Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

الفقہ 630

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 630)

’’اذان کی کیفیت کا بیان یہ ہے کہ وہ اسی طریقہ پر دی جائے جو تواتر کے ساتھ منقول ہے، جمہور علماء کے نزدیک نہ اس میں زیادتی کی جا سکتی ہے اور نہ کمی۔‘‘

نیز علامہ ابن نجیم مصریؒ’’ شرح مہذب‘‘ سے نقل کرتے ہیں کہ اذان میں ’’حی علی خیرالعمل ‘ ‘ کہنا مکروہ ہے،کیونکہ رسول اللہﷺ سے ثابت نہیں اور اذان میں اپنی طرف سے کوئی اضافہ مکروہ ہے’’ والزیادۃ فی الاذان مکروھۃ‘‘ (البحرالرائق:ج۱ص۴۵۰)

ہاتھ اُٹھا کر اذان کی دعاء اور اس سے پہلے بسم اللہ

س:اذان کے بعد جو دعاء پڑھی جاتی ہے، وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کے بعد ہاتھ اُٹھا کر پڑھی جائے یا بغیرہاتھ اُٹھائے پڑھ سکتے ہیں؟

ج:میرے علم میں کوئی ایسی حدیث نہیں جس میں اذان کے بعد کی دعاء سے پہلے بسم اللہ پڑھنے کا ذکر ہو، دوسرے مواقع پر یہ بات تو ثابت ہے کہ آپﷺ دعاء سے پہلے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان فرماتے ، بلکہ آپﷺ نے اس کی تلقین بھی کی ہے ، لیکن دعاء سے پہلے خاص طور پر بسم اللہ پڑھنا غالباً منقول نہیں، اس لئے اس موقع میں صرف اذان کی دعاء پڑھنے پر اکتفا کریں، جہاں تک اس دعاء میں ہاتھ اٹھانے کی بات ہے تو جو دعائیں خاص مواقع ( احوال متواردہ) سے متعلق ہیں، جیسے کھانے سے پہلے اور بعد کی دعائ، مسجد میں داخل ہونے اور نکلنے کی دعائ، اسی طرح اذان کے بعد کی دعاء ان دعائوں میں میرے حقیر علم کے مطابق آپﷺ کا ہاتھ اٹھانا منقول نہیں، اس لئے اذان کے بعد کی دعاء صرف زبان سے پڑھنی چاہئے، کیونکہ اصل مقصود آپﷺ کی اتباع و پیروی ہے اور آپﷺ کے نقش قدم پرچلنے میں ہی دنیا اور آخرت کی فلاح ہے۔

گھڑی میں اذان کا الارم

س:آج کل گھڑی کے الارم میں اذان بھری گئی ہے، بغیر وقت نماز کے الارم لگا کر اذان سننا جائزہے؟

ج:الارم کے طور پر اذان لگانے میں کچھ حرج نہیں، حضرت بلال رضی اللہ عنہ رسول اللہﷺ کو نماز کے لئے بلاتے ہوئے’’الصلوٰۃ خیر من النوم‘‘ کی صدا لگاتے تھے(مجمع الزوائد: ج۱ص ۳۳۰،کنزالعمال) جو اذان ہی کا ایک فقرہ ہے، البتہ دوباتوں کا اہتمام ضروری ہے، ایک تو لہو و لعب کے مقام پر ایسا الارم لگانا مناسب نہیں کہ خلاف ادب ہے، دوسرے وقت نماز شروع ہونے سے کچھ پہلے الارم لگایا اور اندیشہ ہے کہ اس کی وجہ سے نماز پڑھنے والے یا روزہ رکھنے والوں کو التباس ہوجائے گا، تو جائز نہیں، کیونکہ دھوکہ دینا سخت گناہ ہے۔

کلماتِ اذان کی بیل

س:آج کل گھروں میں ایسی بیل لگائی جاتی ہے جس میں اذان کے کلمات ریکارڈ ہوتے ہیں اور بعض میں صرف ’’اللہ اکبر‘‘ کی آواز ہوتی ہے، ایسی بیل لگانے کا کیا حکم ہے؟

ج:اذان کے کلمات اور اللہ تعالیٰ کا نام نامی قابلِ احترام ہے اور کسی چیز کو بے محل استعمال کرنا بھی بے احترامی میں شامل ہے، چنانچہ فقہاء نے اس بات کو منع کیا ہے کہ چوکیدار محض لوگوں کو جگانے کے لئے’’لاالہ الا اللہ‘‘ پڑھے (فتاویٰ ہندیہ:ج۵ص۳۱۵) اس لئے میرے خیال میں الارم اور بیل وغیرہ کے لئے اللہ تعالیٰ کے پاک ناموں، قرآن مجید کی آیتوں اور اذان کے کلمات کا استعمال کرنا کراہت سے خالی نہیں۔ واللہ اعلم

