Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 617

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 617)

پانچ باتوں کا عہد

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:کون ہے جو مجھ سے یہ کلمات لے، پس ان پر خود عمل کرے یا کسی کو بتادے جو ان پر عمل کر سکے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا:یارسول اللہ! میں لوں گا۔

پس آپﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور پانچ باتیں شمار کیں اور فرمایا:

۱)اللہ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرو، سب سے بڑے عابد بن جائوگے۔

 ۲)اللہ نے تقسیم کر کے جو حصہ تمہیں دے دیا ہے اس پر راضی ہوجائو، سب سے بڑے غنی ہوجائوگے۔

۳)ہمسایہ سے حسنِ سلوک کرو، مومن بن جائوگے۔

 ۴)لوگوں کے لئے وہی پسند کرو جو  اپنے لئے کرتے ہو، مسلمان بن جائو گے۔

 ۵)زیادہ نہ ہنسا کرو، کیونکہ زیادہ ہنسی سے دل مردہ ہوجاتا ہے۔‘‘

تشریح:آنحضرتﷺ کا ہر ارشادنہایت اہم ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس کی تکمیل میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے تھے۔ اس کے باوجود آپﷺ کا یہ فرمانا:’’کون ہے جو مجھ سے کلمات سیکھ لے؟‘‘ مزید اہتمام کے لئے تھا اور واقعی یہ پانچ اصول جو اس حدیث میں ارشاد ہوئے ہیں بہت ہی قیمتی ہیں۔ اس لئے آپﷺ نے بڑے ہی اہتمام سے حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر اور ایک، دو، تین، چار، پانچ تک گن کر ان کی تعلیم دی۔

اور پھر مزید اہتمام کے لئے یہاں تک فرمایا کہ سیکھ تو ہر شخص لے، پھر اگر خدانخواستہ ان پر خود عمل نہ کر سکے تو کسی دوسرے کو بتادے تاکہ وہ اس پر عمل کر سکے۔ اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ دین اور حکمت کی بات کا سیکھ لینا نفع سے خالی نہیں، کبھی نہ کبھی آدمی کو اس پر عمل کی توفیق ہوہی جاتی ہے اور نہ بھی ہو تو دوسروں کو بتا کر عمل کے راستے پر ڈال سکتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بے عمل آدمی بھی دین کی بات بتا سکتا ہے،دین کی باتوں کو ایسا سمجھنا چاہئے جیسا بیماریوں کے نسخے۔ اب اگر کسی مریض کو اپنی بیماری کا نسخہ تو معلوم ہے مگر اس نسخے کا استعمال نہیں کرتا یا علاج میں پرہیز سے کام نہیں لیتا تو یہ اس کی محرومی ہے، لیکن وہ دوسرے مریضوں کو نسخہ تو بتا سکتا ہے اور اگر وہ اس کا صحیح استعمال کرلیں تو ضرور شفایاب ہوں گے بلکہ ان کو شفایاب دیکھ کر پہلے مریض کی بھی ہمت بڑھے گی اور وہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ جب دوسرے لوگوں کو اس کے بتائے ہوئے نسخے سے شفایابی ہورہی ہے تو وہ کیوں محروم رہے؟ الغرض! عالم بے عمل کی حالت قابلِ افسوس بلکہ قابل رحم ہے کہ ایسے حکمتِ نبوت کے نسخے معلوم ہیں مگر وہ اس سے محروم ہے، لیکن دوسرے لوگوں کو اس کی بے عملی اور محرومی پر نظر نہیں رکھنی چاہئے، بلکہ اس سے دینی حکمت کی باتیں سیکھ کر ان پر عمل کرنا چاہئے۔ اس لئے آنحضرتﷺ نے فرمایا کہ ان باتوں پر خود عمل کرے یا کسی ایسے شخص کو سکھا دے جو اس پر عمل کرسکے۔

۱)پہلی بات آنحضرتﷺ نے یہ فرمائی :’’حرام سے بچو، سب سے بڑے عابد بن جائو گے‘‘

ملا علی قاریؒ شرحِ مشکوٰۃ میں لکھتے ہیں:’’ حرام‘‘ میں وہ چیزیں بھی شامل ہیں جن کا کرنا ممنوع ہے، مثلاً:زنا، چوری، سود،رِشوت وغیرہ وغیرہ اور وہ چیزیں بھی داخل ہیں جن کا چھوڑنا حرام ہے، مثلاً:نماز چھوڑنا، زکوٰۃ چھوڑنا اور روزہ چھوڑنا۔

 غرض انسان کے ذمے جو چیزیں فرض یا واجب ہیں ان کا چھوڑنا حرام ہے، اب اس ارشادِ نبوی کا خلاصہ یہ ہے کہ سب سے بڑا عبادت گزار وہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے عائد کردہ فرائض وواجبات کا پابند ہو اور اللہ تعالیٰ کی حرام کی ہوئی چیزوں سے پرہیز کرتا ہو، بہت سے لوگ نوافل اور مستحبات کا تو بہت اہتمام کرتے ہیں مگر فرائض سے بے پرواہی کرتے ہیں، مثلاً ایک شخص کے ذمے قضا نمازیں ہیں، ان کی ادائیگی کی فکر نہیں کرتا مگر نوافل پڑھ رہا ہے۔ تہجد اور اِشراق تک کی پابندی کررہا ہے یا مثلاًایک شخص کے ذمے کئی سالوں کی زکوٰۃ فرض ہے یا لوگوں کے قرضے یا غصب کی ہوئی چیزیں اس کے ذمے ہیں، یہ شخص ان کو تو ادا نہیں کرتامگر نفلی صدقہ و خیرات میں لگا ہوا ہے، مسجد بنا رہا ہے، مدارس کو چندہ دے رہا ہے، رفاہِ عامہ کے کاموں میں روپیہ لگا رہا ہے، لوگ سمجھتے ہیں کہ یہ بڑا سخی ہے ، بڑا عبادت گزار ہے، مگر درحقیقت یہ نہ سخی ہے ، نہ عبادت گزار۔اگر یہ عبادت گزار ہوتا تو سب سے پہلے ان فرائض کو ادا کرتا جو اللہ تعالیٰ نے اس کے ذمے لگائے تھے اور جب ان سے فارغ ہوجاتا تب نفلی صدقہ خیرات کرتا۔ فرائض کو چھوڑ دینا اور نفلی عبادات یا مستحبات کی فرائض جیسی پابندی کرنا، اس سے دین میں تحریف پیدا ہو جاتی ہے، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے جن چیزوں کو اصل دین قرار دیا تھا ان کی حیثیت ثانوی رہ جاتی ہے اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ اور رسول اللہﷺ کی نظر میں اہم نہیں تھیں ان کو دین وایمان کا درجہ مل جاتا ہے، آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگ نماز، روزے کے تارک ہیں، زکوٰۃ انہوں نے کبھی نہیں دی، میراث میں لڑکیوں کو حصہ وہ نہیں دیتے، سودی کاروبار سے ان کو پرہیز نہیں،دیگر صریح محرمات کے وہ مرتکب ہیں، معالات میں جھوٹ، دغا، فریب، سبھی کچھ کرتے ہیں، مگر ہفتے میں ایک خاص دن اور مہینے میں ایک خاص تاریخ کو کھانا کھلانا ان کے نزدیک ایسا ضروری ہے کہ جو شخص اس کا تارک ہو وہ دائرئہ اہل حق بلکہ دائرہ اسلام سے خارج ہے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online