Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف (حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ) 617

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف

از قلم: حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ (شمارہ 617)

’’پیلا طس نے پھر باہر جا کر لوگو ں سے کہا: دیکھو میں اسے تمہارے پاس باہر لے آتا ہوں تاکہ تم جانو کہ میں اس کا کچھ جرم نہیں پاتا۔ یسوع کانٹوں کا تاج رکھے اور ارغوانی پوشاک پہنے باہر آیا اور پیلاطس نے ان سے کہا: دیکھو یہ آدمی !جب سردار کاہن اور پیادوں نے اسے دیکھا تو چلّا کر کہا :صلیب دے صلیب! پیلاطس نے ان سے کہا کہ تم ہی اسے لے جائو اور صلیب دوکیونکہ میں اس کا کچھ جرم نہیں پاتا۔یہودیوں نے اسے جواب دیا کہ ہم اہل شریعت ہیں اور شریعت کے موافق وہ قتل کے لائق ہے کیونکہ اس نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا بنایا۔ جب پیلاطس نے یہ بات سنی تو اور بھی ڈرااور پھر قلعہ میں جا کر یسوع سے کہا :تو کہاں کا ہے، مگر یسوع نے اسے جواب نہ دیا۔ پس پیلاطس نے اسے کہا: تو مجھ سے بولتا نہیں؟کیا تو نہیں جانتا کہ مجھے تجھ کو چھوڑ دینے کا بھی اختیار ہے؟یسوع نے اسے جواب دیا کہ اگر تجھے اوپر سے نہ دیاجاتا تیر ا مجھ پر کچھ اختیار نہ ہوتا۔ اس سبب سے جس نے مجھے تیرے حوالہ کیا اس کا گناہ زیادہ ہے۔اس پر پیلاطس اسے چھوڑ دینے میں کوشش کرنے لگا مگر یہودیوں نے چلّا کر کہا :اگر تو اس کو چھوڑ دیتا ہے تو قیصر کا خیر خواہ نہیں۔ جو کوئی اپنے آپ کو بادشاہ بناتا ہے وہ قیصر کا مخالف ہے۔‘‘( یوحنا۱۹،۴ تا ۱۲)

اناجیل اربعہ کے مندرجہ بالا بیانات سے چار باتیں ظاہر ہوتی ہیں:

الف:سردار کاہنوں اور یہودیوں نے’’ملزم‘‘ کو جب پیلاطس کے سامنے پیش کیا تو اس پر الزامات لگائے مگر ملزم نے پیلاطس کے سامنے یہودیوں کے کسی الزام کا جواب نہیں دیا اور جب پیلاطس نے’’ملزم‘‘ سے بادشاہ ہونے کا سوال کیا تو اس نے اس کا جواب دیا مگر پیلاطس کے کسی اور سوال کا کوئی جواب نہیں دیا۔ اس پر پیلاطس نے تعجب کیا( متی ۲۷:۱۱ تا۱۴ و مرقس ۱۵:۱تا ۵ گولوقا ۲۳:اتا ۷ اور یوحنا ۱۸:۲۸ تا ۴۰ میں یہی واقعہ اختلاف کے ساتھ موجود ہے مگر ان دونوں اناجیل میں پیلاطس کے تعجب کا نام و نشان تک موجود نہیں۔

 اگر بالفرض محال مسیحی علماء کی حوصلہ افزائی اور پاسداری کی خاطر یہ تسلیم کرلیا جائے کہ’’ملزم‘‘ ’’حضرت مسیح علیہ السلام‘‘ ہی تھے۔ تو بقول اناجیل متی ومرقس آپ علیہ السلام پر جو الزامات سردار کاہنوں اور یہودیوں نے پیلاطس کے سامنے لگائے اور جو سوالات پیلاطس نے آپ علیہ السلام سے کئے ۔ آپ علیہ السلام نے اُن میں سے کسی کا جواب تک نہیں دیا اور مکمل خاموشی اختیار کی۔ آپ علیہ السلام کا سکوت اختیار کرنا اور کسی سوال واعتراض کا جواب تک نہ دینا آپ علیہ السلام کی سیرت طیبہ کے سراسر خلاف ہے کیونکہ آپ علیہ السلام اپنے تبلیغی دور میں یہودیوں کے اعتراضات کے جوابات خوب کھل کر، نڈر ہو کر دیا کرتے، کھری سناتے اوریہودیوں کو یوں فرمایا کرتے تھے:

