Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 598

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 598)

جنت کے دروازوں کا بیان

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:میری اُمت کا دروازہ جس سے وہ جنت میں داخل ہوگی( اتنا وسیع اور کشادہ ہے کہ) اس کی پہنائی تیز رفتار گھڑ سوار کی تین دن ( یا تین سال) کی مسافت ہے، اس کے باوجود اس قدر بھیڑ ہوگی کہ(کھوے سے ) کھواچلتا ہوگا اور قریب ہوگا کہ ان کے کندھے اُتر جائیں۔‘‘

تشریح:جنت کے دروازے کی وسعت کے بارے میں متعدد احادیث وارد ہوئی ہیں، چنانچہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا:جنت کے دوپٹوں کے درمیان چالیس سال کی مسافت ہے۔( رواہ احمد و ابو یعلی)

حضرت معاویہ بن حیدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: تم پورا کروگے ستر امتوں کو جن میں تم سب سے آخر میں ہو اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک سب سے معزز ہو اور جنت میں دوپٹوں کے درمیان کا فاصلہ چالیس برس کی مسافت ہے اور اس پر ایک دن آئے گا کہ وہ( کثرت ازدحام کی وجہ سے) گھٹا ہوا ہوگا۔( رواہ احمد ورجالہ ثقات)

حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے فرمایا: جنت میں دوپٹوں کے درمیان کا فاصلہ چالیس سال کی مسافت ہے اور اس پر ایک دن آئے گا کہ اس پر ایسا ازدحام ہوگا جیسے پانچ دن کے پیاسے اونٹ پانی پر جائیں تو ان کا پانی پرازدحام ہوتا ہے( رواہ الطبرانی وفیہ رزیک بن ابی رزیک ولم اعرفہ وبقیۃ رجالہ ثقات، مجمع الزوائد: ج۱۰ ص ۳۷۴)

خالد بن عمیر کہتے ہیں کہ حضرت عتبہ بن غزوان نے( جو بصرہ کے امیر تھے) ہمیں خطبہ دیا، اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا کے بعد فرمایا:دنیا خاتمے کا اعلان کرچکی ہے اور تیزی سے ختم ہوتی ہوئی بھاگ رہی ہے اور اس میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہا سوائے تلچھٹ کے، جیسے برتن میں تلچھٹ رہ جاتی ہے جس کو اس کا مالک چوستا ہے اور تم یہاں سے ایک ایسے گھر کی طرف منتقل ہو گے جس کے لئے زوال نہیں، پس جو کچھ تمہارے پاس موجود ہے اس سے بہتر کے ساتھ وہاں منتقل ہو، کیونکہ ہم سے یہ ذکر کیا گیا ہے کہ ایک پتھر جہنم کے منڈیرسے پھینکا جائے گا، وہ ستر سال تک اس میں گرتارہے گا لیکن اس کی گہرائی تک نہیں پہنچے گا، اور اللہ کی قسم ! وہ جہنم البتہ بھر دی جائے گی، کیا تمہیں تعجب ہے؟

اورہم سے ذکر کیا گیا کہ جنت کے دروازے کے دوپٹوں کا فاصلہ چالیس برس کی مسافت کا ہوگا اور اس پر ایک دن ایسا آئے گا کہ وہ ہجوم کی وجہ سے پٹا ہوا ہوگا اور میں نے اپنے آپ کو دیکھا ہے کہ میں رسول اللہﷺ کے ساتھ سات میں سے ساتواں آدمی تھا اور ہمارے پاس درخت کے پتوں کے سوا اور کوئی خوراک نہیں تھی، یہاں تک کہ پتے کھاتے کھاتے ہماری باچھیں چھل گئیں، پھر مجھے ایک چادر پڑی مل گئی۔میں نے چیر کر اس کے دوحصے کر لئے، ایک حصے کی لنگی میں نے باندھ لی اور دوسرے حصے کی سعد بن مالک نے۔ آج ان ساتوں میں ہر ایک کسی نہ کسی شہر کا امیر ہے اور میں اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ میں اپنے جی میں بڑا بنتا پھروں اور اللہ تعالیٰ کی نظر میں چھوٹارہوں اور دیکھو! کبھی کوئی نبوت نہیں ہوئی مگر رفتہ رفتہ اس کے آثار مٹتے گئے، اور آخر کار ملوکیت رہ گئی، اب تم کو ہمارے بعد کے امراء سے سابقہ پڑے گااور تم ان کا تجربہ کروگے۔( صحیح مسلم :ج۲ ص ۲۰۸)

مذکورہ بالا احادیث میں جنت کے دروازے کی مسافت چالیس برس کی ذکر کی گئی ہے اور ترمذی کی حدیث الباب میں تیز رفتار گھوڑے کی رفتار سے تین دن یا تین برس کی مسافت ذکر کی گئی ہے ۔ترمذی کی روایت اول تو کمزور ہے، جبکہ امام ترمذیؒ نے تصریح فرمائی ہے علاوہ ازیں یہ تو جیہ بھی ہو سکتی ہے کہ کم مقدار میں حصر مقصود نہیں بلکہ مراد اس سے طول مسافت کا ذکرکرنا ہے اس لئے جن احادیث میں زیادہ مسافت آئی ہے، یہ ان کے منافی نہیں۔

جنت کے بازار کا ذکر

حضرت سعید بن مسیب ؒ سے روایت ہے کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے ان کی( مدینہ کے بازار میں) ملاقات ہوئی تو حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ مجھے اور آپ کو جنت کے بازار میں جمع کردیں۔ حضرت سعید ؒ نے عرض کیا: کیا جنت میں بازار بھی ہوگا؟ فرمایا : ہاں! مجھے رسول اللہﷺ نے بتایا کہ اہل جنت جب جنت میں داخل ہوں گے تو اپنے اپنے اعمال کے مطابق اس( کے درجات) میں فروکش ہوجائیں گے، پھر ان کو دنیا کے دنوں کے (ہفتے کے حساب سے) جمعہ کے دن کی مقدار میں( بارگاہِ الہٰی کی) حاضری کی اجازت دی جائے گی، پس وہ اپنے رب کی زیارت کریں گے اور جنت کے باغات میں سے ایک باغ میں ان کے سامنے عرش الہٰی ظاہر ہوگا اور حق تعالیٰ شانہ تجلّی فرمائیں گے، پس ان کے لئے( حسب مراتب) منبر رکھے جائیں گے، ان میں سے بعض کی نشست نور کے منبروں پر ہوگی، بعض کی موتی کے منبروں پر، بعض کی یاقوت کے منبروں پر، بعض کی زبرجد کے منبروں پر، بعض کی سونے کی منبروں پر، بعض کی چاندی کے منبروں پر اور ان میں سے جو حضرات سب سے کم مرتبہ ہوں گے اور ان میں کوئی شخص بھی بذات ِخود کم مرتبہ نہیں ، وہ مشک و کافور کے ٹیلوں پر بیٹھیں گے، ان حضرات کو یہ خیال نہیں ہوگاکہ جو حضرات کرسیوں اور منبروں پر تشریف فرماہیں ان کی نشست ان سے بہتر ہے…جاری ہے

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online