Bismillah

606

۲۵ذیقعدہ تا۱ذی الحجہ۱۴۳۸ھ  بمطابق    ۱۸تا۲۴ اگست ۲۰۱۷ء

الفقہ 598

الفقہ

’’ڈاڑھی اور انبیاء کی سنتیں‘‘ مؤلفہ: حضرت مولانا مفتی سعیداحمد پالنپوری…سے ماخوذ

(شمارہ 598)

۳)…باغ کی دیوار تزئین کی محتاج نہیں!

کچھ منچلے کہتے ہیں کہ ظاہری آرائش کی کیا حاجت ہے، باطن کی اصلاح کافی ہے، دیکھئے شاعر کہتا ہے ؎

 نباشد اہل باطن درپئے آرائش ظاہر

 بنقاش احتیاجے نیست دیوار گلستان را

ترجمہ:صاحب دل، ظاہری ٹیپ ٹاپ کے درپے تھوڑے ہوتے ہیں! باغ کے گل و گلزار ہی زیب و زینت کے لئے کافی ہیں، دیوار میں گل کاری کی کیا حاجت ہے؟

جواب:الکلمۃ حق ارید بھاالباطل(بات تو صحیح ہے مگر مطلب غلط اخذ کیا گیا ہے) باغ کی دیوار میں گل کاری کی حاجت نہیں ہے لیکن دیوار کی تو حاجت ہے؟ اگر دیوار ہی نہ ہو تو اس باغ کا خدا حافظ!

ڈاڑھی اور اسی طرح کے تمام شعائر مؤمن کے لئے دیوار کی مثال ہیں جو اس کے ’’ملی وجود‘‘ کی حفاظت کرتے ہیں۔

ظاہری ٹیپ ٹاپ کی تو اسلام نے خود ہی ممانعت فرمائی ہے، حدیث شریف میں حضورﷺ نے روزانہ تیل کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے اور گاہے گاہے تیل کنگھی کرنے کا حکم فرمایا ہے۔

اس حدیث کے معنی علمائے کرام نے یہی لکھے ہیں کہ حضورپاکﷺ کے فرمان کا مطلب یہ ہے کہ مومن کو ہر وقت ٹیپ ٹاپ اورزیبائش کے پیچھے دیوانہ نہیں بنا رہنا چاہئے، حسب ضرورت اس کی طرف توجہ دینی چاہئے۔

بہرحال ڈاڑھی دیوارگلستان کی گل کاری نہیں ہے بلکہ خوددیوارہے، اس کے بغیر مومن کے’’باغ ملت‘‘ کی حفاظت ہی مشکل ہے۔

 ۴)…کیا ڈڑھیل دھوکہ باز ہوتا ہے؟

بعض حضرات کہتے ہیں کہ ڈاڑھی والے مکار ہوتے ہیں اور دھوکا دینے کے لئے ثقہ صورت بنا کر سامنے آتے ہیں۔

 جواب: معلوم ہواکہ دل آپ کا بھی گواہی دیتا ہے بلکہ بے اختیار زبان بھی اس کا اقرار کرتی ہے کہ ثقہ ہونے میں ڈاڑھی کو بڑادخل ہے اور جیسے کسی کے روزہ، نماز اور حج سے کوئی دھوکہ کھاتا ہے اسی طرح ڈاڑھی سے بھی دھوکہ کھاتاہے مگر میرے عزیزو! یہ تو بتائو کہ بیچاری ڈاڑھی کو دھوکہ دینے میں کیا دخل ہے؟ جس شخص میں مکاری اور دھوکہ دہی کا اخلاقی عیب موجود ہوگا وہ تو ڈاڑھی منڈائے گا تب بھی دھوکہ دے گا۔

 آنحضرتﷺ کے زمانہ میں بھی ایسے لوگ موجود تھے جو منافقانہ اسلام لائے تھے اور مسلمانوں کو ان سے دھوکہ ہوتا تھا مگر ان کے خداع ومکر کی وجہ سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ مسلمان دھوکہ باز منافق ہوتے ہیں بلکہ یوں کہا جائے گاکہ بعض دھوکہ باز بھی مسلمان بن جایا کرتے ہیں۔ اسی طرح یوں نہ فرمائیے کہ ڈاڑھی والے مکار ہوتے ہیں کہ اس کا اثر عیاذ اً باللہ حضرات انبیاء تک پہنچتا ہے ہاں یوں فرمائیے کہ بعض دھوکہ باز بھی ڈاڑھی رکھا کرتے ہیں مگراچھی چیز تو بہر حال اچھی ہے کیسے ہی برے کے پاس کیوں نہ چلی جائے۔

 آپ حضرات سے تو یہ عرض ہے کہ وہ مکار ہے تو آپ تو ماشاء اللہ ذکی ہیں، آپ دھوکہ نہ کھائیے اور اس کی چال میں ہرگز نہ آئیے، مگر بے قصور ڈاڑھی پر تو الزام نہ لگائیے۔

