Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 634

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 634)

اور غالباً یہی وجہ ہے کہ صحیح احادیث میں یہ آتا ہے کہ جو قومیں حیوانات کی شکل میں مسخ ہوئی ہیں وہ تین دن سے زیادہ زندہ نہیں رہیں۔ یعنی مسخ کا عذاب ان کے اندر و ظاہر کو اس درجہ فاسد اور گندہ کردیتا ہے کہ وہ پھر جانبر نہیں ہو سکتیں اور جلد ہی موت کی آغوش میں چلی جاتی ہیں۔

 اس مقام پر یہ شبہ پیدا نہیں کرنا چاہئے کہ اگر مسخ کو معنیً اور صورتاً دونوں حیثیت سے تسلیم کرلیا جائے تو اس سے تناسخ( آواگون) لازم آجاتا ہے حالانکہ یہ باطل اور فاسد عقیدہ ہے یہ شبہ اس لئے صحیح نہیں ہے کہ تناسخ میں روح( جیو) ایک قالب( کالبد) کو چھوڑ کر دوسرے قالب میں چلی جاتی ہے اور انسانی اعمال نیک و بد کی پاداش میں جون بدلنے کا یہ سلسلہ ازل سے ابد تک یونہی قائم ہے اور رہے گا لیکن مسخ کی صورت میں نہ روح بدلتی ہے اور نہ قالب بدلتا ہے بلکہ وہی قالب( جسم) ایک خاص ہیئت اور حقیقت سے دوسری حقیقت و ہیئت میں تبدیل ہو کر موت کی نذر ہوجاتا اور دوسرے مردہ انسانوں کی طرح مالک حقیقی کے سامنے اپنے اعمال کے جواب دہ ہونے کے لئے عالم برزخ کے سپرد کر دیا جاتا ہے۔

حضرت ابن عباس اور عکرمہ  رضی اللہ عنہما کا مکالمہ

حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ جو حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگرد رشید ذکی و فہیم اور جلیل القدر تابعی ہیں فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا، دیکھا کہ ان کی گود میں قرآن عزیز کھلا ہوارکھا ہے اور ان پر گریہ طاری ہے یہ دیکھ کر کچھ دیر تو میں ان کی عظمت کی وجہ سے دور بیٹھا رہا مگرجب اس حالت میں ان پر کافی وقت گزرگیا تو مجھ سے نہ رہا گیا اور میں نے قریب جا کر  سلام عرض کیااورعرض کیا:اللہ تعالیٰ مجھ کو آپ پر قربان کرے یہ تو فرمائیے کہ آپ کس لئے اس طرح رورہے ہیں؟ابن عباس رضی اللہ عنہما فرمانے لگے: میرے ہاتھ میں جو یہ ور ق ہیں مجھ کو رلا رہے ہیں، میں نے دیکھا تو سورئہ اعراف کے ورق تھے پھر مجھ سے فرمایا:تم ایلہ کو جانتے ہو؟ میں نے عرض کیا: جانتا ہوں، اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اس بستی میں بنی اسرائیل رہتے تھے ان کے یہاں سبت کے دن مچھلیاں پانی کی سطح پر آجاتی تھیں اور سبت کے بعد پانی کی تہ میں بیٹھ جاتی تھیں اور بمشکل ایک دوہاتھ آتی تھیں کچھ دن گزرنے پر شیطان نے ان میں سے بعض کو یہ سکھایا کہ اللہ تعالیٰ نے سبت میں مچھلی کھانے کو منع فرمایا ہے مچھلی کے شکار کو نہیں منع فرمایا اس لئے انہوں نے یہ کیا کہ سبت کے دن خاموشی کے ساتھ مچھلیاں پکڑ لیتے اوردوسرے دن کھالیتے ،جب یہ حیلہ عام ہوگیا تو اہل حق نے ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ سبت کے دن مچھلی پکڑنا شکار کرنا اور کھانا سب منع ہے لہٰذا تم اس حیلہ جوئی کو چھوڑ و ورنہ خدا کا عذاب تم کو برباد کرڈالے گا۔ مگر جب انہوں نے نہ مانا تو اس دوسری جماعت میں سے ایک جماعت اگلے ہفتہ ان سے جدا ہوگئی اور وہ مع اپنے اہل و عیال ان سے دور جا بسے اور ایک جماعت نے سبت کی خلاف ورزی کو برا تو جانا مگر مخالفین کے ساتھ ہی رہنے سہنے اور ان سے ترک تعلق نہیں کیا چنانچہ داہنے بازو( ایمنون) یعنی ترک تعلق کرنے والوں نے جب نافرمانوں کو ڈانٹا اور عذاب الہٰی سے ڈرایا تو بایاں بازو( ایسرون) کہنے لگا: لم تعظون قومااللّٰہ مھلکھم اومعذبھم تب( ایمنون) نے جواب دیا معذرۃ الی ربکم ولعلھم یتقون بالآخر ایک روز امر بالمعروف کرنے والی جماعت نے مخالفین کو مخاطب کر کے کہا کہ یا تو تم جاز آجائو ورنہ ہم یقین کرتے ہیں کہ کل تم پر ضرور کوئی عذاب نازل ہو کر رہے گا۔

