Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف (حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ) 630

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف

از قلم: حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ (شمارہ 630)

ہفتم:سورۃ النساء کی ان تینوں( ۱۵۷،۱۵۸ اور ۱۵۹) آیات مبارکہ کا آپس میں گہراتعلق اور یہ تینوں آیات مقدسہ آپس میں مربوط ہیںکیونکہ یہ تینوں آیات حضرت روح اللہ علیہ السلام سے تعلق رکھتی اوران میں آپ علیہ السلام کی بابت بیان فرمایا گیا ہے اور ان پر گہری نظر ڈالنے اور غور کرنے سے یہ حقیقت خود بخود سامنے آجاتی ہے کہ آیت ۱۵۹ کے ان الفاظ’’قبل موتہ‘‘میں’’ ہی‘‘ کا سو فی صد صحیح مرجع حضرت ’’عیسیٰ‘‘علیہ السلام ہی ہیں کیونکہ آیت ۱۵۷میں جو یہ نام ’’مسیح عیسیٰ ابن مریم ‘‘ پایا جاتا ہے یہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آپ ارشاد نہیں فرمایا بلکہ یہودیوں کا قول نقل کیا ہے۔ اس اسم مبارک کے بعد سے لے کر آیت کریمہ ۱۵۹ کے آخر تک باری تعالیٰ کا اپنا کلام مبارک ہے اور خداوند قدوس نے اپنے اس کلام پاک میں ایک مرتبہ بھی حضرت روح اللہ علیہ السلام کا اسم گرامی نہیں لیا بلکہ آپ علیہ السلام کے لئے ضمیر یں استعمال فرمائی ہیں مثلاً:

وما قتلوہ …وماصلبوہ…وماقتلوہ( آیت ۱۵۷) رفعہ( آیت ۱۵۸) قبل موتہ( آیت۱۵۹)

باری تعالیٰ کے اس اسلوبِ بیان سے یہ حقیقت خوب  دمک اور چمک اُٹھی کہ’’قبل موتہ‘‘ کی ضمیر کا اصل اور صحیح مرجع حضرت’’عیسیٰ‘‘ علیہ السلام ہی ہیں۔ پس اس صحیح مرجع سے یہ صداقت خود بخود اُجاگر اور منور ہوگئی کہ حضرت مسیح علیہ السلام ابھی تک فوت نہیں ہوئے بلکہ آسمان پر زندہ اور قیامت سے پہلے جب آپ علیہ السلام کا نزول ہوگا تو اس وقت یہود و نصاریٰ آپ علیہ السلام پر ایمان لائیں گے اور آپ علیہ السلام قیامت کے دن یہودونصاریٰ کے ایمان کی گواہی دیں گے۔

 اسی حقیقت کا اظہار ہم اس طرز سے بھی کرتے ہیں کہ یہودی جن حضرت’’مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام‘‘ کی بابت صلیب پر چڑھا کر قتل کرنے کا دعویٰ کرتے تھے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان ہی حضرت’’مسیح ابن مریم علیہما السلام‘‘ کو قتل و صلیب سے بچا کر اور یہودیوں کے ناپاک ہاتھوں سے محفوظ فرما کر آسمان پر اُٹھا لیا۔ ان ہی حضرت’’ مسیح  عیسیٰ ابن مریم علیہماالسلام ‘‘ کا نزول ہوگا، نزول کے وقت ان ہی حضرت ’’مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ‘‘ پر یہود و نصاریٰ ایمان لائیں گے، قیامت کے دن یہود و نصاریٰ پر یہی حضرت’’ مسیح عیسیٰ ابن مریم علیہما السلام ‘‘ گواہی دیں گے اور یہی صداقت اُن ضمیروںسے بخوبی واضح ہوتی ہے جن تین آیات مبارکہ میں آپ علیہ السلام کی بابت ضمیریںاستعمال کی گئی ہیں۔ ان جوابات کو تحریر کرنے کے بعد ہم کہتے ہیں کہ قرآن و حدیث سے اس بات کا سراغ ملتا اور پتہ چلتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مندرجہ ذیل تین باتوں

۱)…رفع جسمانی

۲)…نزول آسمانی

۳…کامل غلبہ

کی خبر وقوع سے پہلے ہی بتا اور فرمادی تھی ( سورۃ آل عمران آیت ۵۵،حدیث معراج ودیگر احادیث صحیحہ)

ہمارے نزدیک غلبہ کی دو قسمیں ہیں:

اول یہ کہ جیسے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو ملک عرب پر غلبہ حاصل تھا اور ساتھ ہی رعایا بھی آپﷺ پر ایمان و یقین رکھتی اور آپ ﷺکی مطیع وفرماں بردار تھی ، یہ غلبہ کامل ہے۔

