Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 630

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 630)

تشریح:مال کی کثرت کو عام طور سے مشکلات کے حل کی کلید سمجھا جاتا ہے اور لوگ اس کے لئے سرگرداں رہتے ہیں ، لیکن آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ:مال کی محبت، اس کوزیادہ سے زیاہ بڑھانے کا جنون اور اس کے ذریعے خواہشات پورا کرنے کا شوق دل کا روگ ہے، جو آدمی کو احکام الہٰیہ کی تعمیل، آخرت کی یاد اور موت کی تیاری سے غافل کردیتا ہے اسی کی خاطر لڑائی جھگڑے کھڑے ہوتے ہیں، قتل و غارت اور فتنہ و فساد برپاہوتا ہے، اسی سے حسد، کینہ، عداوت ،بخل، طمع جیسے امراضِ قلب پیدا ہوتے ہیں، یہی مال انسان کو کبر ونخوت ،غرور و پندار اور خود بینی و خود نمائی پر آمادہ کرتا ہے، اسی کی خاطر آدمی اپنے دین و ایمان اور عقیدہ و ضمیر کو دائو پر لگادیتا ہے، اس لئے مال کی محبت سارے فتنوں کی جڑ ہے۔ یہ ایک ایسا مرض ہے جو انسان کے دین و اخلاق کو بگاڑ کررکھ دیتا ہے، اسی مرض کی اصلاح کے لئے اہل اللہ کی صحبت اختیار کی جاتی ہے اور اسی کے لئے مجاہدات و ریاضات کی ضرورت پیش آتی ہے، حق تعالیٰ شانہ ہمیں بھی اس مرض سے شفاء عطاء فرمائے۔

اگر ابن آدم کے پاس مال کی دووادیاں ہوتیں تو یہ تیسری کو تلاش کرتا

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا:’’اگر ابنِ آدم کے پاس ایک وادی سونے سے بھری ہوئی ہو تو یہ پسند کرے گا کہ اس کے پاس ایک اور وادی ہو اور اس کے پیٹ کو صرف مٹی بھر سکتی ہے اور حق تعالیٰ شانہ اس شخص کی توبہ قبول فرماتے ہیں جو توبہ کرے۔‘‘

 تشریح: اس حدیث پاک میں تین مضمون ارشاد ہوئے ہیں:

اول انسان کا بالطبع مال کا حریص ہونااور مال و دولت سے اس کا سیرنہ ہونا، سوائے ان مقبولانِ الہٰی کے جن کے دل مال کی ناپاک محبت سے پاک ہوگئے ہیں، عام انسانوں کا حال یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ مال سمیٹنے کی فکر ان پر سوار رہتی ہے اور وہ اس کو بڑھانے کے لئے کوشاں رہتے ہیں، فرض کیجئے ! کسی کو اس قدر مال و دولت مل جائے کہ اس سے پوری ایک وادی بھر جائے تب بھی اس کی طبیعت سیر نہیں ہوگی بلکہ یہ چاہے گا کہ کاش! ایک وادی اور ہو اور اگر ایک اور مل جائے تو چاہے گا کہ ایک تیسری وادی بھی ہو۔ الغرض! ہفت اقلیم کی سلطنت اور روئے زمین کی دولت ایک آدمی کی پیاس بجھانے کے لئے بھی کافی نہیں بلکہ حرص و ہوس کی دوزخ سے ہمیشہ( ھل من مزید) کی صدا بلند ہوتی ہے، اس لئے عقل مند وہ ہے جو یہاں طبیعت بھرنے کی فکر نہ کرے، بلکہ بقدرِ ضرورت قناعت کرکے حق تعالیٰ شانہ کی یاد میں لگارہے:

کارِ دنیا کسے تمام نہ کرد

ہرچہ گیرید مختصر گیرید

دوسرا مضمون یہ ارشاد ہوا ہے کہ آدمی کا پیٹ صرف مٹی بھر سکتی ہے، مٹی سے قبر کی مٹی مراد ہے یعنی آدمی کے مال کی حرص ختم نہ ہوگی یہاں تک کہ اس کی موت واقع ہوجائے اور قبر کی مٹی اس کا پیٹ بھرے۔ شیخ سعدی ؒ نے درج ذیل شعر میں اس حدیث کا گویا ترجمہ کردیا ہے:

گفتہ اندچشم تنگ دنیا دار را

 یا قناعت پر کندیا خاکِ گور

اس ارشاد میں حریص آدمی کی دنائت ورذالت کی طرف بھی لطیف اشارہ ہے، یعنی بجائے اس کے کہ دنیا کے مال ودولت سے جو مٹی سے پیدا ہوئے ہیں اور جن کا انجام بھی مٹی ہے یہ شخص سیر چشمی اختیار کرتا اور حق تعالیٰ شانہ کی عبادت و رضاجوئی میں مشغول ہو کر آخرت کی نعمتوں اور لذتوں سے کامران و شاد کام ہوتا، اس نے مٹی کی حرص اور رغبت اس قدر کی کہ قبر کی مٹی کے سوا کوئی چیز اس کا پیٹ نہ بھر سکی۔

تیسرا مضمون یہ ارشاد فرمایا ہے کہ جو شخص حق تعالیٰ شانہ کی طرف رجوع کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں یعنی دنیا کی حرص و لالچ سے وہی شخص محفوظ رہ سکتا ہے جس کو حق تعالیٰ شانہ توفیق عطاء فرمائیں، تو فیق الہٰی کے حصول کے لئے بارگاہِ خداوندی میں جھکنا، اس سے رجوع کرنا اور اس کی ذاتِ عالی سے دنیا کے زہر سے بچنے کی توفیق مانگنا لازم ہے، پس جو شخص حق تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، دنیا کی حرص چھوڑ کر پیشۂ قناعت اختیار کرے اور حق تعالیٰ کے جناب میں توبہ و انابت اختیار کرے، حق تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمالیتے ہیں، اس کے دل کو غنا سے بھر دیتے ہیں، اسے خزانۂ غیب سے رِزق عطاء فرماتے ہیں وہ اپنے سازو سامان کی قلت کے باوجود اہل دنیا سے زیادہ غنی ہوجاتا ہے، بلکہ واقعۃً یہی شخص غنی ہے ورنہ دنیا کے حریص لاکھوں کروڑوں کے باوجود فقیر ہیں۔

بوڑھے کا دِل دوچیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’بوڑھے کادل دوچیزوں کی محبت میں جوان ہوتا ہے: زندگی کا لمبا ہونا اور مال کی کثرت۔‘‘

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے آنحضرتﷺ نے ارشاد فرمایا: ابن آدم بوڑھا ہوتا رہتا ہے مگر اس کی دو عادتیں جو ان ہوتی رہتی ہے ایک زندہ رہنے کی حرص، دوسرے مال کی حرص۔‘‘

تشریح:یعنی یہاں کی زندگی اور مال و دولت کی محبت آدمی کی طبیعت میں جاگزیں ہے اگر اس کی اصلاح نہ کی جائے تو یہ عمر کے ساتھ ساتھ بڑھتی رہتی ہے، آدمی بوڑھا ہوجاتا ہے، اس کا پیمانۂ عمر لبریز ہوجاتا ہے لیکن دنیا میں رہنے کی خواہش اور مال کی حرص اس میں جوانوں سے زیادہ ہوتی ہے اس لئے کہ جوانی کے زمانے میں جو عادت پڑ جائے اور جیسا مزاج بن جائے، بڑھاپے میں وہ پختہ تر ہو جاتا ہے اور اس کی اصلاح دشوار ہوجاتی ہے، اس حدیث کی دعوت یہ ہے کہ دنیا میں سدا قیام کی محبت اور مال کی حرص ایک مرض ہے جس کا علاج جوانی کے زمانے ہی میں ہو جانا چاہئے اور اس کا علاج ہے دنیا کے فنا و زوال کو سوچنا، آخرت کی لامحدود اور دائمی زندگی کو پیش ِ نظر رکھنا، موت کو یاد کرنا، اہل اللہ کی صحبت میں بیٹھنا اور اہل دنیا کی صحبت سے احتراز کرنا۔ واللہ الموفق!

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online