تنہا نماز پڑھنے والے کے لئے اقامت

س:کیا گھر میں یاکسی اور جگہ تنہا فرض نماز پڑھنے والے کو اقامت کہنا ضروری ہے؟

ج:اقامت کہنا سنتِ مؤکدہ ہے، بشرطیکہ جماعت کے ساتھ نماز پڑھی جائے،اگر تنہا نماز ادا کی جائے تب بھی اقامت کہہ دینا بہتر ہے، البتہ تنہا پڑھنے والے کے لئے سنتِ مؤکدہ نہیں ،طحاوی میں ہے:

’’اتیان المنفردبہ علی سبیل الافضلیۃ فلایسن فی حقہ مؤکدا‘‘(ص۱۰۵)

اقامت پہلے درود شریف

س:ایک عالم صاحب کا کہنا ہے کہ اقامت سے پہلے درود شریف پڑھے، کیا حدیث میں ایسا کرنا ثابت ہے؟

ج:رسول اللہﷺ پر صلوٰۃ و سلام بھیجنا نہایت اجر و ثواب کا کام ہے، لیکن امامت سے پہلے رسول اللہﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم کے عہد میںدرود شریف پڑھنا ثابت نہیں، حدیث کی کتابوں میں اذان واقامت کے ابواب موجود ہیں ، اسی طرح حنفی کتب میں بھی اذان و اقامت سے متعلق ایک ایک حکم کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، اس میں اقامت سے پہلے درود شریف پڑھنے کا ذکر نہیں، ہاں! عام حالات میں جتنا درود پڑھا جائے کم ہے۔

 اقامت کا جواب

س:جس طرح اذان کا جواب دینا ہے، کیا اسی طرح اقامت کا بھی جواب دینا ہے؟

ج:جی ہاں! اذان کی طرح اقامت کا بھی جواب دینا چاہئے، فرق یہ ہے کہ اذان کا جواب دینا بعض حضرات کے نزدیک واجب ہے اور اقامت کا جواب مستحب، اقامت میں’’قد قامت الصلوٰۃ‘‘کے جواب میں ’’اقامہا اللّٰہ و ادامہا‘‘(سنن ابی داؤد:رقم۵۲۸) کہنا چاہئے:

’’ویجیب الاقامۃ ندبااجما عا کالاذان ویقول عند’’قد قامت الصلاۃ‘‘’’اقامھا اللّٰہ وادامھا‘‘(الدرالمختار علی ہامش رد:ج۲ص۷۱)

اقامت میں دائیں بائیں چہرہ پھیرنا

س:اذان کہتے ہوئے’’حی علی الصلوٰۃ‘‘پر دائیں اور ’’حی علی الفلاح‘‘پر بائیں طرف رخ کیا جاتا ہے، کیا اقامت کہتے ہوئے بھی اسی طرح دائیں اور بائیں رخ کرنا چاہئے؟

 ج:اذان میں’’حی علی الصلوٰۃ‘‘ اور’’حی علی الفلاح‘‘ پر دائیں اور بائیں گردن موڑنا حدیث سے ثابت ہے(سنن ابی داؤد:رقم۵۲۰) لیکن اقامت میں اس طرح کہنا ثابت نہیں، وجہ اس کی ظاہر ہے کہ اذان میں دور کے لوگوں کو باخبر کرنا مقصود ہے، اس لئے دائیں بائیں رخ کیا جاتا ہے تاکہ ہر طرف مؤذن کی آواز پہنچ جائے، اقامت کا مقصد جو لوگ مسجد میں موجود ہیں، صرف ان کو متوجہ کرنا ہے اور اس میں دائیں بائیں رخ کرنے کی حاجت نہیں، گو بعض فقہاء نے اقامت میں بھی اذان کی مماثلت کی وجہ سے دائیں بائیں رخ کر نے کو کہا ہے، لیکن اکثر فقہاء کے نزدیک زیادہ صحیح اور درست یہی رائے ہے کہ اقامت میں’’حی علی الصلوٰۃ‘‘ اور ’’حی علی الفلاح‘‘ پر دائیں بائیں رخ کرنا مستحب نہیں، علامہ ابن نجیم مصریؒ کہتے ہیں:’’لایحول فیھالانھا اعلام للحاضرین‘‘(البحرالرائق:ج۱ص۲۵۸) اور جو ہرہ میں ہے:

’’ھل یحول فی الا قامۃ؟قیل:لا،لانھا اعلام للحاضرین‘‘(ج۱ص۲۶طبع دیوبند)

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online