Bismillah

640

۳تا۹شعبان المعظم ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۰تا۲۶اپریل۲۰۱۸ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 626

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 626)

دنیا کا غم اور اس کی محبت

 حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’جس شخص کو فقرو فاقہ پیش آئے پھر وہ اسے لوگوں کے سامنے ظاہرکرے تو اس کا فاقہ دور نہیں ہوگا اور جس شخص کو فاقہ پیش آئے اور وہ اسے صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کرے تو حق تعالیٰ شانہ ضرور اس کو رزق عطاء فرمائیں گے، خواہ جلدی،خواہ کچھ دیر میں۔‘‘(رواہ الترمذی،ابواب الزہد)

ابووائل تابعی فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے ماموں حضرت ابوہاشم بن عتبہ رضی اللہ عنہ کی عیادت کوگئے تو دیکھا کہ وہ رورہے ہیں، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : ماموں جان! آپ روکیوں رہے ہیں؟تکلیف بے چین کررہی ہے یا دنیا  میں رہنے کی خواہش؟ فرمایا: ان میں سے کوئی بات بھی نہیں! اصل وجہ یہ ہے کہ رسول اللہﷺ نے  مجھے وصیت فرمائی تھی جسے میں نبھا نہیں سکا، آپﷺ نے فرمایا تھا کہ:’’تیرے لیے بس اتنی دنیا کافی ہے کہ تیرے پاس خدمت کے لیے آدمی ہو اورجہاد فی سبیل اللہ کے لیے ایک سواری ہو‘‘لیکن میں آج دیکھ رہا ہوں کہ میں نے اس سے زائد مال جمع کررکھا ہے۔(رواہ الترمذی،ابواب الزہد)

حضرت عبداللہ بن مسعودرضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’زمین حاصل نہ کی جیو، ورنہ دنیا میں تمہارا جی  لگنے لگے گا۔‘‘(رواہ الترمذی،ابواب الزہد)

تشریح:ان احادیث طیبہ سے دنیا کے بارے میں حضرت نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کا ذوق واضح ہوتا ہے اور اس سے اپنی حالت کا موازنہ کرکے یہ معلوم ہوسکتا ہے کہ ہم دنیا کی حقیقت کو نہ سمجھنے کی وجہ سے اس ذوق سے کس قدر محروم ہورہے ہیں؟اگر حق تعالیٰ شانہ آخرت کا صحیح یقین اور حقیقت دنیا کی صحیح پہچان نصیب فرمادیں تو واقعہ یہ ہے کہ ہماری زندگی کا نقشہ ہی بدل جائے اور مال ودولت،صحت وعمر اور قوت وطاقت کا جو خزانہ دنیا سمیٹنے پر ضائع کررہے ہیں اس کا رخ آخرت کا گھر بنانے کی طرف پھر جائے۔

پہلی حدیث میں آپﷺ نے ایک ایسا اصول ارشاد فرمایا جو ایک طرف انسانی نفسیات کی گرہ کشائی کرتا ہے اور دوسری طرف آدمی کے فقرو فاقہ کا صحیح حل پیش کرتا ہے۔انسان کی عام عادت یہ ہے کہ جب وہ فقروفاقہ اور تنگ دستی کا شکار ہوتا ہے تو لوگوں کے سامنے اس کی شکایت کرتا ہے، کچھ لوگ ازراہ ہمدردی اس کی مدد بھی کردیتے ہیں لیکن اس سے اس کے فقروفاقہ کا مداویٰ نہیں ہوتا بلکہ حرص ولالچ کی آگ مزید بھڑک اُٹھتی ہے اور ایسے شخص کو کبھی سیر چشمی نصیب نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس اگر تنگ دستی اور فقروفاقہ پر آدمی صبر کرے اور صرف حق تعالیٰ شانہ سے التجا کرے تو حق تعالیٰ اس کو اطمینان وسکون اور سیر چشمی کی دولت بھی عطاء کرتے ہیں اور اکثر تنگ دستی کی بجائے کشائش سے بھی نواز دیتے ہیں۔

مومن کی عمر کا طویل ہونا

حضرت عبداللہ  بن قیس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی نے عرض کیا:یارسول اللہ !سب سے اچھا آدمی کون ہے؟فرمایا:’’جس کی عمر طویل ہو اور اس کے اعمال اچھے ہوں۔‘‘ (رواہ الترمذی،ابواب الزہد)

حضرت ابوبکرۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عرض کیا:یا رسول اللہ!سب سے اچھا آدمی کون ہے؟’’فرمایا: جس کی عمر لمبی ہو اور بھلے کام کرتا ہو۔عرض کیا: تو سب سے برا آدمی کون ہے؟ فرمایا : جس کی عمر لمبی ہو اور کام برے کرتا ہو۔‘‘ (رواہ الترمذی،ابواب الزہد)

