Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری) 617

مشعل (ترجمہ: کتاب الجہاد، صحیح بخاری)

مترجم: مولانا طلحہ السیف (شمارہ نمبر 617)

پھر وہ سب وہاں سے لوٹے، میں ابھی وہاں سے چلا ہی نہیں تھا کہ رسول اللہﷺ کے سوار نظر آئے جو درختوں میں گھس گئے تھے، سب سے آگے اخرم اسدی تھے، ان کے بعد قتادہ انصاری اور ان کے پیچھے مقداد بن اسود کندی  رضی اللہ عنہم تھے میں نے اخرم کے گھوڑے کی باگ تھام لی، یہ دیکھ کر وہ الٹے بھاگے، میں نے اس سے کہا: اخرم تم ان سے احتیاط رکھنا تاوقتیکہ رسول اللہﷺ اور آپ کے اصحاب نہ آئیں، ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو مار ڈالیں، وہ بولے: اے سلمہ ! اگر تو اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے، تو میری شہادت کے درمیان حائل نہ ہو، میںنے ان کو چھوڑ دیا اور ان کا مقابلہ عبدالرحمن فزاری سے ہوا، اخرم نے اس کے گھوڑے کو زخمی کیا اور عبدالرحمن نے اخرم کو برچھی مار کر شہید کردیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ بیٹھا، اتنے میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے شہسوار آپہنچے اور انہوں نے عبدالرحمنفزاری کو برچھی مار کر قتل کیا، قسم اس ذات کی جس نے محمد رسول اللہﷺ کے چہرہ انور کو بزرگی عطا کی ہے، میں ان کا تعاقب کرتا رہا اور اپنے پیروں سے دوڑ رہا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے حضرت کا کوئی صحابی نہیں دکھائی دیا اور نہ ہی ان کا غبار، یہاں تک کہ آفتاب غروب ہونے سے پہلے وہ لٹیرے ایک گھاٹی پہ پہنچے، جہاں پانی باقی تھا اور ان کا نام ذی قرد تھا، وہ پانی پینے کے لئے اترے کیونکہ پیاسے تھے، پھر مجھے دیکھا اور میں ان کے پیچھے دوڑتا چلا آتا تھا، آخر میں نے ان کو پانی پر سے ہٹادیا، وہ ایک قطرہ بھی نہ پی سکے، اب وہ کسی گھاٹی کی جانب دوڑے میں بھی دوڑا اور میں نے کسی کو پاکر اس کے شانے کی ہڈی میں ایک تیر لگادیا، میں نے کہا: لے اس کو اور میں اکوع کا بیٹا ہوں اور یہ دن کمینوں کی تباہی کا دن ہے، وہ بلا اس کی ماں اس پر روئے کہ یہ وہی اکوع ہے جو صبح کو میرے ساتھ تھا، میں نے کہا: اے اپنی جان کے دشمن وہی اکوع ہے، جو صبح کو تیرے ساتھ تھا، سلمہ بن اکوع بیان کرتے ہیں:ان لوگوں نے دو گھوڑے ایک گھاٹی پر چھوڑ دئیے، میں ان دونوں کو ہنکا کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں لے آیا، وہاں مجھے عامر ملے ایک چھا گل دودھ کی پانی ملا ہوااور ایک چھاگل پانی کی لئے ہوئے میں نے وضو کیااور دودھ پیا، پھر رسول اللہﷺ کے پاس آیا، آپﷺ اس پانی پرتھے، جہاں سے میں نے لٹیروں کو بھگایا تھا، میں نے دیکھا کہ رسول اللہﷺ نے سب اونٹ لے لئے ہیںاور تمام وہ چیزیں جو میں نے مشرکین سے چھینی تھیں اور تمام برچھیاں، چادریں لے لیں اور بلال پھر وہ سب وہاں سے لوٹے، میں ابھی وہاں سے چلا ہی نہیں تھا کہ رسول اللہﷺ کے سوار نظر آئے جو درختوں میں گھس گئے تھے، سب سے آگے اخرم اسدی تھے، ان کے بعد قتادہ انصاری اور ان کے پیچھے مقداد بن اسود کندی تھے میں نے اخرم کے گھوڑے کی باب تھام لی، یہ دیکھ کر وہ الٹے بھاگے، میں نے اس سے کہا، اخرم تم ان سے احتیاط رکھنا تاوقتیکہ رسول اللہﷺ اور آپﷺ کے اصحاب نہ آئیں، ایسا نہ ہو کہ وہ تم کو مار ڈالیں، وہ بولے اے سلمہ رضی اللہ عنہ اگر تو اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے اور یقین رکھتا ہے کہ جنت حق ہے اور دوزخ حق ہے، تو میری شہادت کے درمیان حائل نہ ہو، میں ان کو چھوڑ دیا، اور ان کا مقابلہ عبدالرحمن فزاری سے ہوا، اخرم نے اس کے گھوڑے کو زخمی کیا اور عبدالرحمن نے اخرم کو برچھی مار کر شہید کردیا اور اخرم کے گھوڑے پر چڑھ بیٹھا، اتنے میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کے شہسوار آپہنچے، اور انہوں نے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو برچھی مار کر قتل کیا، قسم اس ذات کی جس نے محمد رسول اللہﷺ کے چہرہ انور کو بزرگی عطا کی ہے، میں ان کا تعاقب کرتا رہا اور اپنے پیروں سے دوڑ رہا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے حضرت کا کوئی صحابہ نہیں دکھائی دیا اور نہ ہی ان کا غبار۔

(جاری ہے)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online