Bismillah

627

۱تا۷جمادی الاولیٰ۱۴۳۹ھ   بمطابق ۱۹تا۲۵جنوری۲۰۱۸ء

الفقہ 626

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 626)

قبل از وقت نماز

س:ہمارے محلہ کی مسجد میں جب میں نماز پڑھنے کے لیے گیا تو اس وقت تک دورکعت نماز ہوچکی تھی اور اس وقت باہر کی مسجد سے اذان کی آواز آئی،سوال یہ ہے کہ جتنے لوگ بھی قبل ازوقت اذان کے ساتھ جماعت میں نماز ادا کئے ان کی نماز ہوئی یا نہیں؟

ج:اگر قبل ازوقت نماز پڑھ لی گئی،تو نمازکا دُہرانا واجب ہے (تفسیر روح المعانی : ۴ / ۲۰۲)لیکن اگر باہر کی مساجد میں اذان ہی چند منٹ کی تاخیر سے ہوئی ہو اور کم سے کم نماز شروع ہونے کے بعد پڑھی گئی ہو تو نماز ادا ہوگئی۔

رمضان المبارک میں فجر کی نماز معمول سے پہلے

س: اگر رمضان کے مہینہ میں فجر کی نماز مقررہ اوقات سے پہلے پڑھ لی جائے اور سحری اور نماز میں زیادہ وقفہ نہ رکھا جائے ، کیونکہ بعض لوگ سحری کے بعد آرام کی غرض سے لیٹ جاتے ہیں تو جماعت کے چھوٹ جانے کا خدشہ رہتا ہے،کیا ایسا کیا جاسکتا ہے؟

ج:صبح صادق ہونے کے بعد فجر کا وقت شروع ہوجاتا ہے ، اگر رمضان المبارک میں اول وقت میں نماز ادا کرلی جائے تاکہ لوگوں کو سہولت ہو اور زیادہ سے زیادہ لوگ جماعت میں شریک ہوںتو اس میں کوئی حرج نہیں،کیونکہ یہ واقعہ ہے کہ فجر کی نماز دیر سے رکھی جائے تو بہت سے لوگ سحری کھاکر سوجاتے ہیں اور نماز کے لیے اُٹھ نہیں پاتے،احناف کے یہاں جو فجر میں تاخیر افضل ہے،وہ اسی لیے کہ اس میں زیادہ لوگوں کے جماعت میں شریک ہونے کی امید ہوتی ہے،اب اگر یہ مقصد اول وقت میں نماز پڑھنے سے حاصل ہوتا ہوتو اسی وقت میں نماز اداکرنا بہتر ہوگا۔(مراقی الفلاح مع الطحطاوی:ص۱۲۱)

نماز کے درمیان دوسری نماز کا وقت شروع ہوجائے

س:صبح پانچ بجے نماز عشاء پڑھ رہا تھا کہ فجر کی اذان ہونے لگی اور میں نماز پڑھتا رہا،کیا میری نماز پوری ہوگئی یاقضانماز پڑھنی ہوگی؟

ج:نمازیں وقت پر ادا کرنے کا اہتمام کرنا چاہیے،اگر عشاء کی نماز مکمل ہونے سے پہلے ہی فجر کا وقت شروع ہوگیا اور آپ نے عشاء کی نیت سے ہی نماز شروع کی تھی تو آپ کی نماز عشاء ادا ہوگئی،اب دوبارہ قضاء کرنے کی ضرورت نہیں، البتہ یہ قضاء کے حکم میں ہوگی اور ادا نماز کا ثواب نہیں ملے گا؟اس میں اختلاف ہے،ایک قول یہ ہے کہ اگر تحریمہ بھی وقت کے اندر باندھ لیا،تو اداسمجھی جائے گی اور علامہ شامیؒ نے اسی کو قول مشہور قرار دیا ہے، دوسرا قول محیط کیحوالہ سے نقل کیا ہے کہ جتنا حصہ وقت کے اندر پڑھا ہے، وہ ادا ہے اور جو وقت گزرنے کے بعد پڑھا ہے وہ قضاء ہے۔(ردالمختار:۲/۵۱۹۔۵۲۰)تیسرا قول یہ ہے کہ یہ قضاء کے حکم میں ہوگی اور اسی کو زیادہ صحیح قول قراردیا گیا ہے۔

’’لوشرع عند الوقتیۃ عند المضیق،ثم خرج الوقت فی خلالہالم تفسد وہو اصح‘‘(مجمع الانہٰر:ج۱ص۱۷۶)

