Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف (حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ) 613

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف

از قلم: حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ (شمارہ 613)

تب یہ سب خوف سے بے ہوش ہو کر گر پڑے گویا کہ وہ مردے ہیں۔ پس یسوع نے اپنی ماں کو اور دوسروں کو یہ کہتے ہوئے زمین سے اُٹھایا’’تم نہ ڈرو اس لئے کہ میںیسوع ہوں اور نہ روئو کیونکہ میں زندہ ہوں نہ کہ مردہ‘‘ تب ان میں سے ہر ایک دیر تک یسوع کے آجانے کی وجہ سے دیوانہ سارہا ، اس لئے کہ انہوں نے پورا پورا اعتقاد کرلیا تھا کہ یسوع مرگیا ہے ۔ پس اس وقت کنواری نے روتے ہوئے کہا’’ اے میرے بیٹے! تومجھ کو بتا کہ اللہ نے تیری موت کو تیرے قرابت مندوں اور دوستوں پر بدنامی کا دھبہ رکھ کر اور تیری تعلیم کو داغدار کرے کیوں گوارا کیا؟ بحالیکہ اس نے تجھ کو مردوں کے زندہ کرنے پر قوت دی تھی۔ پس تحقیق ہر ایک جو کہ تجھ سے محبت رکھتا تھا وہ مثل مردہ کے تھا‘‘(فصل ۲۱۹۔۶ تا۱۷)

 ’’یسوع نے اپنے ماں سے گلے مل کر جواب میں کہا: ’’اے ماں! تو مجھے سچا مان، کیونکہ میں تجھ سے سچائی کے ساتھ کہتا ہوں کہ میں ہرگز نہیں مرا ہوں۔ اس لئے کہ اللہ نے مجھ کو دنیا کے خاتمہ تک محفوظ رکھا ہے اور جبکہ یہ کہا چاروں فرشتوں سے خواہش کی کہ وہ ظاہر ہوں اور شہادت دیں کہ بات کیونکر تھی۔ تب دونہیں فرشتے چار چمکتے ہوئے سورجوں کی مانند ظاہر ہوئے،یہاں تک کہ ہر ایک دوبارہ گھبراہٹ سے بے ہوش ہو کر گرپڑا گویا کہ وہ مردہ ہے۔ پس اس وقت یسوع نے فرشتوں کو چار چادریں کتان کی دیں تاکہ وہ ان سے اپنے تئیں ڈھانپ لیں کہ اس کی ماں اور اس کے رفیق انہیں دیکھ نہ سکیں اور صرف ان کو باتیں کرنے سننے پر قادر ہوں اور اس کے بعد کہ ان لوگوں میں سے ہر ایک کو اٹھایا انہیں یہ کہتے ہوئے تسلی دی کہ ’’یہ فرشتے اللہ کے ایلچی ہیں جبریل جو کہ اللہ کے بھیدوں کا اعلان کرتا ہے اور میخائیل جو کہ اللہ کے دشمنوں سے لڑتا ہے اور رافائیل جو کہ مرنے والوں کی روحیں نکالتا ہے اور اوریل جو روز اخیر(قیامت) میں(لوگوں کو) اللہ کی عدالت کی طرف بلائے گا۔ پھر چاروں فرشتوں نے کنواری سے بیان کیا کہ کیونکر اللہ نے یسوع کی جانب فرشتے بھیجے اور یہودا ( کی صورت) کو بدل دیا تاکہ وہ اس عذاب کو بھگتے جس کے لیے اس نے دوسرے کو بیچا تھا۔ اس وقت لکھنے والے نے کہا’’اے معلم! کیا مجھے جائز ہے کہ تجھ سے سوال کروں جیسے کہ اس وقت جائز تھا جب تو ہمارے ساتھ مقیم تھا؟‘‘ یسوع نے جواب دیا: ’’برنباس! تو جو چاہے دریافت کر میں تجھ کو جواب دوںگا‘‘

پس اس وقت اس لکھنے والے نے کہا’’ اے معلم! اگر اللہ رحیم ہے تو اس نے ہم کو یہ خیال کرنے والا بنا کر اس قدر تکلیف کیوں دی کہ تو مردہ تھا؟تحقیق تیری ماں تجھ کو اس قدر روئی کہ مرنے کے قریب پہنچ گئی اور اللہ نے یہ روارکھا کہ تجھ پر جمجمہ پہاڑ پر چوروں کے مابین قتل ہونے کادھبہ لگے حالانکہ تو اللہ کا قدوس ہے؟‘‘ یسوع نے جواب میں کہا’’اے برنباس! تو مجھ کو سچا مان کہ اللہ ہر خطا پر خواہ وہ کتنی ہی ہلکی کیوں نہ ہو بڑی سزا دیا کرتا ہے کیونکہ اللہ گناہ سے غضبناک ہوتا ہے ۔ پس اسی لیے جبکہ میری اور میرے ان وفادار شاگردوں نے جو کہ میرے ساتھ تھے مجھ سے دنیاوی محبت کی، نیک کردار خدا نے اس محبت پر موجودہ رنج کے ساتھ سزادینے کا ارادہ کیا تاکہ اس پر دوزخ کی آگ کے ساتھ سزادہی نہ کی جائے ۔ پس جبکہ آدمیوں نے مجھ کو اللہ اور اللہ کا بیٹا کہا تھا مگر یہ کہ میں خود دنیا میں بے گناہ تھا اس لئے اللہ نے ارادہ کیا کہ اس دنیا میں آدمی یہودا کی موت سے مجھ سے ٹھٹھا کریں ۔ یہ خیال کر کے کہ وہ میں ہی ہوں جو کہ صلیب پر مرا ہوں تاکہ قیامت کے دن شیطان مجھ سے ٹھٹھا نہ کریں اور یہ بدنامی اس وقت تک باقی رہے گی جبکہ محمد رسول اللہ(ﷺ) آئے گاجو کہ آتے ہی اس فریب کو ان لوگوں پر کھول دے گا جوکہ اللہ کی شریعت پر ایمان لائیں گے۔(انجیل برنباس فصل ۲۲۰۔۱ تا ۲۰ آیات)