’’اے ریاکار فقیہو اورفریسیو تم پر افسوس !کہ آسمان کی بادشاہی لوگوں پر بند کرتے ہو کیونکہ نہ تو آپ داخل ہوتے ہو اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو( اے ریاکار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس!کہ ایک مرید کرنے کے لئے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہوچکتا ہے تو اسے اپنے سے دونا جہنم کا فرزند بنادیتے ہو۔ اے اندھے راہ بتانے والو تم پر افسوس ! جو کہتے ہو کہ اگر کوئی مقدس کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں لیکن اگر مقدس کے سونے کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا۔ اے احمقو اور اندھو کون سابڑا ہے سونا یا مقدس جس نے سونے کو مقدس کیا؟ اور پھر کہتے ہو کہ اگر کوئی قربان گاہ کی قسم کھائے تو اس کا پابند ہوگا ۔اے اندھو کونسی بڑی ہے نذر یا قربان گاہ جو نذر کو مقدس کرتی ہے؟ پس جو قربان گاہ کی قسم کھاتا ہے وہ اس کی اور ان سب چیزوں کی جو اس پر ہیں قسم کھاتا ہے اور جو مقدس کی قسم کھاتا ہے وہ اس کی اور اس کے رہنے والے کی قسم کھاتا ہے اور جو آسمان کی قسم کھاتا ہے وہ خدا کے تخت کی اور اس پر بیٹھنے والے کی قسم کھاتا ہے۔اے ریاکار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس! کہ پودینہ اور سونف اور زیرہ پر تو دہ یکی دیتے ہو پر تم نے شریعت کی زیادہ بھاری باتوں یعنی انصاف اور رحم اور ایمان کو چھوڑ دیا ہے لازم تھا کہ یہ بھی کرتے اور وہ بھی نہ چھوڑتے۔ اے اندھے راہ بتانے والو! جو مچھر کو تو جانتے ہو اور اونٹ کو نگل جاتے ہو۔ اے ریاکار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس! کہ پیالے اور رکابی کو اوپر سے صاف رکھتے ہو مگر وہ اندرلوٹ اور ناپرہیزگاری سے بھرے ہیں۔اے اندھے فریسی!پہلے پیالے اور رکابی کو اندر سے صاف کرتا کہ اوپر سے بھی صاف ہوجائیں۔ اے ریاکارفقیہو اور فریسیو تم پرافسوس! کہ تم سفیدی پھر ی ہوئی قبروں کی مانند ہو جو اوپر سے تو خوب صورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہیں۔ اسی طرح تم بھی ظاہر میں تو لوگوں کو راست بازدکھائی دیتے ہو مگر باطن میںریاکاری اور بے دینی سے بھرے ہو،اے ریاکار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس! کہ نبیوں کی قبریں بناتے اور راست بازوں کے مقبرے آراستہ کرتے ہو اور کہتے ہو کہ اگر ہم اپنے باپ دادا کے زمانہ میں ہوتے تو نبیوں کے خون میں ان کے شریک نہ ہوتے۔ اس طرح تم اپنی نسبت گواہی دیتے ہو کہ تم نبیوں کے قاتلوں کے فرزند ہو۔ غرض اپنے باپ دادا کا پیمانہ بھر دو۔ اے سانپو! اے افعی کے بچو! تم جہنم کی سزا سے کیونکر بچو گے۔‘‘( متی ۲۳:۱۳ تا ۳۳)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ان ارشادات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک عقلمند انسان اس بات کو بخوبی سمجھ سکتا ہے کہ آپ علیہ السلام کا پیلاطس کے روبرو اس کے سوالات کا جواب نہ دینا اور اس کی موجودگی میں سردار کاہنوں کے الزامات پر چپ سادھ لینا اور سکوت اختیار کرنا، انجیل متی کی نظر میں زیب نہیں دیتا۔ویسے بھی اپنے مخالفین کے مذہبی اعتراضات و سوالات کے جوابات نہ دینا ایک پیغمبر کی شان سے بعید ہے۔ اس حقیقت کے پیشِ نظریہ معلوم ہوتا ہے کہ’’ملزم‘‘ آپ علیہ السلام نہیں تھے بلکہ یہوداہ تھا کیونکہ یہوداہ کو’’مسیح علیہ السلام‘‘ سمجھ کر اس پر الزامات لگائے جاتے تھے اور آپ علیہ السلام کی تعلیم کے متعلق اس سے سوالات کئے جاتے تھے چونکہ وہ بدبخت ان الزامات و سوالات اور ان کے جوابات سے بے علم تھا اس لئے اس نے چپ سادھ لی اور خاموشی اختیار کرلی تھی اس معقول وجہ سے پیلاطس نے تعجب کیا تھا۔

 ب:پیلاطس نے تفتیش کے بعد’’ملزم‘‘ کو بالکل باعزت طور پر بری قرار دے دیا تھا اس پراناجیل اربعہ کامکمل اتفاق و اتحاد ہے ( متی ۲۷:۲۳، مرقس،۱۵:۹،۱۰،۱۴، لوقا ۲۳، ۱۴، ۲۲، یوحنا ۱۹:۴،۶)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online