Bismillah

618

۲۷صفرتا۳ربیع الاول۱۴۳۸ھ   بمطابق ۱۷تا۲۳نومبر۲۰۱۷ء

الفقہ 617

الفقہ

’’ڈاڑھی اور انبیاء کی سنتیں‘‘ مؤلفہ: حضرت مولانا مفتی سعیداحمد پالنپوری…سے ماخوذ

(شمارہ 617)

کاغذ سے استنجاء

س:کیا پانی کی عدم موجودگی میں استنجاء کے لئے ایسا کاغذ استعمال کر سکتے ہیں جو رطوبت کو جذب کرلے اور جو خاص اسی کام کے لئے بنایا گیا ہو؟

ج:ہر ایسی چیز سے استنجاء کیا جا سکتا ہے جو پاک ہو اور نجاست کو دور کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، نیز شرعاً اس کا احترام واجب نہ ہو:

’’یکون الاستنجاء بالماء اوبالحجرونحوہ من کل جامد طاھر قالع غیر محترم‘‘(الفقہ الاسلامی وادلتہ:ج۱ص۱۹۵)

اس مقصد کے لئے تیار کئے گئے کاغذ میں نجاست کو دور اور جذب کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے اور یہ پاک بھی ہوتے ہیں، اس لئے ان سے استنجاء کرنے میں کوئی حرج نہیں، فقہاء نے دو وجوہ سے کاغذ سے استنجاء کو منع کیا ہے، اول یہ کہ کاغذ نوشت و خواند کا آلہ اور علم کی حفاظت کا سامان ہے، اس لئے قابلِ احترام ہے، دوسرے کاغذ چکنائی کی وجہ سے اس لائق نہیں ہوتا کہ اس سے آلائش کو دور کیا جا سکے ،لیکن یہ دونوں باتیں خاص اس مقصد کے لئے تیار کئے گئے کاغذ میں نہیں پائی جاتیں، یہ چکنا ہونے کے بجائے کھردرا ہوتا ہے اور اس میں جذب کرنے کی خصوصی صلاحیت ہوتی ہے اور یہ اس لائق بھی نہیں ہوتا کہ اس پر کچھ لکھا جا سکے، پس  کراہت کا ان دونوں میں سے کوئی سبب اس نوع کے کاغذ میں نہیں پایا جاتا، اس لئے استنجاء کے لئے ایسے کاغذ کے استعمال میں کوئی قباحت نہیں۔

کھڑے ہو کر پیشاب کرنا

س:مسجدوں میںبیت الخلا ہونے کے باوجود کچھ لوگ تنگ کپڑوں کی وجہ سے طہارت خانوں میں کھڑے ہو کر استنجاء کرتے ہیں، شریعت میں اس کا کیا حکم ہے؟

ج:کھڑے ہو کر استنجاء کرنا مکروہ ہے، کیونکہ اس میں بے پردگی کا بھی اندیشہ ہے اور پیشاب کی چھینٹیں پڑنے کا بھی امکان، چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک بار وہ کھڑے ہو کر پیشاب کررہے تھے، آپﷺ نے دیکھا تو اس سے منع فرمایا۔

نیز حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کھڑے ہو کر پیشاب کرنا گنوارپن ہے(ترمذی) خود رسول اللہﷺ کا معمول مبارک بھی بیٹھ کر استنجاء کرنے کا تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضورﷺ بیٹھ کر ہی پیشاب کیا کرتے تھے، اگر کوئی کہے کہ آپﷺ نے کھڑے ہو کر پیشاب کیا تو اس کی تصدیق نہ کرو۔(حوالہ سابق۔ مشکوٰۃ المصابیح:ج۱ص۴۳)

ہاں! اگر کوئی عذر ہو، تو کھڑے ہو کر پیشاب کیا جا سکتا ہے،چنانچہ ایک موقعہ پر گھٹنوں میں تکلیف کی وجہ سے کھڑے ہو کر خود آپ ﷺکا پیشاب کرنا بھی ثابت ہے۔ (ترمذی)

اس کے علاوہ اتنا تنگ کپڑا پہننا خود کراہت سے خالی نہیں کہ انسان ان کپڑوں کے ساتھ بیٹھ کر استنجاء نہ کر سکے۔ ایسے چست کپڑوں سے انسانی جسم کی ساخت نمایاں ہوجاتی ہے اور یہ بھی بے ستری میں داخل ہے، نیز اگر ایسا کپڑا پہنا ہوا ہے اور بیت الخلاء کی عمارت موجود ہے، تو بیت الخلاء سے باہر کھڑے ہو کر پیشاب کرنا کراہت سے خالی نہیں، کیونکہ وہ بیت الخلاء کے اندر بے ستری سے بچتے ہوئے بیٹھ کر استنجاء کر سکتا ہے۔