ناظرین کرام! ہم نے اس حقیقت کو خوب درخشاں اور تاباں کردیا ہے کہ اسلام سے پہلے مسیحی دنیا میں یہ صدائے حق موجود تھی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے پیغمبر سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کے ہر طرح کے شر سے محفوظ اور ہر قسم کے مکر سے مامون فرما کر آسمان پر اٹھالیا تھا اور اس کے بعد یہودا اسکریوتی اپنے جرم عظیم کی پاداش میں ذلیل و خوار ہو کر مصلوب ہوا تھا۔

 اس بات کو ثابت کرنے کے لئے کہ واقعی حضرت عیسیٰ علیہ السلام ہی مصلوب ہوئے ہیں تو مقدس متی اور جناب لوقانے یہودا اسکر یوتی کی بابت یوں لکھا ہے:

’’جب اس کے پکڑنے والے یہودا نے یہ دیکھا کہ وہ مجرم ٹھہرایا گیاتو پچھتایا اور وہ تیس روپے سردار کاہنوں اور بزرگوں کے پاس واپس لا کر کہا: میں نے گناہ کیا کہ بے قصور کو قتل کے لئے پکڑوایا انہوں نے کہا ہمیں کیا؟تو جان اور وہ روپیوں کو مقدس میں پھینک کر چلا گیا اور جاکر اپنے آپ کو پھانسی دی۔ سردار کاہنوں نے روپے لے کر کہا:ان کوہیکل کے خزانہ میں ڈالنا روا نہیں کیونکہ یہ خون کی قیمت ہے پس انہوں نے مشورہ کر کے ان روپیوں سے کمہار کا کھیت پردیسیوں کے دفن کے لئے خریدا اس سبب سے وہ کھیت آج تک خون کا کھیت کہلاتا ہے۔‘‘(متی ۲۷:۳ تا ۸)

مگر’’اعمال‘‘ میں یہودا ہ کی موت کے متعلق یوں لکھا ہوا ہے:

اے بھائیو! اس نوشتہ کا پورا ہونا ضرور تھا جو روح القدس نے دائود کی زبانی اس یہودا کے حق میں پہلے سے کہا تھا۔ جو یسوع کے پکڑنے والوں کا رہنما ہوا۔ کیونکہ وہ ہم میں شمار کیا گیا اور اس نے اس خدمت کا حصہ پایا۔( اس نے بدکاری کی کمائی سے ایک کھیت حاصل کیا اور سر کے بل گرا اور اس کا پیٹ پھٹ گیا اور اس کی سب انتڑیاں نکل پڑیں اور یہ یروشلم کے سب رہنے والوں کو معلوم ہوا۔ یہاں تک کہ اس کھیت کا نام ان کی زبان میں ہَقَل دما پڑگیا یعنی خون کا کھیت‘‘)( اعمال ۱ ۱۶ تا ۱۹)

’’متی‘‘ اور’’اعمال‘‘ میں جو کچھ یہوداہ کے متعلق تحریر کیا گیا ہے۔اس میں دو تضاد ہیں جیسا کہ خط کشیدہ الفاظ نمبر ایک اور دو سے ظاہر ہیں چونکہ ان دونوں کتابوں میں یہوداہ کے متعلق جو کچھ تحریر کیا گیا ہے اس میں دو تضاد ہیں۔ اس لیے یہوداہ کی یہ صفائی افسانہ ہے حقیقت نہیں۔

 یہ عجیب بات ہے کہ واقعہ صلیب کے بعد اناجیل نویسوں نے یہوداہ کے متعلق تحقیقی بات کوئی بھی نہیں لکھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودا ہی مصلوب ہوا تھا اگر یہودا مصلوب نہ ہوا ہوتا تو چاروں اناجیل میں اس کا کچھ نہ کچھ تذکرہ ضرور ہی ہوتا مگر اس کا ذکرتک نہ ہونا اس امر کی بین دلیل ہے کہ چونکہ یہوداہ مصلوب ہوچکا تھا اس لئے اناجیل نویسوں نے اس کا کوئی تحقیقی تذکرہ نہیں کیا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online