Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف (حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ) 626

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف

از قلم: حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ (شمارہ 625)

’’واذکففت بنی اسرائیل عنک‘‘

کے الفاظ سے آپ کی گرفتاری کی تردید ’’وماقتلوہ‘‘ کے الفاظ سے آپ علیہ السلام کے قتل کی تردید’’وماصلبوہ‘‘ کے الفاظ سے آپ علیہ السلام کو سولی دئیے جانے کی تردید اور آپ کے رفع جسمانی کی تائید ’’بل رفعہ اللّٰہ الیہ‘‘ کے الفاظ سے اور آپ علیہ السلام کے نزول آسمانی کی تصدیق ’’وان من اھل الکتاب الالیؤمنن بہ قبل موتہ‘‘ کے الفاظ سے فرمادی، پس باری تعالیٰ کی وہ تردید اور یہ تائید وتصدیق ہر ایماندار کے لئے سوفیصد سچی ہے۔

باقی رہے آپ علیہ السلام کے دوسرے الفاظ جن میں یہودیوں کے  ناپاک منصوبہ کا اُنہی پر پڑنے کا ذکر ہے تو وہ اس طرح پورے ہوئے کہ یہوداہ جو یہودی پارٹی کا رنگ لیڈر اور سرغنہ تھا۔یہ بدبخت سردار کاہنوں کے پاس گیا اور آپ علیہ السلام کو پکڑوانے کے عوض اس نے سردار کاہنوں سے تیس روپے لئے۔

’’اسی نے بوسہ لینے کا اُن کو نشان دیا‘‘ ( مرقس ۴ ۱ : ۴ ۴)

اسی کی قیادت میں یہودی اور رومی سپاہی آپ علیہ السلام کو گرفتارکرنے کے لئے گئے تھے۔چونکہ یہوداہ تخریبی کاروائی کا سرغنہ تھااس لئے حضرت عیسیٰ علیہ السلام بار بار اسی کا تذکرہ کرتے،آپ علیہ السلام نے اسی پر افسوس کا اظہار کیا اور اسی کے لیے فرمایا کہ کاش وہ پیدا ہی نہ ہوتا تو اچھا ہوتا (۱۴:۲۱) اور آپ علیہ السلام نے اسے ’’شیطان‘‘ قرار دیا(یوحنا:۷۰،۷۱)الغرض یہوداہ ہی تخریبی کاروائی کا سرغنہ تھا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو آسمان پر اٹھالیا اس کے بعد جب یہوداہ مکان میں داخل ہوا تورب العزت نے اس کے مکر کی اسے یہ سزادی کہ حضرت روح اللہ علیہ السلام کی شکل وصورت اس پرڈال دی۔تو یہودیوں اوررومی سپاہیوں نے اسے حضرت ’’مسیح علیہ السلام‘‘ سمجھ کر پکڑ لیا۔اسے بہت ذلیل وخوار کرکے صلیب پر چڑھا کر ماردیا۔پس ان کا برا منصوبہ اُنہی پر پڑا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یہ الفاظ:

’’میں جاتا ہوں اورتم مجھے ڈھونڈو گے اور اپنے گناہ میں مرو گے‘‘

بالکل حرف بحرف یوں پورے ہوئے کہ جب یہوداہ آپ علیہ السلام کو پکڑوانے کے لئے گیا تو آپ علیہ السلام کا ’’رفع جسمانی‘‘ہوچکا تھا اس لئے وہ آپ کو پانہ سکا،خود ہی اپنے ناپاک منصوبہ کاشکار ہوگیا اور نشانہ بن گیا۔

اللہ تبارک وتعالیٰ کے یہ الفاظ مبارک:

’’ولایحیق المکرالسیئُ الاباھلہ‘ ‘

ترجمہ:اور بری تدبیر والوں کا وبال اُن تدبیروالوں ہی پر پڑتا ہے۔ (سورۃ الفاطر:آیت ۴۳)

اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے یہ الفاظ کہ ’’تم اپنے گناہ میں مروگے‘‘ گویا یہ دونوں الفاظ الگ الگ اور جدا جدا ہیں مگر ان کا مفہوم بالکل یکساں اور مطلب مترادف ہے۔پس ان الفاظ سے بھی یہی حقیقت منظر عام پر آتی ہے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے  حضرت روح اللہ علیہ السلام کو آسمان پر پہلے اُٹھالیا تھا اور اس کے بعد یہوداہ اسکریوتی کے ساتھ صلیب کا واقعہ رونما ہوا۔

آپ علیہ السلام کے ’’رفع جسمانی اور صعود آسمانی‘‘ کے  متعلق عقل ایک اور اعتراض کرتی اور وہ یہ کہ رب العزت آپ علیہ السلام کو آسمان پر کیوں لے گئے؟توخداوند قدوس نے اسی آیت مبارکہ میں لفظ ’’عزیزاً‘‘ کے فوراًبعد لفظ ’’حکیماً‘‘ ارشادفرماکر عقل کے اس اعتراض کا جواب ارشاد فرمایا۔یعنی چونکہ وہ ذات بابرکات ’’حکیم‘‘ ہے اس لئے حضرت مسیح علیہ السلام کے ’’رفع جسمانی اور صعود آسمانی‘‘ میں اس کی حکمتیں ہیں۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے رفع جسمانی کے متعلق علماء اسلام نے جو حکمتیں تحریر فرمائی ہیں ان میں سے ایک حکمت مندرجہ ذیل بھی ہے چنانچہ حضرت مولانا محمد ابراہیم میّر سیالکوٹیؒ تحریر فرماتے ہیں:

دوسری حکمت الٰہیہ حضرت روح اللہ کے زندہ رکھنے اور پھر دنیا میں نازل کرنے میں یہ ہے کہ نظر برکمالاتِ انبیاء علیہم السلام چار وصف ایسے معلوم ہوتے ہیں جن کا حصول بنسبت انبیاء اُولی العزم علیہم السلام کے ضروری ہے۔گو ان میں سے کسی کی نسبت کوئی وصف بباعثِ عدم ضرورتِ ذکر قرآن شریف میں مذکور نہ ہوایابسبب موانع وعوائق خارجیہ مثل عدم ضرورتِ ظہور بالفعل ظاہر نہ ہوا مگر بالقوہ وہ سب ان صفات اربعہ سے متصف ہیں۔ اول:مبشربہ (بصیغہ اسم مفعول) اس اعتبار سے کہ اس پیغمبر کے ہونے کی بشارت پہلے دی جاتی ہے جیسے روح اللہ علیہ السلام کی نسبت علی لسان الملائکہ حضرت مریم علیہا السلام کو بشارت دی گئی:

’’یامریم ان اللّٰہ یبشرک بکلمۃ منہ اسمہ المسیح عیسیٰ ابن مریم‘‘

اے مریم! خدا تجھ کو اپنے کلمہ کی جس کانام مسیح ابن مریم ہوگا بشارت دیتا ہے۔(آل عمران)

اور نیز

’’ورسولاالی بنی اسرائیل ‘‘

اور رسول ہوگا بنی اسرائیل کی طرف۔(۳/آل عمران)

پس حضرت مسیح علیہ السلام مبشر بہ ہوئے۔ دوم: مصدق سوم: مبشر ہردو بصیغہ اسم فاعل،مصدق اس نظرسے کہ وہ رسول اپنے سے پہلے رسولوں کی تصدیق کرتا ہے اور مبشر اس لحاظ سے کہ وہ رسول کسی دیگر رسول کے آنے کی بشارت سناتا ہے۔ جیسے حضرت عیسیٰ روح اللہ اور موسیٰ کلیم اللہ اور محمد رسول اللہ حبیب اللہ صلوٰۃ اللہ علیہم وسلامہ کی نسبت حکایۃً عن روح اللہ علیہ السلام سورہ صف میں ذکر کیا:

مصدقاً لما بین یدیّ من التورٰۃ ومبشرابرسول یأتی من بعدی اسمہ احمد

ترجمہ:تصدیق کرنے والا تورات کی جو میرے آگے ہے اور بشارت دینے والا ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا اور اس کا نام احمد ہوگا۔ (سورہ صف)

اس آیت سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے دونوں وصف یعنی مصدق ومبشر ہردوبصیغہ اسم مفاعل ثابت ہوئے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کا مصدق ہونا (بصیغہ اسم مفعول) جو وصف چہارم ہے۔کیونکہ تصدیق کتاب مستلزم ہے تصدیق رسول کی۔ اور آں حضرت سرورعالم ﷺ کا مبشر بہ ہونا اور وصف چہارم جناب رسالت مآب ﷺ کی نسبت سورۃ ’’صافات‘‘ میں فرمایا:

’’بل جآء بالحق وصدّق المرسلین‘‘

ترجمہ:بلکہ حق لے کر آیا ہے اور رسولوں کی تصدیق کرتا ہے(پارہ۲۳)

اس میں آپﷺ کا وصف مصدِّق اسم فاعل مذکور ہوا اور چونکہ حضرت روح اللہ علیہ السلام بھی زمرۂ مرسلین میں سے ہیں ، اس لئے ان کی صفت مصدَّق بصیغہ اسم مفعول ثابت ہوئی۔پس اس سلسلہ میں حضرت روح اللہ علیہ السلام کے چاروں وصف ثابت ہوئے اور آنحضرتﷺ کے صرف دو یعنی مبشّر بہ بصیغہ اسم مفعول اور مصدق بصیغہ اسم فاعل۔آنحضرتﷺ  کے لیے بوجہ سیادت اور ختم رسالت ان اوصاف اربعہ کاظہور بالفعل ضروری ہے۔پس اگر آپﷺ کے اوصاف کی تکمیل بالفعل کے لیے کوئی نیا رسول پیداکیا جاتا تو خاتم النبیین کا شرف باقی نہیں رہتا اور بلحاظ ختم نبوت مجرد کے تو اوصاف بلحاظ مبشر بصیغہ اسم فاعل اور مصدق بصیغہ اسم مفعول کاظہور نہیں ہوتا،جوشان سیادت کے شایان نہیں ہے۔ اس لئے اللہ کریم کی حکمت بالغہ اس امر کی مقتضی ہوئی کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو زندہ رکھا جائے۔ جن کی آمد ثانی کی بشارت سے آپﷺ کا لقب مبشّر بصیغہ اسم فاعل ظاہر ہو جائے اور حضرت مسیح علیہ السلام دنیا میں آکر اس امر کی تصدیق کریں کہ  محمدرسول اللہ ﷺ حق ہے!!! حق ہے!!! اور آپﷺ کی صفت مصدَّق بصیغہ اسم مفعول بالفعل ظاہر ہوجائے…

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online