Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 613

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 613)

دوسری جگہ فرماتے ہیں:

’’ترک اسباب حقیقت ہے ترکِ اسباب منظونہ غیرما مور بہا، یعنی جن اسباب پر مسبب کا ترک عادۃً یقینی و قطعی نہ ہو اور شرعاً وہ واجب بھی نہ ہوں، ان کو ترک کردینا جائز ہے، باقی جن اسباب پر عادۃً مسببات کا ترتب یقینی ہے ان کا ترک جائز نہیں، مثلاً:عادۃً کھانا کھانے پر شبع( سیری) کا ترتب اور پانی پینے پر سیرابی کا ترتب… اور اسباب مظنونہ کا ترک بھی اس شخص کو جائز ہے جو خود بھی قوی الہمت ہو اور اس کے اہل وعیال بھی یااس کے اہل وعیال ہی نہ ہوں۔ اسی طرح اسبابِ مامور بہا کا ترک توکل نہیں، چونکہ وہ سب اسبابِ قطعیہ یقینیہ ہیں۔‘‘( حوالۂ مذکور: ص ۲۲۴)

اس سے ان حضرات کی غلطی فہمی دور ہوجانی چاہئے جو توکل کے معنی ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھ جانا سمجھتے ہیں اور پھر صوفیہ پر اعتراض کرتے ہیں کہ وہ لوگوں کو ہاتھ پائوں توڑ کر بیٹھنے کی تعلیم دیتے ہیں۔

حضرت آدم اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کا نزاع

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: حضرت آدم علیہ السلام کا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کامباحثہ ہو اپس موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا : اے آدم! آپ ہمارے باپ ہیں، آپ نے ہمیں بے نصیب کردیا اور ہمیں جنت سے نکال دیا۔ حضرت آدم علیہ السلام نے ان سے فرمایا :تم وہی موسیٰ ہو جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام کے ساتھ چن لیا تھا اور جن کے لئے اپنے ہاتھ سے توراۃ لکھی تھی؟ کیا تو مجھے ملامت کرتا ہے اس کام پر جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر مقدر کی ہوئی تھی میرے پیداہونے سے چالیس سال پہلے؟ پس آدم علیہ السلام موسیٰ علیہ السلام پر مباحثے میں غالب آگئے ۔‘‘

تشریح:اس حدیث میں ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام کا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عالم ارواح میں مباحثہ ہوا، غالباً یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے زمانے کے بعد ہوا، وہاں سب پہنچ گئے تھے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:آپ وہی آدم ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے پیدا کیا جن کو اپنی جنت میں ٹھہرایا اور جن کو فرشتوں سے سجدہ کروایا؟انہوں نے کہا :جی ہاں! وہی ہوں، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: لیکن آپ نے وہاں دانہ کھالیا شجرِ ممنوعہ کا ارتکاب کیا، حضرت آدم علیہ السلام نے فرمایا: آپ وہی موسیٰ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے چن لیا تھا اور جن کے ساتھ کوہِ طور پر ہم کلامی فرماتے تھے اور جن کو اپنے ہاتھ سے توراۃ لکھ کر کے دی ، وہی موسیٰ ہیں؟ کہنے لگے:جی ہاں! فرمایا:میرے پیدا ہونے سے کتنی دیر پہلے تو راۃ لکھی گئی تھی؟موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:چالیس سال پہلے، آدم علیہ السلام کے پیداہونے سے چالیس سال پہلے اللہ تعالیٰ نے تورا ۃ لکھی ،فرمایا:اس توراۃ میں یہ بھی لکھا ہوا ہے ’’وعصی آدم ربہ فغوی‘‘(طہٰ)’’آدم نے اپنے رب کی نافرمانی کی، بہک گئے‘‘ کہنے لگے:ہاں! لکھا ہوا ہے فرمایا : میرے پیدا ہونے سے چالیس سال پہلے جو چیز توراۃ میں لکھی ہوئی تھی تم اس کا مجھے الزام دیتے ہو؟ حضرت موسیٰ علیہ السلام خاموش!