تشریح: یہ مضمون بہت سی احادیث میں آیا ہے کہ نیک آدمی کی عمر کا طویل ہونا ایک نعمت ہے کہ اس سے اس کی نیکیوں میں اضافہ ہوتا ہے اور یہی اس کی بلندیٔ درجات کا ذریعہ ہے اوربرے آدمی کو زیادہ مہلت ملنا اس کے لیے آفت ہے، جس سے اس کے شر اور برائی میں اضافہ ہوتا ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ عذاب اور لعنت کا مستحق بنتا چلاجاتا ہے۔

حضرت عبید بن خالدرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرتﷺ نے دوآدمیوں کو ایک دوسرے کا بھائی بنادیا تھا ، ان میں سے ایک صاحب اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہوگئے اور دوسرے صاحب کا ہفتہ عشرے کے بعد انتقال ہوگیا، صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین ان صاحب کے جنازے سے فارغ ہوئے تو آنحضرتﷺ نے دریافت فرمایا:تم نے اس کے لیے کیا دعاء کی تھی؟صحابہ نے عرض کیا : ہم نے یہ دعاء کی تھی کہ اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرمادیں،اس پر رحم فرمائیں اور اسے اس کے شہید ساتھی کے ساتھ ملادیں۔ یہ سن کر آنحضرتﷺ نے فرمایا:اس نے اپنے رفیق کے بعد جو نمازیں پڑھیں،روزے رکھے،نیک عمل کئے وہ کدھر گئے؟ ان دونوں کے درمیان تو آسمان وزمین کافرق ہے ۔(ابوداؤد ونسائی)

حضرت عبداللہ بن شدّادرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بنی عذرہ کے تین اشخاص بارگاہ رسالت میں حاضر ہوکر اسلام لائے ، آنحضرتﷺ نے فرمایا:کون ہے جو ان کی کفالت کا ذمہ لے؟ حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اس خدمت کے لیے میں حاضر ہوں!چنانچہ یہ تینوں صاحب حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس رہنے لگے،چند دن بعد آنحضرتﷺ نے جہاد کے لیے ایک د ستہ بھیجا،ان تین میں سے ایک صاحب اس جہاد میں گئے اور شہید ہوگئے،پھر ایک اور لشکر بھیجا اس میں دوسرے صاحب شامل ہوئے اور شہید ہوگئے،ان کے بعد تیسرے صاحب کا انتقال بستر پر ہوا۔حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے ان تینوں کو خواب میں دیکھا،دیکھتا کیا ہوں کہ تینوں جنت میں ہیں اور جو صاحب اپنے بستر پر مرے تھے وہ ان کے آگے ہیں،ان کے پیچھے وہ صاحب ہیں جو بعد میں شہید ہوئے تھے اور ان کے پیچھے وہ صاحب ہیں جو پہلے شہید ہوئے تھے۔حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:مجھے ان کی اس ترتیب سے حیرت ہوئی ، میں نے آنحضرتﷺ کی خدمت میں اس کاتذکرہ کیا ، آپﷺ نے ارشاد فرمایا:اس میں حیرت وتعجب کی کیا  بات ہے ؟اللہ کے نزدیک اس مومن سے کوئی شخص افضل نہیں جس کو اسلام کی حالت میں ایک بار ’’سبحان اللّٰہ‘‘یا ’’لاالٰہ الااللّٰہ‘‘یا ’’اللّٰہ اکبر‘‘ کہنے کی مہلت مل جائے۔ (مسند احمد)

حضرت محمد بن ابی عمیرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشادفرمایا:اگر کوئی بندہ پیدائش سے موت تک اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں سجدے میں پڑا رہے تو قیامت کے دن اپنے اس عمل کو حقیر سمجھے گا اور یہ چاہے گا کہ اسے دنیا میں پھر بھیج دیا جائے تاکہ وہ اپنے اجروثواب میں مزید اضافہ کرسکے۔

ان احادیث میں امت کو آگاہ فرمایا گیا ہے کہ مومن کی عمر کا ایک ایک لمحہ قیمتی ہے ،مبارک ہے وہ شخص جس کو اس کی صحیح قدروقیمت معلوم ہوگئی اور اس انمول گوہر کو خدا تعالیٰ کی رضا اور آخرت کے درجات کے حصول میں خرچ کیا اور بہت ہی لائق افسوس ہے وہ شخص جس نے اسے لہوولعب اور کھیل تماشوں میں ضائع کردیا اور مہلت حیات ختم ہونے کے بعد خالی ہاتھ دنیا سے رخصت ہوا۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online