جن اوقات میں نماز پڑھنا مکروہ ہے

س:طلوع آفتاب کے کتنی دیر بعد دوسری نماز پڑھ سکتے ہیں،غروب آفتاب کے کتنی دیر بعد مغرب کی نماز پڑھ سکتے ہیں؟ ظہر کا وقت شروع ہونے سے کتنی دیر پہلے سے نماز یا سجدہ کا ترک کرنا ضروری ہے؟

ج: جب آفتاب پوری طرح نکل آئے تو وقت مکروہ ختم ہوجاتا ہے(فتاویٰ ہندیہ:ج۱ص۵۲)عام طور پر مکمل آفتاب نکلنے میں دس بارہ منٹ کا وقت لگتا ہے،اہل علم نے لکھا ہے کہ احتیاطاً بیس منٹ نماز سے توقف کیا جائے،ظہر سے پہلے جو وقت مکروہ ہے اس کا عرصہ بمقابلہ طلوع آفتاب کے کم ہے،اس لئے ظہر کا جو وقت اوقات نماز میں لکھا ہوتا ہے اس سے پندرہ منٹ پہلے نماز ترک کردینی چاہیے ، غروب آفتاب سے پہلے جب آفتاب زرد پڑجائے اور اتنا تغیر ہوجائے کہ نگاہ قرص آفتاب پر ٹھہرنے لگے تو وقت مکروہ شروع ہوجاتا ہے اور جونہی آفتاب غروب ہوجائے وقت مکروہ ختم ہوجاتا ہے۔

فجر وعصر کے بعد نماز

س:کوئی شخص نماز فجر اور نمازعصر باجماعت اداکرتا ہو تو ایساشخص ان دونوں نمازوں کے بعد کون سی نماز پڑھ سکتا ہے؟

ج:فجر اور عصر کے بعد نفل نماز اور رکعات طواف پڑھنا مکروہ ہے(صحیح البخاری)فرائض وواجبات پڑھی جاسکتی ہیں،چنانچہ فوت شدہ نمازوں کی قضائ،نماز جنازہ اور سجدۂ تلاوت ان اوقات میں بھی ادا کی جاسکتی ہیں۔ (الفتاوی الہند یہ :۱/۵۲)

عصر کے بعد نماز طواف

س:اگر کوئی حنفی المسلک حاجی عصر کی نماز کے بعدطواف کرے تو مقام ابراہیم کے مقابل کی دورکعات واجب طواف فوری ادا کرسکتا ہے؟

ج: نماز عصر کے بعد غروب آفتاب تک حنفیہ کے نزدیک نماز طواف پڑھنا مکروہ ہے، اس لئے کہ آپﷺ نے اس وقت کوئی نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے(صحیح مسلم) لہٰذا ایسی صورت میں دوگانہ طواف کو مؤخر کردے،مغرب کی فرض ادا کرنے کے بعد پہلے طواف کی دورکعتیںادا کرلے، پھر مغرب کی سنت پڑھے۔ (ردالمحتار:ج۳ص۵۱۲)

غروب آفتاب کے وقت نماز عصر

س:اگر کوئی شخص عصر کی نماز جماعت سے نہ پڑھ سکا ہو تو کس وقت تک اس کو پڑھنے کی گنجائش ہے؟ کیا سورج ڈھلنے کے بعد بھی عصر کی نماز پڑھی جاسکتی ہے؟

ج:سور ج جب ڈوبنے کے قریب ہوجائے یعنی یہ کیفیت ہو کہ سورج کی ٹکیہ پر نگاہ ٹھہرنے لگے،تو اس وقت نماز پڑھنا مکروہ ہے، البتہ اگر اس دن کی عصر نہ پڑھی ہو،تو اس مکروہ وقت میں بھی نماز ادا کی جاسکتی ہے (فتاویٰ ہندیہ:ج۱ص۵۲)

اذان اور اقامت کا بیان

کیا وضو کے بغیر اذان دینے کی جازت ہے؟

ج:بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ وضوکی حالت میں اذان دی جائے(سنن کبریٰ للبیہقی)کیونکہ اذان نماز کی دعوت ہے اور جب ایک شخص نے خود وضو نہیں کیا تو گویا اس نے بھی اپنے آپ کو نماز کے لیے تیار نہیں کیا اور دوسروں کو نماز کی دعوت دے رہا ہے،جو ظاہر ہے کہ مناسب عمل نہیں،مناسب طریقہ یہ ہے کہ آدمی پہلے اپنے آپ کو جس کارخیر کے لئے تیار کرلے، دوسروں کو اس کی دعوت دے ، تاہم اگر بغیر وضواذان دے ہی دے تو یہ بھی جائز ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ:رقم الحدیث۲۱۸۸)

’’وینبغی أن یؤذن ویقیم علی طہر،فان أذن علی غیروضوء جاز‘‘(ہدایہ:ج۱ص۲۸۲)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online