Bismillah

613

۲۲تا۲۸محرم الحرام۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۳تا۱۹اکتوبر۲۰۱۷ء

الفقہ 613

الفقہ

’’ڈاڑھی اور انبیاء کی سنتیں‘‘ مؤلفہ: حضرت مولانا مفتی سعیداحمد پالنپوری…سے ماخوذ

(شمارہ 613)

شرمگاہ کی رطوبت کا حکم

س:بہت سی عورتوں کو سیلان کی شکایت رہتی ہے اور جو رطوبت جسم سے نکلتی ہے کپڑے میں لگ جاتی ہے، کیا نماز پڑھتے وقت اس کو دھونا ضروری ہے؟

جواب:عورت کی شرمگاہ کے بالائی حصے جس کو فقہ کی اصطلاح میں’’فرج خارج‘‘ کہتے ہیں، اس سے نکلنے والی رطوبت بالاتفاق حنفیہ کے یہاں پاک ہے، شرمگاہ کے اندرونی حصہ( فرج داخل) سے نکلنے والی رطوبت کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ پاک ہے یا ناپاک؟

لیکن راجح قول پاک ہونے کا ہے:

سیجییٔ ان رطوبۃ الفرج طاھرۃ عندہ(در)

قولہ:(الفرج) ای الداخل اما الخارج فرطوبتہ طاھرۃ بالاتفاق… یدل علی الاتفاق کونہ لہ حکم خارج البدن فرطوبتہ کرطوبۃ الفم والانف و العرق الخارج من البدن‘‘(رد المحتار: ج۱ص۳۰۵)

لہٰذا کپڑے میں لگ جانے والی رطوبت راجح قول کے مطابق پاک ہے اور اس کو دھوناضروری نہیں، فقہاء کے اختلاف سے بچتے ہوئے احتیاطاً دھولیں تو اور بہتر ہے۔

دانتوں سے خون نکل آئے

 س:کیا وضو کرنے کے بعد دانتوں سے خون نکلنے کی وجہ سے وضو ٹوٹ جاتا ہے؟

ج:خون کے نکلنے سے اس وقت وضو ٹوٹتا ہے جبکہ وہ بہنے کے درجہ میں آجائے، اگر بہنے کے درجہ میں نہ ہو، خون کا تھوڑا سااثر ہو، تو وضو نہیں ٹوٹے گا(سنن دار قطنی:ج۱ ص۱۵۷) چنانچہ فقہاء نے لکھا ہے:

’’اگر کسی چیز کو چبایا جائے یا مسواک کی جائے اور اس میں خون کا اثر پایا جائے تو جب تک سیلان یعنی خون کے بہنے کی کیفیت نہیں پائی جائے، وضو نہیں ٹوٹے گا‘‘(الفتاویٰ الہندیہ:ج۱ ص۱۱)

’’اگر تھوک میں خون آرہا ہو دیکھا جائے گا کہ غلبہ خون کا ہے یا تھوک کا، اگر تھوک غالب ہو اور خون کم ہو تو وضو نہیں ٹوٹے گا اور خون غالب یا برابر ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔ (مراقی الفلاح مع الطحطاوی:۴۹)

مصنوعی دانت لگا کر وضو وغسل

س:کیا چوکڑا لگا کر اور ایک آدھ دانت فکس کرنے کے بعدوضو ہوجاتا ہے یا چوکڑا لگانا ضروری ہے اور دانت فکس کرنا غلط ہے؟

ج:چوکڑا لگانا اور فکس کرنا علاج کے قبیل سے ہے اور اس میں کچھ حرج نہیں، البتہ دانت فکس ہوجانے کے بعد اس کی حیثیت جسم کے مستقل عضو کی ہے، اس لئے اس پر پانی کا پہنچ جانا کافی ہے اورچوکڑا چونکہ لگایا اور نکالا جا سکتا ہے اس لئے اس کی حیثیت جسم کے مستقل عضو کی نہیں ہے، چوکڑے کی وجہ سے مسوڑے کے جس حصہ میں پانی نہیں پہنچ پائے،وہ حصہ گویا خشک رہ گیا، غسل جنابت میں کلی کرنا واجب ہے، لہٰذا چوکڑالگا کر اگر غسل واجب کرے، تو غسل درست نہ ہوگا، چوکڑا نکال کر کلی کرنا ضروری ہوگا، اسی طرح مصنوعی دانت لگا کر وضو کرے تو وضو درست ہوجائے گا، کیونکہ وضو میں کلی فرض نہیں، لیکن وضو کی سنت پوری طرح ادانہ ہوپائے گی۔

اگر وضو کے پانی میں مستعمل پانی مل جائے

س:وضو کرتے وقت پانی میں ہاتھ سے چند قطرات گرجائیں، تو کیا باقی پانی سے وضوء ہو سکتا ہے؟

ج:جو پانی وضو میں استعمال ہو کر جسم سے گرے، اسے مستعمل پانی کہتے ہیں، مستعمل پانی پاک تو ہے لیکن دوبارہ اس سے وضو یا غسل نہیں کیا جا سکتا ، اگر یہ پانی دوسرے صاف پانی کے ساتھ مل جائے تو اگر اتنی مقدار میں مل گیا کہ اس مستعمل پانی کی مقدار بڑھ گئی تو اس سے وضو کرنا درست نہیں، اگر چند قطرے مستعمل پانی گرگئے یا اس سے زیادہ لیکن غالب مقدار صاف پانی کی ہے تو اس سے وضو کیا جا سکتا ہے:

