Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

حضرت یحییٰ علیہ السلام (قرآن کے سائے میں) 617

قرآن کے سائے میں

 حضرت یحییٰ علیہ السلام

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 617)

بہرحال یہ واقعہ ہویا مثال تذکیرو تنذیر کے جس مقصد کی خاطر بیان کی گئی ہے اس کے پیش نظر مشرکین مکہ اورمسلمانوں کے باہمی تقابل کانہایت ہی جامع اور کامل نقشہ ہے۔ قریش مکہ کے غرور و نخوت کا یہ حال تھا کہ اول تو پیغام ہدایت پر کان ہی نہ دھرتے تھے اور اگر کبھی سننے پر آمادگی ظاہر بھی کرتے تو یہ شرط لگاتے کہ جب تک ہم محمدﷺ کے پاس بیٹھیں اس وقت تک ان خستہ حال مسلمانوں میں سے کوئی ہمارے برابر آکر نہ بیٹھے کیونکہ ان کے ساتھ بیٹھنا ہماری سخت توہین ہے، وہ سمجھتے تھے کہ ہماری یہ دولت و حشمت غیر فانی اور ہمارا یہ کرو فرابدی ہے اس لئے مسلمانوں کو کمزور اور تنگ دست دیکھ کر ان کا مضحکہ کرتے اور حقیر و ذلیل سمجھتے تھے۔

پس قرآن عزیز نے لطیف اور معجزانہ اسلوب کے ساتھ مسلمانوں کے حق میں ایسے ناساز گار حالت کے وقت ان کی کامرانی اور مشرکین کی ناکامی کے اس انجام کی خبردی ہے جو کچھ عرصہ بعدہونے والا تھا، چنانچہ جو سعید روحیں تھیں انہوں نے سمجھا اور حق کی آغوش میں خود کو سپرد کردیا اور جن کی شقاوت و بد بختی پر مہر لگ چکی تھی ان کا تھوڑے عرصہ بعد ہی وہ حسرتناک انجام ہوا جس کے لئے یہی کہا جا سکتا ہے

خسرالدنیا والا خرۃ ذلک ھوالخسران المبین

اور شاہ عبدالقادررحمہ اللہ ان آیات کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

 ’’پہلے وقت میں ایک شخص مالدار مرگیا دوبیٹے رہے ، برابر مال بانٹ لیا ،ایک نے زمین خرید کی، دوطرف میووں کے باغ لگائے بیچ میں کھیتی اور ندی کاٹ کر ان پر لاڈالی کہ مینہ نہ ہو تو بھی نقصان نہ آوے اور عمدہ جگہ بیاہ کیا ،اولاد ہوئی اور نوکر رکھے، تدبیر دنیا درست کر کر آسودہ گذران کرنے لگا دوسرے نے سب مال اللہ کی راہ میں خرچ کیا، آپ قناعت سے بیٹھ رہا۔‘‘(موضح القرآن)

معلوم نہیں کہ حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے واقعہ کی تفصیل کہاں سے اخذ فرمائی ہیں، کتب سیر و روایات …اور تاریخ کے اوراق تو اس بارہ میں خاموش ہیں اور’’چھوٹا منہ بڑی بات‘‘حضرت شاہ صاحب نے اس واقعہ میں جس طرح دونوں کا تقابل ظاہر فرمایا قرآن کا ظاہر سیاق اس کی تائید نہیں کرتا، اس لئے کہ مرد مومن نے کافر کے غرور کا جو جواب دیا اور کافر نے جو اس کے افلاس پر طعنہ دیا وہ ہرگز اس صورت حال کے مناسب نہیں ہیں کہ مومن حقیقتاً مالدار تھا مگر اس نے اپنا سارا مال راہ خدا میں خرچ کردیا تھا اگر ایسا ہوتا تو مومن وکافر کے سوال وجواب کا اسلوب دوسرا ہی ہوتا۔ واللہ علم بالصواب

بصائر:

۱)…دنیوی نعمتیں دوگھڑی کی دھوپ اورچاردن کی چاندنی ہیں، ناپائدار اور فانی۔ پس عقل مند وہ ہے جو ان پر گھمنڈ نہ کرے اور ان کے بل بوتے پر خدا کی نافرمانی پر آمادہ نہ ہوجائے اور تاریخ کے ان اور اق کو پیش نظر رکھے جن کی آغوش میں فرعون، نمرود، ثمود اور عاد کی قاہرانہ طاقتوں کا انجام آج تک محفوظ ہے:

سیروافی الارض فانظروا کیف کان عاقبۃ المجرمین

زمین کی سیر کرو اور پھر دیکھو کہ نافرمانوں کا انجام کیا ہوا؟

۲)…حقیقی عزت ایمان باللہ اور عمل صالح سے بنتی ہے، دولت و ثروت اور سطوت و حشمت دنیوی سے حاصل نہیں ہوتی، قریش مکہ کو ثروت و سطوت دونوں حاصل تھیں مگر بدر کے میدان میں ان کا انجام بد اوردین ودنیا کی رسوائی کو کوئی روک نہ سکا، مسلمان دنیا کے ہر قسم کے سامان عیش سے محروم تھے مگر ایمان باللہ اور عمل صالح نے جب ان کو دینی و دنیوی عزت و حشمت عطا کی تو اس میں کوئی حائل نہ ہو سکا

وللّٰہ العزۃ ولرسولہ وللمومنین ولکن المنافقین لا یعلمون

حقیقی عزت اللہ، اس کے رسول اور مسلمانوں کے لئے ہی ہے مگر منافقین اس حقیقت سے نا آشنا ہیں۔

۳)…مومن کی شان یہ ہے کہ اگر اس کو اللہ تعالیٰ نے دنیا کی نعمتوں سے نوازا ہے تو غروراور تکبر کی بجائے درگاہ الہٰی میں جبین نیاز جھکا کر اعتراف نعمت کرے اور دل وزبان دونوں سے یہ اقرار کر ے کہ خدایا! اگر تو یہ عطا نہ فرماتاتو ان کا حصول میری اپنی قوت و طاقت سے باہر تھا یہ سب تیرے ہی عطا ونوال کا صدقہ ہے

ولولااذدخلت جنتک قلت ماشاء اللّٰہ لا قوۃ الا باللّٰہ

صحیح حدیث میں ہے کہ نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:

الکنزمن کنوزالجنۃ لاحول ولا قوۃ الا باللّٰہ

 جنت کے پوشیدہ خزنوں میں سے ایک خزانہ یہ ہے کہ بندہ اعتراف کرے کہ بھلائی کرنے کی طاقت اور برائی سے بچنے کی قوت اللہ کی مدد کے بغیر ناممکن ہے۔

 یعنی جس شخص نے زبان سے اس کا اقرار کیا اور دل میں اس حقیقت کو جاگزیں کرلیا اس نے گویا جنت کے مستور خزانوں کی کنجی حاصل کرلی۔

 اس کے برعکس کافر کی حالت یہ ہے کہ اس کو جب دولت وثروت اور جاہ و جلال میسر آجاتے ہیں تو خودی میں آکر مغرور ہوجاتا ہے اور جب کوئی خدا کا نیک بندہ اس کو سمجھاتا ہے کہ یہ سب خدا کا فضل ہے اس کا شکر ادا کر تو وہ اکڑ کر کہتا ہے:

اوتیتہ علی علم عندی

یہ خدا کادیاہوانہیںہے بلکہ میری اپنی دانائی اور علم کا نتیجہ ہے۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online