 بلکہ دعا کیجئے کہ اس تشبہ بالانبیاء کی برکت سے حق تعالیٰ مسلمان بھائی کو اخلاص نصیب فرمائے اور اے کاش وہ یہی سمجھ کر مکاری سے باز آجائے کہ’’بدنام کنندئہ نیکو ناماں‘‘بن رہا ہوں۔ (ڈاڑھی کی قدروقیمت )

 ۵)…ڈاڑھی رکھنے میں اغیار کی مشابہت لازم آتی ہے

 بعض حضرات کا خیال ہے کہ ڈاڑھیاں رکھنے سے اسلامی چہرے ان اقوام کے چہروںکے مشابہ ٹھہرجاتے ہیں جو ڈاڑھی مونچھ رکھنا اور انہیں دراز کرنا ضروری جانتی ہیں جیسے سکھ اوریہود وغیرہ۔

جواب :اس کا علاج شریعت نے مونچھیں کتروانے اور پست کرادینے سے کیا ہے کیونکہ یہ اقوام جہاں ڈاڑھیاں چھوڑنا ضروری سمجھتی ہیں وہیں مونچھیں دراز رکھنا بھی ضروری جانتی ہیں، اس لئے حدیث میں حفواالشوارب (مونچھیں پست کرو) کا حکم ریش درازی کے دوش بدوش موجود ہے، جس سے فی الجملہ مسلم وغیر مسلم چہرے پھر بھی ممتاز ہی رہتے ہیں اور اگر کسی قوم میں مونچھیں کتروانے کا سلسلہ بھی قائم ہو جیساکہ یہود اور کائست قومیں مونچھوںکو زائد ازلب ترشوا دیتی ہیں، اس لئے شریعت نے ڈاڑھیوں کو زائد ازیک مشت کترادینا مباح فرمادیا ہے تاکہ ان قوام سے پھر بھی امتیاز باقی رہے،کیونکہ بہت بڑھی ہوئی ڈاڑھیوں کو زائد ازیک مشت لے کر ان کو مہذب بنالینے کا کوئی طریقہ ان اقوام میںرائج نہیں ہے، حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :

کان رسول اللّٰہﷺ یاخذ لحیتہ من عرضھا و طولھا

ترجمہ: رسول اللہﷺ اپنی ریش مبارک کو طول سے بھی درست کرتے تھے اور عرض سے بھی درست کرتے تھے۔

 بہر حال ڈاڑھی میں ان حدود کی رعایت ہر ایک قوم سے تشبہ قطع کراکر ایک مسلم کو تشبہ بالانبیاء کے دائرے میں لے آتی ہے اور مسلم و کافر چہروں میں امتیاز تام پیدا ہوجاتا ہے( التشبہ فی الاسلام)

 ۶)…خوشا آمد تو درملتِ ما

 ہاں اگر کوئی کا فربعینہٖ مسلم چہرہ بنائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ وہ اسلامی حدود کی رعایت کر کے اسلام کے قریب ہو رہا ہے اور اپنے مذہب کے خلاف اسلام سے محبت و شغف کا اظہار کررہا ہے ،سواس سے تشبہ قطع کرنے کی اس واسطے ضرورت نہیں ہے کہ وہ خود ہم سے تشبہ کررہا ہے اور اس حالت میںقطع تشبہ اس سے نہ ہوگا بلکہ خود اپنے اور اپنے شعائر سے ہوگا،وھوکما تریٰ( التشبہ فی الاسلام)

۷)… معیار حق

بعض حضرات کہتے ہیں کہ ترکی ، مصر اور حجاز میں مسلمان بھی توڈاڑھیاں منڈاتے ہیں؟

جواب: میرے بھائی ! آپ نے ان کو معیار حق اور ان کے فعل کو دلیل جواز کیوں بنالیا، معیار حق تو قرآن و حدیث، رسول اللہ کا عمل اور صحابہ کا عمل ہی ہے۔ حدیث میں فرمایا گیا ہے کہ صرف وہ شخص ناجی ہے جو اس راہ کا راہروہے جس پر میں اور میرے صحابہ ہیں( ماانا علیہ واصحابی) اسی سے’’سنت والجماعت‘‘ کی اصلاح بنائی گئی ہے کیونکہ رسول اللہﷺ کے طریقہ کا نام ’’سنت‘‘ ہے جو مااناعلیہ کا مفہوم ہے اور ’’اصحابی علیہ‘‘ کا مفہوم ہے جماعت حقہ کا عمل، اور یہ دونوں راہیں درحقیقت ایک ہی ہیں اور جو اس پر گامزن ہے وہ’’سنت و الجماعت‘‘ کافرد ہے۔

 بہر حال آپ اس مسئلہ کو حجازی و مصری کسوٹی پر نہ چانچئے بلکہ قرآن و حدیث اور عمل صحابہ کی کسوٹی پر جانچئے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online