تقدیر کا حوالہ دے کر کوئی آدمی چھوٹ نہیں سکتا نعوذ باللہ ثم نعوذ باللہ! کوئی آدمی یہ کہے کہ مجھ سے یہ غلطی ہوئی میری تقدیر میں لکھی ہوئی تھی، یہ گستاخی اور بے ادبی ہے، حضرت آدم علیہ السلام کو یہ بات معلوم تھی کہ میری یہ غلطی میری پیدائش سے بھی چالیس پہلے کی لکھی ہوئی ہے لیکن ایک دن بھی اللہ تعالیٰ کے سامنے یہ عذر نہیں کیا کہ آپ نے میرے ذمے لکھی ہوئی تھی، جب بھی اللہ تعالیٰ نے گرفت فرمائی عتاب فرمایاروتے رہے، جنت سے زمین پر اتار دیا گیا روتے روتے بے حال ہوگئے اللہ تعالیٰ نے قصور معاف کردیا، اس کے باوجود ایک سو سال تک آسمان کی طرف نظر نہیں کی، یہ ادب ہے، بڑا اگر گرفت کرے تو چھوٹے کو عذر نہیں کرنا چاہئے، یہ کہنا چاہئے کہ ٹھیک ہے میری غلطی ہے، اپنی غلطی اور اپنے قصور کا اقرار کرنا چاہئے۔

 حضرت آدم علیہ السلام اول البشر ہیں، تمام انسانوں کے والدِ ماجد ہیں لیکن اپنی خطا جان سے ہوئی تھی، اس پر جتنے روئے ہیں بعض روایات میں آتا ہے کہ اگر ان کی اولاد کے آنسو جمع کردئیے جائیں تو ان کے برابر نہیں ہو سکتے اس کو انسانیت کہتے ہیں، یہ آدمی ہوتا ہے۔

 اور تیسری بات یہ ہے کہ کسی بھی مسئلے میں تقدیر کا حوالہ نہیں دینا چاہئے بلکہ اپنی خطا اور اپنے قصور کا اعتراف کرنا چاہئے اور جدامجد نے ہمیں یہی سبق دیا ہے انہیں معلوم تھا کہ میرے نام لکھی ہوئی ہے یہ چیز لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا ایک دن بھی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ یہ تو لکھی ہوئی تھی میرے ذمے۔

 قیامت کی خاص نشانیاں

 قیامت کی خاص علامت میں سے ہے، بدکاری، بد زبانی، قطع رحمی( کا عام ہوجانا)،امانت دار کو خیانت دار اور خائن کو امانت دار قرار دینا۔‘‘

دو جہنمی گروہ

 حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرتﷺ کا ارشاد نقل کرتے ہیں :دوجہنمی گروہ ایسے ہیں جن کو میں نے نہیں دیکھا( بعد میں پیدا ہوں گے)

ایک : وہ گروہ جن کے ہاتھوں میں بیل کی دم جیسے کوڑے ہوں گے، وہ ان کوڑوں کے ساتھ لوگوں کو (ناحق) ماریں گے۔

دوم: وہ عورتیں جو( کہنے کو تو) لباس پہنے ہوئے ہوں گی، لیکن ( چونکہ لباس بہت باریک یا ستر کے لئے ناکافی ہوگا اس لئے وہ) درحقیقت برہنہ ہوں گی( لوگوں کو اپنے جسم کی نمائش اور لباس کی زیبائش سے اپنی طرف ) مائل کریں گی( اور خود بھی مردوں سے اختلاط کی طرف) مائل ہوں گی، ان کے سر(فیشن کی وجہ سے) بختی اونٹ کے کوہان جیسے ہوں گے، یہ عورتیں نہ تو جنت میں داخل ہوں گی، نہ جنت کی خوشبو ہی ان کو نصیب ہوگی، حالانکہ جنت کی خوشبو دور دور سے آرہی ہوگی۔‘‘

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online