 اس کے بعد سرکشوں پر عذاب نازل ہونے کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اس واقعہ میں دو جماعتوں کے مآل انجام کا ذکر فرمایا ہے ایک سرکش اور متمر د انسانوں کی جماعت جو ہلاک اور مسخ کر دی گئی اور دوسری( ایمنون) امر بالمعروف و نہی عن المنکر کرنے والی جماعت کہ اس نے نجات پائی اور عذاب سے محفوظ رہی لیکن تیسری جماعت یعنی ساکتین( ایسرون) کاکوئی ذکر نہیں فرمایا اور میرے دل میں ان کے متعلق ایسے خیالات آتے ہیں کہ ان کو زبان سے کہنا پسند نہیں کرتا یعنی امر بالمعروف ونہی عن المنکر سے چونکہ باز رہے اگر چہ خود خلاف ورزی کے مرتکب نہیں ہوئے لہٰذا وہ بھی کہیں عذاب کے تو مستحق نہیں قرار دئیے گئے اور سرکشوں کے زمرہ میں تو داخل نہیں کر لئے گئے) تب میں نے عرض کیا:میں آپ پر فدا ہوجائوں آپ اس بارہ میں اس قدر پریشان نہ ہوں بلاشبہ یہ تیسری جماعت بھی نجات پانے والوں میں ہی رہی اس لئے کہ خود قرآن عزیز ان کے متعلق یہ کہتا ہے کہ انہوں نے نصیحت کرنے والوں سے یہ کہا کہ تم ایسی جماعت کو کس لئے نصیحت کرتے ہو جس کی بداعمالیوں کی بناء پر خدائے تعالیٰ یا ان کو ہلاک کرنے والا ہے اور یا کسی سخت عذاب میں ڈالنے والا ہے تو ان کے متعلق قرآن عزیز کی یہ تعبیر صاف صاف بتارہی ہے کہ وہ ہلاک نہیں کیے گئے ورنہ تو ان کا ذکر بھی ہلاک ہونے والوں ہی کے ساتھ کیا جاتا، نجات پانے والوں کے ہلاک نہیں کیے گئے ورنہ تو ان کا ذکر بھی ہلاک ہونے والوں ہی کے ساتھ کیا جاتا نجات پانے والوں کے ساتھ نہ ہوتا۔ نیز یہ جماعت اس عمل بدکے بدکرداروں کی حرکات سے مایوس ہو کر ایسا کہتی تھی اس لئے بھی مستحق عذاب نہیں ہے۔

 حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے یہ سنا تو بیحد مسرور ہوئے اور آیات کی اس تفسیر پر مجھ کو خلعت بخشا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online