’’الماء المستعمل اذا وقع فی البئر لایفسدہ الا اذا غلب‘‘(الفتاویٰ الہندیہ:ج۱ ص۲۳)

انجکشن کے ذریعہ خون نکلنے سے وضو

س:ڈاکٹر ٹیسٹ کے لئے انجکشن کے ذریعہ خون لیا کرتے ہیں، کیا اس سے وضو جاتا رہے گا؟

جواب:خون اگر اتنی مقدار میں باہر آئے کہ وہ بہنے کے درجہ میں نہ ہو ،تو وضو نہیں ٹوٹتا، جیسے زخم سے باہر یا چمڑا چھیل دینے سے خون ظاہر ہو لیکن اپنی جگہ سے آگے بڑھ نہ جائے اور اگر خون اتنی مقدار میں ہو کہ اپنی جگہ سے بہہ پڑے، تو وضوٹوٹ جاتا ہے، چنانچہ دارقطنیؒ نے تمیم داری رضی اللہ عنہ سے ا ور ابن عدیؒ نے حضرت زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ بہتا ہوا خون نکلنے سے وضو واجب ہے: ’’الوضوء من کل دم سائل‘‘(نصب الرایہ:۱/۳۷)

فقہاء نے انجکشن سے قریب تر ایک صورت ذکر کی ہے کہ چیچڑی اگر کسی آدمی کو چوسے اور خون سے بھر جائے، تو چیچڑی چھوٹی ہو تو وضو نہیں توٹے گا، یہی حکم مچھر اور مکھی کے خون چوسنے کا ہے اور اگر بڑی چیچڑی ہو تو وضو ٹوٹ جائے گا۔

’’القراد اذا مص عضوانسان فامتلا دما، ان کان صغیرالاینقص و ضوئہ…و ان کان کبیرا ینقض‘‘(الفتاویٰ الہندیہ:ج۱ ص۱۱)

لہٰذا اگر انجکشن کے ذریعہ ٹیسٹ کے لئے یا کسی اور مقصد کے تحت خون نکالا جائے تو وضو توٹ جائے گا، اگر دوا پہنچانے کی غرض سے انجکشن دیا جائے اور تھوڑا ساخون ہی انجکشن کے ساتھ واپس آئے تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا۔

 وضو کے بعد سورئہ قدر پڑھنا

س:وضو کے بعد آسمان کی طرف نظر کر کے سورئہ قدر پڑھنا مستحب ہے؟ اس سلسلہ میں رہبری کیجئے۔

ج:احادیث میں اس بات کی فضیلت بیان کی گئی ہے کہ پوری طرح وضو کرنے کے بعد ’’اشھدان لاالہ الا اللّٰہ وحدہ لاشریک لہ واشھدان محمداعبدہ ورسولہ‘‘ پڑھاجائے۔(الجامع للترمذی)

فقہاءؒ نے لکھا ہے کہ کھڑا ہو کر اور قبلہ کی طرف رخ کر کے پڑھے اور بعض حضرات نے اس کو بھی مستحب قرار دیا ہے کہ اس موقعہ پر آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے شہادت کی انگلی سے اشارہ کیا جائے(طحطاوی و مراقی الفلاح:۴۳) علامہ حصکفیؒ نے اس موقع سے سورئہ قدر کی تلاوت کا بھی ذکر کیا ہے اور علامہ شامیؒ نے اس سلسلہ میں فقیہ ابو اللیثؒ کی ذکر کی ہوئی حدیثوں کا حوالہ دیا ہے(رد المحتار:ج۱ص۲۳۱) ان سب کو ملا کر واضح ہوا کہ وضو کے بعد قبلہ رخ ہو کر کھڑا ہو، آسمان کی طرف نگاہ کرے، انگشت شہادت اٹھائے اور کلمۂ شہادت پڑھے اور وضو کے افعال سے فارغ ہونے کے بعد سورۂ قدر کی تلاوت بھی کرلے۔ واللہ اعلم

س:اگر کسی کا کوئی ہاتھ کہنی سے کٹ جائے اور وہ پلاسٹک کا ہاتھ لگوائے تو وضو میں کہنی سمیت ہی دھوئے گا؟ کیا اس کے پلاسٹک کے ہاتھ پر’’ید‘‘ کا اطلاق ہوگا؟

جواب:پلاسٹک کا مصنوعی ہاتھ جو جسم کے ساتھ مستقل طور پر لگا ہوا نہ ہو، وہ حقیقی ہاتھ کے حکم میں نہیں، البتہ اگر کہنی کا کچھ حصہ بچا ہوا ہو یعنی بازو کی ہڈی کا آخری سرا موجود ہو تو اس حصہ کو اگر دھو سکتا ہو تو دھو لینا واجب ہوگا، کیونکہ جس شخص کا پائوں کٹا ہوا ہو ، فقہاء نے اس کے بارے میں لکھا ہے کہ اگر پائوں کا تھوڑا ساحصہ باقی ہو گوتین انگلی کی مقدار سے کم ،تب بھی اسے دھولیا جائے۔

 ’’مقطوع الرجل ان بقی منھا شیء وان اقل من ثلث اصابع غسلہ‘‘(کبیری:ص۳۹)

تو یہی حکم ہاتھ کا بھی ہونا چاہئے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online