Bismillah

621

۱۹تا۲۵ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق۸تا۱۴دسمبر۲۰۱۷ء

حضرت یحییٰ علیہ السلام (قرآن کے سائے میں) 613

قرآن کے سائے میں

 حضرت یحییٰ علیہ السلام

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 613)

اور آگے چل کر اسی انجیل میں ان کی شہادت کے متعلق یہ ذکر ہے:

اور چوتھائی ملک کے حاکم ہیرو دیس سب احوال سن کر گھبرا گیا اس لیے کہ بعض کہتے تھے کہ یوحنا مردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور بعض یہ کہ ایلیاہ ظاہر ہوا ہے اور بعض یہ کہ قدیم نبیوں میں سے کوئی جی اُٹھا ہے، مگر ہیرودیس نے کہا کہ یوحنا کا تو میں نے سرکٹوادیا اب یہ( مسیح) کون ہے جس کی بابت ایسی باتیں سنتا ہوں؟( باب ۹ آیات ۷۔۹)

بصائر

حضرت زکریا اور یحییٰ علیہما السلام کے واقعات و حالات سے اگرچہ حقیقت میں نگاہیں خود ہی نتائج و بصائر اخذا کر سکتی ہیں تا ہم یہ چند باتیں خصوصیت کے ساتھ قابل توجہ ہیں:

۱)…دنیا میں اس شخص سے زیادہ شقی اور بدبخت دوسرا کوئی نہیں ہو سکتا جو ایسی مقدس ہستی کو قتل کردے جو نہ اس کو ستاتی ہے اور نہ اس کے مال و دولت پر ہاتھ ڈالتی ہے بلکہ اس کے برعکس بغیر کسی اجرت و عوض اس کی زندگی کی اصلاح کے لئے ہر قسم کی خدمت انجام دیتی اور اخلاق، اعمال اور عقائد کی ایسی تعلیم بخشتی ہے جو اس شخص کی دنیا اور آخرت دونوں کی فلاح وسعادت کی کفیل ہو۔ چنانچہ نبی اکرمﷺ نے اسی بناء پر حضرت ابو عبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ کے اس سوال پر کہ قیامت میں سب سے زیادہ مستحق عذاب کون شخص ہوگا؟ یہ ارشاد فرمایا:

قال:رجل قتل نبیااومن امر بالمعروف ونھی عن المنکروہ شخص جو نبی کویا ایسے شخص کو قتل کرے جو اس کو بھلائی کا حکم کرتااور برائی سے باز رکھتا ہے۔(تفسیر ابن کثیر عن ابی حاتمؒ ج ۱ ص ۳۵)

 اقوام عالم میں یہود کو اس شقاوت میں یدطولیٰ حاصل ہورہا ہے اور انہوں نے اپنے پیغمبروں اور نبیوں کے ساتھ جس قسم کے توہین آمیز سلوک حتیٰ کہ قتل تک کو روارکھا اس کی نظیر دنیا کی دوسری قوموں میں مفقود ہے۔

 ۲)…بنی اسرائیل چونکہ مختلف اسباط( قبائل) میں تقسیم تھے اور اس وجہ سے ان کی آبادیاں چھوٹی چھوٹی اور حکومتوں کے مراکز جدا جدا تھے اس لیے ان کے درمیان ایک ہی وقت میں متعدد نبی اور پیغمبر مبعوث ہوتے رہے مگر تورات ان سب کی تعلیم کے لیے اساس اور بنیاد رہی ہے اور موسیٰ علیہ السلام کے حق میں ان انبیاء علیہم السلام کی حیثیت اس درجہ کی تھی جو اس امت میں نبی اکرمﷺ کے صحیح اور حقیقی جانشین علماء حق کو حاصل ہے اور اگرچہ حدیث علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل الفاظ کے لحاظ سے محل نظر ہو لیکن مراد اور مفہوم کے اعتبار سے قطعاً صحیح اور درست ہے اس لیے کہ خاتم الانبیاءﷺ کے بعد اب جبکہ سلسلۂ نبوت اپنے عروج کمال پر پہنچ کر ختم ہوگیا تو امت مرحومہ کی تاقیام قیامت اصلاح ورشد کے لیے علماء حق کے سوا دوسری کوئی جماعت نہیں ہو سکتی اور منصب نبوت کے خصوصی شرف کے علاوہ ان کی حیثیت بلاشبہ وہی ہے جو موسیٰ علیہ السلام کی تعلیم کے نشر و ابلاغ کے لیے انبیاء بنی اسرائیل کی تھی۔

’’ہم نے ’’عالم‘‘ کے ساتھ حق کی شرط لگائی ہے اس لیے کہ نبی اکرمﷺ نے علماء سوء کو شرار الخلق بدترین مخلوق فرمایا ہے، لیکن یہ واضح ہے کہ جس طرح’’علماء سوء‘‘ کی پیروی امت کی گمراہی کا باعث ہوتی ہے اس سے زیادہ دین کی بربادی کا سامان اس طرح مہیا ہوتا ہے کہ علماء سوء کی آڑ لے کر علماء حق کے خلاف امت میں بدگمانی پھیلائی جائے ان کا استہزاء و تمسخر کر کے دین قیم کو تباہ کرنے کی سعی نامشکور کی جائے اور حق اور سوء کے امتیاز کے لیے کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ کو حکم بنانے کی جگہ اپنی آراء اور خواہشات کی موافقت و مخالفت کو معیار قرار دے لیا جائے۔

نیز مخصوص اشخاص و افراد کی مخالفت کے جذبہ میں عام طریقہ پر علماء دین کوہدف ملامت بنانا اور ان کی توہین تذلیل کرنا دراصل دین حق کی تعلیم کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا ہے اور اس آیت و حدیث کا مصداق بننا ہے جو گذشتہ صفحات میں یہود کے سلسلہ میں بیان ہوچکی ہیں۔

 ۳)…انسان کو خدا کے فضل و کرم سے کبھی ناامید نہیں ہو ناچاہئے اور اگر بعض حالات میں خلوص کے ساتھ دعائیں کرنے کے باوجود بھی مقصد حاصل نہ ہو تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہیں کہ اس شخص سے خدا کی نگاہ مہر نے رخ پھیر لیا ہے نہیں بلکہ’’حکیم مطلق‘‘ کی حکمت عام اور مصلحت تام کی نظر میں کبھی انسان کی طلب کردہ شے مآل اور انجام کے لحاظ سے اس کے لئے مفید ہونے کی جگہ مضر ہوتی ہے جس کا خود اس کو اس لیے علم نہیں ہوتا کہ اس کا علم محدود ہے اور کبھی ایسا ہوتا ہے کہ وہ مطلوب مصالح شخصیہ سے بالاتر مصالح اجتماعیہ کی فلاح و نجاح کی خاطر تاخیر چاہتا ہے یا اس سے بہتر مقصد کے لیے اس کو قربان کردیاجاتا ہے بہرحال’’قنوط‘‘ اور’’مایوسی‘‘ درگاہ رب العزت میں غیر محمود اور ناپسندیدہ بات ہے:

لاتیئسوا من روح اللّٰہ انہ لا ییئس من روح اللّٰہ الا القوم الکافرون

خدا کی رحمت سے ناامید نہ ہو اس لیے کہ خدا کی رحمت سے صرف وہی لوگ ناامید ہوتے ہیں جو منکر ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online