اذان کے وقت استنجاء

س:کیا اذان کے وقت طہارت لینا درست ہے؟

ج:اگر کوئی شخص پہلے سے استنجاء کی حالت میں ہو اور اذان ہونے لگے تو کچھ حرج نہیں،البتہ اس حالت میں زبان سے اذان کا جواب نہ دے(الدرالمختار علی ھامش الرد: ج۱ ص۲۹۲))اگر استنجاء کو جانے سے پہلے اذان شروع ہوگئی اور استنجاء کا شدید تقاضہ نہ ہو یا یہ اندیشہ نہ ہو کہ ازدحام کی وجہ سے تاخیر کرنے کی صورت میں نماز کی کوئی رکعت یا نماز سے پہلے کی سنت فوت ہو سکتی ہے تو بہتر ہے کہ رک کر اذان کا جواب دے دے۔(فتاویٰ ہندیہ:ج۱ص۵۷)اس کے بعد استنجاء کرے، مسجدوں میںعام طور پر نمازوں کے اوقات میں اتنا ہجوم ہوجاتا ہے کہ انتظار کرنے میں جماعت فوت ہونے یا دوسروں کو دشواری پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے، ایسی صورت میں اذان کے درمیان استنجاء کرلینے میں مضائقہ نہیں، کیونکہ اصل میں اذان کا عملی جواب دینا واجب ہے اور وہ ہے ’’جماعت میںشرکت‘‘زبان سے جواب دینا واجب نہیں۔

استنجاء کن چیزوں سے؟

س:پانی میسر نہ ہو تو کن چیزوںسے طہارت لینا درست ہے؟

ج:استنجاء ہر ایسی چیز سے درست ہے جونجاست کو دور کرنے یا جذب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہو، بہتر ہے کہ پتھر، مٹی کے ڈھیلے، اینٹ کے ٹکڑے ، ریت، لکڑی کے ایسے ٹکڑے جن سے مضرت کا اندیشہ نہ ہو…سے استنجاء کیا جائے، حسبِ موقع و ضرورت کپڑا اور روئی سے بھی استنجاء کرنے میں مضائقہ نہیں ،کھانے کی چیز، لید، ہڈی، جانوروں کے چارے، کوئلہ ،چونا، شیشہ اور ایسی چیزوں سے استنجاء کرنا مکروہ ہے جس سے زخمی ہونے کا اندیشہ ہو، اگرکوئی ایسی چیزوں سے استنجاء کر ہی لے تو پاکی حاصل ہوجاتی ہے، لیکن یہ فعل مکروہ ہے(کبیری:ص۳۷۔۳۸)… ایسا کاغذ جو لکھنے پڑھنے میں استعمال ہوتا ہے، چاہے سادہ ہو یالکھا ہوا، اس سے بھی استنجاء کرنامکروہ ہے(ردالمحتار:ج۱ص۵۵۲) لیکن آج کل خاص استنجاء اور صفائی ستھرائی ہی کی غرض سے ٹشوپیپر بنائے جاتے ہیں ان سے استنجاء کرنے میں کوئی قباحت نہیں۔

چاک پیس سے استنجاء

س:کیا چاک پیس سے استنجاء کیا جا سکتا ہے ؟اگر نہیں تو کیوں؟

ج:استنجاء میں جو چیز استعمال کی جاتی ہے وہ نجاست میں آلودہ ہوتی ہے اور ظاہر ہے کہ وہ اسی شے کی بے احترامی ہے اور جوشے شریعت کی نگاہ میں قابل احترام ہو اس کی بے احترامی روانہیں ہو سکتی ،شریعت میں کسی شے کے قابلِ احترام ہونے کا معیار یہ ہے کہ و ہ قابل قیمت ہو، ہر وہ چیز جس کی قیمت لی جا سکتی ہو’’محترم‘‘ ہے اور اس سے استنجاء مکروہ ہے، اس سے صرف پانی مستثنیٰ ہے، کیونکہ پانی کو اللہ تعالیٰ نے جن مقاصد کے لئے پیدا فرمایا ہے، ان میں سے ایک ناپاک چیز کو پاک کرنا بھی ہے۔(ردالمحتار:ج۱ ص۵۵۲)

اب سوال یہ ہے کہ کیا چاک پیس قابلِ احترام اشیاء میں ہے؟ فقہاء کے یہاں اس کی نظیر وہ کاغذ ہے جو کتابت کئے جانے کے لائق ہو، چونکہ یہ حصول علم کا ذریعہ ہے، اس لئے فقہاء نے اس کو قابل احترام قراردیا ہے اور اس سے استنجاء کرنے کو مکروہ کہا ہے(حوالہ سابق) چاک پیس بھی تعلیم و تعلم کا ذریعہ ہے، اس لئے اس سے بھی استنجاء کرنا مکروہ ہوگا،البتہ اگر استنجاء کرہی لیا جائے تو پاکی حاصل ہوجائے گی، کیونکہ اس میں نجاست کو جذب کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔

 تعویذ والی انگوٹھی پہن کر استنجاء خانہ میں جانا

س:انگوٹھی یا ایسی کوئی چیز پہن کر استنجاء خانہ میں جانے کا کیا حکم ہے، جس میں آیت وغیرہ لکھی ہو؟

ج:اگر انگوٹی میں اللہ کا نام ہو یا کسی آیت وغیرہ کی تختی گلے میں ہو، جو تختی غلاف سے خالی ہو ،تو چاہئے کہ استنجاء جاتے وقت ان اشیاء کو باہر نکال کر رکھ دے یا کم ازکم جیب میں رکھ لیں۔ کھلی حالت میں استنجاء خانہ لے جانا تقاضۂ ادب کے خلاف ہونے کی وجہ سے مکروہ ہے۔

 ’’ویکرہ ان یدخل فی الخلاء ومعہ خاتم علیہ اسم اللّٰہ تعالیٰ اوشیء من القرآن‘‘(ہندیہ:۱/۵۰)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online