’ہدایت‘‘ کا لفظ بولاجاتا ہے۔

اس حقیقت کو اُجاگر اور منور کرنے کے بعد ہم کہتے ہیں کہ سورئہ والضحیٰ کی زیر نظر آیت ۷ کی سیاق و سباق کی مندرجہ ذیل دونوں آیات مقدسہ

الم یجدک یتیما فاوی

 کیا نہیں پایا آپ کو یتیم پس جگہ دی۔( آیت ۶)

 ووجدک عائلا فاغنی

اور پایا آپ کو مفلس پس غنی کیا۔( آیت ۸)

پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ

 آیت ۶ میں’’مادی یتیمی‘‘ اور’’مادی جگہ‘‘ کا ذکر ہے۔

 آیت ۸ میں’’مادی مفلسی‘‘ اور ’’مادی غنا‘‘ کا ذکر ہے۔

 بالکل اسی طرح ربطِ کلام کے لحاظ سے

ووجدک ضالا فھدی

اور پایا تجھ کو راہ بھول ہوا پس راہ دکھائی( آیت ۷)

(حضرت مولانا شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ)

 آیت ۷ میں بھی’’مادی راہ بھولنے‘‘ اور ’’مادی راہ  دکھانے‘‘ کا ذکر ہے۔

 نبی پاکﷺ کے ’’مادی راہ بھولنے‘‘ کا زمانہ مبارک وہ ہے جبکہ آپﷺ بچپن میں اپنے دادا جان حضرت عبدالمطلب سے راہ بھول کر الگ ہو گئے تھے اور’’مادی راہ دکھانے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا آپﷺ کو صحیح راستہ پر ڈالنا اور آپﷺ کا اپنے دادا جان کے پاس پہنچنا ہے( دیکھو ص ۲۰۶سطر ۲ تا ۴) علاوہ ازیں گو قرآن مجید کے نزدیک ہر واقعہ میں ترتیب زمانی ضروری نہیں مگر مندرجہ بالا تینوں آیات مقدسہ میں ترتیب زمانی ضرور موجود ہے ان تینوں آیات مبارکہ کا آپس میں گہرا تعلق اور ان میں یقینا ربط موجود ہے اس بات کی دلیل یہ ہے کہ رسول اکرمﷺ کے یتیمی کے زمانے میں آپﷺ کے چار ٹھکانے مشہور ہیں:

۱) آپﷺ کی حقیقی امی جان حضرت آمنہ

۲) آپﷺ کی رضاعی امی جان حضرت حلیمہ

۳)آپﷺ کے دادا جان حضرت عبدالمطلب

۴)آپﷺ کے چچا جان حضرت ابو طالب

 حضرت ابو طالب آپﷺ کی یتیمی کے آخری ٹھکانہ تھے۔ صاحبِ لولاک اور نبی پاکﷺ حضرت ابو طالب کے پاس ہی سنِ بلوغ کو پہنچے۔ رسول اکرمﷺ کا اُمّ المومنین حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے مال میں مضارب ہونے کا واقعہ سنِ بلوغت کے بعد کا ہے جس کا ذکر سورئہ والضحیٰ کی آٹھویں آیت میں موجود ہے( ووجد ک عائلا فاغنی) اس واقعہ کے یعنی سفر شام سے واپسی کے دو ماہ اور پچیس دن بعد حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ کو نکاح کا پیغام بھیجا( سیرت المصطفیٰﷺ جلد اول ص ۸۳) اور یہ بات مشہور ومعروف ہے کہ نکاح کے وقت آپﷺ کی عمر مبارک پچیس سال تھی اور اس بات پر اتفاق ہے کہ آپﷺ کو نبوت نکاح کے بعد ملی تھی۔ پس اس سے یہ بات خوب چمک اور دمک اُٹھی کہ

ووجدک ضالا فھدی

اور پایا تجھ کو راہ بھولا، پس راہ دکھائی( آیت ۷)

کازمانہ یقینی طور پر

ووجدک عائلا فاغنی

اور پایا آپ کو مفلس پس غنی کیا( آیت ۸)

 سے پہلے کا ہے اور یہ وہی زمانہ ہے جب آپﷺ اپنے دادا جان سے راستہ بھول کر جدا اور الگ ہوگئے تھے۔

 اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس وقت رسول اللہﷺ کی عمرشریفہ کتنی تھی؟ تو اس سوال کا جواب یہ ہے کہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ تحریر فرماتے ہیں:

’’دوسال تک آپﷺ اپنے دادا عبدالمطلب کی تربیت میں رہے جب عمر شریف آٹھ سال کو پہنچی تو عبد المطلب بھی اس عالم سے رخصت ہوئے۔( سیرت المصطفیٰﷺ جلد اول ص۶۵)

اُمّ ایمن کہتی ہیں کہ جس وقت عبدالمطلب کا جنازہ اٹھا تو آپﷺ کو دیکھاکہ آپﷺ جنازے کے پیچھے روتے جاتے تھے۔( طبقات ابنِ سعد ج اص ۷۵)

ایک مرتبہ آپﷺ سے دریافت کیا گیا کہ آپﷺ کو عبدالمطلب کا مرنا یاد ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: ہاں میری عمر اس وقت آٹھ سال کی تھی۔( دلائل ابی نعیم:ج۱ ص۵۱۔ سیرت المصطفیٰﷺ جلد اول ص۶۵)

 حضرت مولانا علامہ شبلی نعمانیؒ تحریر فرماتے ہیں:

 ’’عبدالمطلب کی کفالت: والدہ ماجدہ کے انتقال کے بعدعبدالمطلب نے آنحضرتﷺ کو اپنے دامن تربیت میں لے لیا، ہمیشہ آپﷺ کو اپنے ساتھ رکھتے تھے۔

عبدالمطلب نے بیاسی برس کی عمر میں وفات پائی اور حجون میں مدفون ہوئے، اس وقت آنحضرتﷺ کی عمر آٹھ برس کی تھی۔( سیر ت النبیﷺ جلد اول ص ۱۸۰)

 مندرجہ بالا بیانات سے یہ معلوم ہواکہ جب نبی کریمﷺ کو آپ کے دادا جان نے اپنی کفالت میں لیا تو اس وقت آپﷺ کی عمر مبارک چھ سال اور جب حضرت عبدالمطلب کی وفات ہوئی تو آپﷺ کی عمر شریف آٹھ برس تھی۔

 نتیجہ یہ کہ آنحضرتﷺ کا راستہ بھولنے کا واقعہ چھ سال کی عمر سے لے کر آٹھ سال کی عمر تک کے زمانہ میں رونما ہوا۔ اور یہ بات عقل سلیم بھی تسلیم کرتی ہے کیونکہ اس عمر میں ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں۔ پس ان دونوں تفسیروں سے کسی تفسیر پر بھی اعتراض وارد نہیں ہوتا پس مسیحی علماء کا اعتراض محض قرآن وحدیث سے لاعلمی کی دلیل ہے۔

 خوشخبری لانے والا آ پہنچا

بالآخر خوشخبری لانے والا حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمتِ عالیہ میں حاضر ہوا تو دو کام رونما ہوئے:

 اول:۔ القہ علی وجھہ

حضرت یوسف علیہ السلام کے کرتے کو حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرہ انور پر ڈال دیا۔

 دوم:۔فارتدبصیرا

پھر لوٹ کر ہوگیا دیکھنے والا( بینا)

 حضرت یعقوب علیہ السلام کی خدمت عالیہ میں دو مرتبہ حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتہ مبارک لایاگیا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online