 دوم یہ کہ ہندوستان کی تقسیم سے قبل گو انگریزوں کو ہندوستان پر غلبہ تو حاصل تھا مگر رعایا ان کے ہم مذہب اور ان کی مطیع و فرماں بردار نہ تھی،یہ غلبہ ناقص ہے۔

 اللہ تبارک وتعالیٰ نے جس طرح مندرجہ بالا تینوں باتوں کی خبر وقو ع سے پہلے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بتادی تھی بالکل اسی طرح حضرت محمد رسول اللہﷺ کو بھی مندرجہ ذیل تین باتوں

۱)…ہجرت

۲)…فتح مکہ

۳)…کامل غلبہ

کا وقوع سے پہلے ہی ارشادفرما اور بتا دیا تھا، ہجرت کے متعلق تو گزر چکا ہے، باقی دونوں باتوں کی بابت قرآن پاک ارشاد فرماتا ہے:

ان الذی فرض علیک القران لرادک الی معاد

جس شخص نے حکم بھیجا تجھ پر قرآن کا وہ پھر لانے والا ہے تجھ کو پہلی جگہ۔( سورۃ القصص:آیت ۸۵)

حضرت مولانا شاہ عبدالقادر دہلویؒ اس آیت مبارکہ کے تحت تحریر فرماتے ہیں:

’’پھر لاوے گا پہلی جگہ، یہ آیت اُتری ہجرت کے وقت یہ تسلی فرمادی کہ پھر مکہ میں آئو گے، سو خوب طرح آئے پورے غالب ہو کر‘‘( موضح القرآن)

مکہ معظمہ کی اور لوگوں کے ایمان لانے اور اسلام میں داخل ہونے کی خبریوں ہے:

اذاجاء نصراللّٰہ والفتح ورأیت الناس یدخلون فی دین اللّٰہ افواجا( سورۃ النصر)

ترجمہ:جب آوے مدد خدا کی اور فتح ہو مکہ اور دیکھے تو لوگوں کو داخل ہوتے ہیں بیچ دین اللہ کے فوج در فوج۔

 غرض یہ کہ جس طرح تینوں باتوں کا تعلق امام الانبیائﷺ سے تھا۔وہ تینوں باتیں آپﷺ کی وفات مبارکہ سے پہلے آپﷺ کی حیات مقدسہ میں پوری ہوئیں، بالکل اسی طرح جن تین باتوں کا تعلق حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہے وہ بھی آپ علیہ السلام کی وفات مبارکہ سے قبل آپ علیہ السلام کی حیات مقدسہ میں ضروری پوری ہوں گی۔ چنانچہ جو پیشنگوئی آپ علیہ السلام کے نزولِ آسمانی اور آمدِ ثانی کے متعلق اور آپ علیہ السلام پر اہل کتاب( یہودو نصاریٰ) کے ایمان لانے کی بابت ہے۔ قرآن کریم اسے یوں ارشاد فرماتا ہے:

وان من اھل الکتاب الا لیؤمنن بہ قبل موتہ ویوم القیمۃ یکون علیھم شھیدا

ترجمہ: اور نہیں کوئی اہل کتاب سے مگر البتہ ایمان لاوے گا ساتھ اس کے پہلے موت اس کی کے اور دن قیامت کے ہوگا اوپر ان کے گواہ‘‘( ترجمہ حضرت مولانا شاہ رفیع الدین محدث دہلویؒ)

رسول ِ اکرمﷺ نے جب مکہ معظمہ فتح فرمایاتو اس وقت سے پہلے جو کافر و مشرک مر گئے وہ تو گئے مگر جو فتح مکہ کے وقت زندہ تھے وہ آپﷺ پر ایمان لائے اور آپﷺ کو کامل غلبہ حاصل ہوا۔ بالکل اسی طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے نزول سے پیشتر جو اہل کتاب مر گئے وہ تو گئے مگر جو آپ علیہ السلام کے نزول کے وقت زندہ ہوں گے وہ آپ علیہ السلام کی موت سے قبل آپ علیہ السلام پر ضرور ایمان لائیں گے اور آپ علیہ السلام کو کامل غلبہ حاصل ہوگا۔ فرقان حمید کی یہ پیشینگوئی نبی اکرمﷺ کی حیات طیبہ میں پوری ہوئی تھی گو خط کشیدہ الفاظ نمبر ایک و دو ایک جیسے نہیں مگر مفہوم کے لحاظ سے یکساں اور مطلب میں بالکل مترادف ہیں۔

 ا س کے علاوہ اگر ان

۱)…رأیت الناس

۲)…یکون علیہم شہیدا

دونوں مقامات کے الفاظ مبارکہ پر گہری نظر ڈالی جائے تو یہ بات بخوبی ظاہر ہوتی ہے کہ ان دونوں مقامات کے یہ الفاظ مبارک مفہوم کے لحاظ سے مساوی اور مطلب کے اعتبار سے بالکل برابر ہیں۔

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online