Bismillah

614

۲۹محرم الحرام تا۵صفر۱۴۳۸ھ   بمطابق ۲۰تا۲۶اکتوبر۲۰۱۷ء

حضرت ذوالکفل علیہ السلام (قرآن کے سائے میں) 598

قرآن کے سائے میں

 حضرت ذوالکفل علیہ السلام

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 598)

ایک غلطی فہمی کا ازلہ

امام احمدبن حنبلؒ نے اپنی مسند میں حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما سے ایک روایت نقل کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے ایک مرتبہ ارشاد فرمایا:بنی اسرائیل میں ایک شخص کفل تھا، انتہادرجہ کا فاسق و فاجر ایک مرتبہ اس کے پاس ایک حسین و جمیل عورت آئی۔ کفل نے اس کو ساٹھ دینار دے کر زنا پر راضی کرلیا۔ لیکن جب اس نے عورت کے ساتھ مباشرت کا ارادہ کیا تو وہ کانپنے اور زارزار رونے لگی۔ کفل نے دریافت کیا: کیوں روتی ہے کیا تو مجھ سے نفرت کرتی ہے؟عورت نے جواب دیا: یہ بات تو نہیں ہے بلکہ اصل بات یہ ہے کہ میں نے ساری عمر اس بدعمل کو نہیں کیا۔ مگر آج ضرورت اور پیٹ کی خاطر اپنی عصمت کو برباد کر رہی ہوں۔ یہ نشتر ہے جو مجھ کو آہ زاری کے لئے مجبور کررہا ہے۔ کفل نے یہ سنا تو فوراً اس سے الگ ہو گیا اور کہنے لگا :جو کارِ بد تو نے کبھی نہیں کیا، آج وہ محض فقروفاقہ کی خاطر کرے یہ کبھی نہ ہوگا، جاعصمت و عفت کے ساتھ اپنے گھر واپس جا اور یہ دینار بھی تیری ملک ہیں ان کو اپنے کام میں لا اور پھر کہنے لگا: قسم بخدا! آج کی گھڑی سے کفل اب کبھی خدا کی نافرمانی نہیں کرے گا۔ حسن اتفاق کہ اسی شب میں کفل کا انتقال ہوگیا اور صبح کو لوگوں نے دیکھا کہ غیب کے ہاتھ نے اس کے دروازہ پر یہ بشارت لکھ دی ہے ’’کفل کو بے شبہ خدا نے بخش دیا‘‘

اس روایت میں ذوالکفل نہیں بلکہ فقط کفل مذکور ہے اور یہ حضرت ذوالکفل کے سوا اور دوسرا کوئی شخص ہے اس لئے یہ مغالطہ نہ ہونا چاہئے کہ یہ حضرت ذوالکفل علیہ السلام کا واقعہ ہے۔

موعظت

اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جس نے اپنی’’دعوت حق‘‘ کی بنیاد اس اصل پر قائم کی ہے کہ ملک کو قوم اور نسل و خاندان کے تفرقوں سے بالا ترہوکر یہ اعتراف کرنا چاہئے کہ پیغام حق اپنی اساس و بنیاد میں کسی حد بندی اور گروہ بندی کا محتاج نہیں ہے اور نہ وہ کسی فرقہ کی اجارہ داری قبول کرتا ہے۔ اس لئے کہ ذات حق( جلّ مجدہ) جبکہ یکتا اور بے ہمتا ہے تو بلاشبہ اس کا پیغام حق بھی ایک ہی ہوناچاہئے اور وہ ایک ہی ہے اور اس کی صدائے حق نیوش ازل سے اب تک کالے اور گورے، عجمی اور عربی، ایشیائی اور یورپی ،امریکی اور افریقی ، سب بندھنوں سے بے قید یکساں طور پر تغیر و تبدل سے آزاد سب ہی پر حاوی اور سب ہی میں جاری و ساری ہے۔

البتہ ہر ایک زمانہ کے حالات و کیفیات اور وقتی تقاضوں نیز اقوام وامم کے نشووار تقاء اور ان کی فکری و عملی صلاحیتوں کے پیش نظر اس میں یہ لچک ضروررہی ہے اور رہنی چاہئے تھی کہ اساس و بنیاد متاثر ہوئے بغیر اس پیغام حق کی تفصیلات و احکامات جداجدا ہوں یہاں تک کہ روحانی نشووار تقاء اپنے حد کمال کو پہنچ جائے اور نسانی فکر و نظر کا شعور کمال عروج حاصل کرلے۔

 پس دینی اور روحانی اصطلاح میں پیغامِ حق کی اس نہ بدلنے والی حقیقت کو’’دین‘‘ کہتے ہیں اور حق تعالیٰ نے اسی کو’’اسلام‘‘ کے ساتھ معنون کیا ہے:

ان الدین عنداللّٰہ الاسلام( آل عمران)

 بلاشبہ دین اللہ کے نزدیک اسلام ہی ہے

ومن یبتغ غیرالاسلام دینا فلن یقبل منہ

اور جو شخص بھی اسلام کے سوادین کے نام سے کسی شے کا متلاشی ہے اس کی یہ خواہش خدا کے حضور میں ناقابل قبول ہے۔

ھوسماکم المسلمین من قبل وفی ھذا( حج)

 اسی(خدا) نے تمہارا( انسانوں) کا نام قرآن کے نزول سے پہلے بھی اسلام رکھا اور اس قرآن میں بھی یہی نام دیا۔

 اور اس حقیقت کی بدلتی ہوئی کیفیات اور وقتی حوادث کے زیر اثر احکامات و تفصیلات کا نام ’’ منہاج و شریعت‘‘ رکھا ہے۔

 لکل جعلنا منکم شرعۃ ومنھاجا(مائدہ)

تم میں سے ہر ایک کے لئے ہم نے جدا جدا راستے( شریعتیں) اور طریقے مقرر کردئیے ہیں۔

 اور روحانی ودینی نشوونما اور عروج وار تقاء کے حدکمال کو’’اکمال دین‘‘ اور’’اتمام نعمت‘‘ فرمایا ہے۔

الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا( المائدہ)

 مسلمانو! آج ہم نے تمہارے دین کو کامل واکمل کردیا اور تم پر اپنی نعمت کو پورا کردیا اور تمہارے لئے اسلام کو دین کے اعتبار سے پسند کرلیا۔

تواب حاصل یہ نکلا کہ آدم علیہ السلام سے شروع ہو کر محمدﷺ کے دور تک تمام نبیوں اور رسولوں کا دین اور خدا کا دیا ہوا پیغام حق ہمیشہ ہمیشہ ایک ہی رہا ہے، جس کا نام اسلام ہے۔ البتہ انبیاء ومرسلین کے اپنے اپنے زمانوں میں بلاشبہ حق تعالیٰ کی جانب سے احکامات اور تفصیلات جدا جدا رہی ہیں جس کو’’شریعت‘‘ اور ’’منہاج‘‘ کہا جاتا ہے اور جب روحانی ارتقاء اور دینی فکر و شعور بلوغ و کمال کی حد پر پہنچ گیا تو رسول پاکﷺ کی معرفت ان تمام شریعتوں کو آخری شریعت محمدی میں جذب کردیا گیا اور ہمیشہ کے لئے اس کا دائرہ جغرافیائی حدود سے بالا تر تمام عالم و کائنات پر حاوی کردیا گیا۔

وماارسلناک الا کافۃ للناس بشیرا ونذیرا

 اور ہم نے آپ کو تمام کائنات انسانی کے لئے بشیر و نذیر بنا کر بھیجا ہے۔( سبا)

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online