Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری) 598

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری)

مترجم: مولانا طلحہ السیف (شمارہ نمبر 598)

اس سے میں یہ سمجھا کہ جب وہ لوگوں پر جھوٹ نہیں باندھتے تو اللہ تعالیٰ پر کیونکر جھوٹ بولیں گے اور میں نے تم سے پوچھا کہ کیا کوئی ان کے دین میں آنے کے بعد اسے برا سمجھ کر پھر بھی جاتا ہے، تم نے کہا نہیں اور ایمان کی یہی حالت ہوتی ہے، جبکہ اس کی بشاشت قلب میں راسخ ہوجاتی ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ ان کے پیرو کار بڑھتے جاتے ہیں یا کم ہوتے جاتے ہیں، تم نے کہا بڑھتے جاتے ہیں اور ایمان کی یہی حالت ہوتی ہے تاآنکہ وہ کمال تک پہنچ جاتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ کبھی ان سے لڑے ہو، تم نے کہا ہم لڑے ہیں اور ہماری اور ان کی لڑائی ڈول کی طرح برابر رہی ہے، کبھی وہ تمہارا نقصان کرتے ہیں اور کبھی تم ان کا اور اسی طرح انبیاء کرام کی آزمائش ہوتی ہے اور انجام کار ان ہی کے ہاتھ میں رہا کرتا ہے اور میں نے تم سے پوچھا کہ وہ عہد شکنی کرتے ہیں، تم نے کہا، نہیں اور انبیاء کرام کا یہی حال ہے کہ وہ عہد شکنی نہیں کرتے اور میں نے تم سے پوچھاکہ ان سے پہلے بھی کسی نے نبوت کا دعویٰ کیا ہے۔ تم نے کہا نہیں، یہ میں نے اس لیے پوچھا کہ اگر ان سے پہلے کسی نے یہ دعویٰ کیا ہوتا تو گمان ہوتا کہ اس نے بھی اس کی پیروی کی ہے، پھر ہرقل نے کہا: وہ تمہیں کن باتوں کا حکم کرتے ہیں؟ میں نے کہا: وہ ہمیں نماز پڑھنے، زکوٰۃ دینے، صلہ رحمی کرنے اور پاکدامنی کا حکم کرتے ہیں، ہرقل نے کہا: اگر ان کا یہی حال ہے جو تم نے بیان کیا تو پھر یقیناً وہ پیغمبر ہیں اور میں جانتا ہوں کہ ایک پیغمبر مبعوث ہونے والے ہیں، مگر میرا یہ خیال نہیں تھا کہ وہ تم میں سے ہوں گے اور اگر میں یہ سمجھتا کہ ان تک پہنچ جائوں گا، تو میں ان کی ملاقات کو پسند کرتا اور اگر میں وہاں موجود ہوتا تو ان کے قدم مبارک دھوتا اور ضرور ان کی حکومت یہاں تک آجائے گی جہاں اب میرے دونوں قدم ہیں، پھر ہرقل نے آنحضرتﷺکا والا نامہ منگوایا اور اسے پڑھا، اس میں یہ لکھا تھا:

بسم اللہ الرحمن الرحیم! یہ خط محمد رسول اللہ کی جانب سے حاکم روم ہرقل کے نام ہے۔ جو ہدایت کا پیرو ہو اس پر سلامتی ہو

امابعد! میںتم کواسلام کی دعوت دیتا ہوں، اسلام لے آئو سلامت رہو گے، اسلام لے آئو تو اللہ تعالیٰ دوہرا اجردے گا اور اگر روگردانی کروگے تو رعایا کا گناہ بھی تمہارے سر پر رہے گا یااہل الکتاب تعالواالی کلمۃ سواء بیننا وبینکم ان لا نعبد الا اللّٰہ ولا نشرک بہ شیئا ولا یتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون اللّٰہ فان تولوا فقولوا اشھدوا بانا مسلمون

 جب ہرقل خط پڑھ کر فارغ ہوا، تو اس کے سامنے چیخ وپکار مچ گئی اور شور وغوغا خوب ہونے لگا، ہمیں باہر چلے جانے کا حکم دے دیا، ہم باہر چلے آئے، میں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: اب تو ابن ابی کبشہ (حضور) کی بڑی بات ہوگئی ان سے توشاہ روم بھی ڈرتا ہے، اس وقت سے برابر مجھے یقین ہوگیا کہ آنحضرتﷺکی بات ضرور غالب آکر رہے گی، بالآخر اللہ تعالیٰ نے مجھے مشرف باسلام کردیا۔

حدیث۸۴:حسن حلوانی، عبد بن حمید، یعقوب بن ابراہیم بن سعد، بواسطہ اپنے والد صالح بن شہاب سے اسی سند کے ساتھ روایت مروی ہے اور اتنی زیادتی ہے کہ جب ایران کی فوج کو اللہ تعالیٰ نے شکست دی تو قیصر حمص سے ایلیا (بیت المقدس) کی طرف اس فتح کا شکر ادا کرنے کے لیے گیا اور اس حدیث میں ’’من محمد عبداللّٰہ ورسولہ‘‘ کے الفاظ ہیں اور ’’اریسین‘‘ کے بدلے ’’داعیۃ الاسلام‘‘ ہے۔

حدیث۸۵: نبی اکرمﷺکی دعوت دین اسلام کے لیے کافر بادشاہوں کے نام خطوط!

یوسف بن حماد المعنی، عبدالاعلیٰ، سعید، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے قیصر، کسریٰ، نجاشی اور ہر ایک حاکم کی طرف لکھا، آپﷺانہیں اللہ رب العزت کی طرف دعوت دیتے تھے اور یہ نجاشی وہ نہیں ہے کہ جس کی رسالت مآبﷺنے (غائبانہ) نماز جنازہ پڑھی (بلکہ یہ دوسرا ہے)

حدیث۸۶: محمد بن عبداللہ الرازی، عبدالوہاب بن عطاء، سعید، قتادہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، رسول اللہﷺسے حسب روایت مروی ہے، باقی آخری جملہ کہ یہ نجاشی وہ نہیں ہے جس پر رسول اللہﷺنے نماز جنازہ پڑھی ہے، مذکور نہیں ہے، نصر بن علی الھضمی بواسطہ اپنے والد خالد بن قیس، قتادہ، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے حسب سابق روایت مروی ہے باقی اس میں یہ جملہ مذکور نہیں کہ یہ نجاشی وہ نہیں جس پر رسول اللہﷺنے نماز پڑھی۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online