Bismillah

664

۸تا۱۴صفر المظفر۱۴۴۰ھ  بمطابق    ۱۹تا۲۵اکتوبر۲۰۱۸ء

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 630

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 630)

زمانہ حادثہ

شاہ عبدالقادر نور اللہ مرقدہ اور ان کے اتباع میں بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ حضرت دائود علیہ السلام کے زمانہ میں پیش آیا ہے لیکن ابن جریر ، ابن کثیر، ابو حیان اور امام رازی رحمہم اللہ جیسے جلیل القدر مفسرین کے طرزبیان اور خود قرآن عزیز کے اسلوب سے یہ قول صحیح نہیں معلوم ہوتا۔

اس لئے کہ قرآن عزیز نے اس واقعہ کو سورئہ اعراف میں قدرے تفصیل سے بیان کیا ہے اور وہاں یہ بتایا ہے کہ جب یہ واقعہ پیش آیا تو اہل بستی تین جماعتوں میں تقسیم ہوگئے تھے ، ان میں سے ایک جماعت سرکش اور حیلہ باز نافرمانوں کو راہ ہدایت پر قائم رکھنے کی سعی کر رہی تھی، پس اگر یہ واقعہ حضرت دائود علیہ السلام کے زمانہ میں پیش آیا تو یہ بات بعید ازقیاس اور بعیدازاسلوب قرآن تھی کہ وہ ایسے موقع پر جبکہ انسانوں کی ایک بہت بڑی جماعت پر مسخ کا عذاب مسلط ہونے کا ذکر کررہا ہو، اس زمانہ کے پیغمبر کا اس سلسلہ میں قطعاً کوئی ذکر نہ کرے اور یہ نہ بتائے کہ نافرمان قوم کے اور ان کے درمیان کیا معاملہ پیش آیا ،نیز سلف صالحین سے بھی کوئی ایسی روایت موجود نہیں ہے کہ جس سے یہ واضح ہوتا ہو کہ یہ واقعہ حضرت دائود علیہ السلام کے زمانہ میں پیش آیا اور نہ تاریخ ہی اس کے لئے کوئی مواد بہم پہنچاتی ہے۔ اس لئے مذکورۃ الصدر جلیل المرتبت مفسرین نے بھی اس واقعہ سے متعلق چاروں مقامات میں سے کسی ایک مقام کی تفسیرمیں یہ ذکر نہیں کیا کہ یہ واقعہ حضرت دائود علیہ السلام کے زمانہ میں پیش آیا، پھر نہیں معلوم کہ حضرت شاہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے یہ کس جگہ سے اخذ فرمایا کہ یہ واقعہ دائود علیہ السلام کے زمانہ کا ہے ممکن ہے کہ انہوں نے سورئہ مائدہ کی اس آیت سے یہ اندازہ لگایا ہوا:

لعن الذین کفروا من بنی اسرائیل علی لسان داؤد وعیسی ابن مریم ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون( سورئہ مائدہ:۷۸)

دائودو عیسی بن مریم کی زبانی بنی اسرائیل میں سے وہ لوگ لعنت کیے گئے جنہوں نے کفر کیا اس لئے کہ وہ نافرمانی کے خوگر تھے اور حد سے گزرے ہوئے تھے۔

مگر اس آیت سے استدلال صحیح نہیں ہے اس لئے کہ اول تو اس مقام پر بنی اسرائیل کی عام گمراہی کا تذکرہ ہے، خاص سبت کا واقعہ زیر بحث نہیں ہے۔ دوسرے اس میں صرف دائود علیہ السلام ہی کا ذکر نہیں ہے بلکہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا بھی تذکرہ ہے، چنانچہ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں تحریر فرماتے ہیں:

’’اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ بنی اسرائیل میں سے کفر کرنے والوں پر دائود علیہ السلام کی زبانی زبور میں عرصۂ دراز کے بعد لعنت کی گئی اور عیسیٰ ابن مریم کی زبانی بھی انجیل میں۔ اس لئے کہ خدا کی نافرمانیوں، مسلسل سرکشیوں اور مخلوق خدا پر ظلم کرنے کی وجہ سے اسی قابل تھے کہ ان پر لعنت ہوتی رہے( تاکہ دوسرے لوگ عبرت پکڑیں) عوفیؒ کہتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے وہ آیت کی تفسیر میں یہ فرمایا کرتے تھے کہ بنی اسرائیل میں سے کفر کرنے والوں پر توراۃ ، انجیل، زبور اور قرآن سب ہی کتابوں میں لعنت کی گئی ہے۔

 الحاصل قرآن کے اسلوب بیان اور جلیل القدر مفسرین کی شرح و تفصیل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اصحاب سبت کا یہ واقعہ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت دائود علیہ السلام کے درمیانی زمانہ میں کسی ایسے وقت پیش آیا جبکہ ایلہ میں کوئی نبی موجود نہیں تھے اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فریضہ وہاں کے علماء حق ہی کے سپرد تھا ،اس لئے قرآن عزیز نے صرف ان ہی کا تذکرہ کیا اور کسی نبی یا پیغمبر کا ذکر نہیں کیا۔

 چند تفسیری حقائق

۱)…سورئہ بقرہ میں اصحاب سبت کے تذکرہ میں ہے نکالالما بین یدیھا وما خلفھا تو مابین یدیھا وما خلفھا سے کیا مراد ہے؟ اس کے جواب میں مفسرین کے متعدد اقوال میں سے بہتر قول حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے یعنی اس سے وہ بستیاں مراد ہیں جوایلہ کے گردوپیش آباد تھیں اور مشہور تابعی سعید بن جبیرؒ کے قول سے بھی اسی کی تائید ہوتی ہے:

عن ابن عباس لمابین یدیھا من القریٰ وما خلفھا من القریٰ(تفسیر ابن کثیر ج۱)

ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مراد یہ ہے کہ ایلہ کے سامنے اور پیچھے جوبستیاں ہیں ان کے لئے ہم نے اس کو عبرت بنادیا۔

وقال سعید بن جبیر ای من یحضرھا من الناس یومئذ (تفسیر ابن کثیر ج ۱)

اور سعید بن جبیر فرماتے ہیں: مراد یہ ہے کہ اس زمانہ میں جو لوگ تھے ایلہ کو ہم نے ان کے لئے سامان عبرت بنادیا

۲)…اسی واقعہ سے متعلق سورئہ اعراف میں ہے:

کذلک نبلوھم بما کانوا یفسقون

یعنی ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ہم نے ان کو امتحان و آزمائش میں مبتلا کردیا۔

یہ اس طرف اشارہ ہے کہ جب بنی اسرائیل نے جمعہ کو یوم عبادت تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور سبت ( سنیچر) کے یوم عبادت بنائے جانے پر موسیٰ علیہ السلام سے جھگڑا کیا تو ہم نے اگر چہ ان کی بات مان لی لیکن سبت کے معاملہ میںہم نے ان کو کڑی آزمائش میں ڈال دیا اور آزمائش کا یہ معاملہ مچھلی کے شکار سے متعلق تھا جس کی تفاصیل تم سن چکے ہو۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online