Bismillah

648

۳۰رمضان المبارک تا۶شوال ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۱۵تا۲۱ جون۲۰۱۸ء

الفقہ 634

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 634)

تکبیر تحریمہ کے چند مسائل

س:(الف) دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ رکعت باندھتے وقت کاندھوں تک ہاتھ اُٹھانے کے بجائے تھوڑا سا اوپر اُٹھاتے ہیں، کیا یہ درست ہے؟

ب۔ بعض لوگ تھوڑا ساجھک کر رکعت باندھتے ہیں، کیا یہ طریقہ درست ہے؟

ج:کچھ لوگ ہاتھ کانوں سے لگاتے ہیں، لیکن ہاتھوں کا رخ کانوں کی طرف ہوتا ہے نہ کہ قبلہ کی طرف، کیا اس طرح تحریمہ باندھا جا سکتا ہے۔

 ج:(الف) تحریمہ کے لئے ہاتھ اٹھانے کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھا کانوں کی لوکے مقابل ہو اور انگلیاں کان کے اوپری حصہ کے مقابل اور ہتھیلی کانچلا حصہ مونڈھوں کے مقابل، اس طرح تکبیر تحریمہ کہتے وقت ہاتھ اٹھانے کی جو مختلف کیفیتیں حدیث میں مروی ہیں ان سب پر عمل ہوجاتا ہے، اس لئے فقہاء نے اسی طریقہ کو مسنون قرار دیا ہے(الفتاویٰ الہندیہ:ج۱ص۷۳) چونکہ یہ سنت ہے، اس لئے اگر اس عمل کا استخفاف اور اس کو غیر اہم قرار دینا مقصود نہ ہو تو مکروہ نہیں، البتہ بہتر طریقہ کے خلاف ہے، فقہاء نے لکھا ہے کہ یہ ’’موجب اساء ت‘‘ ہے اور ’’اساء ت‘‘ کراہت سے کمتر درجہ ہے۔

’’ترک السنۃ لایوجب فساداولاسھوا بل اساء ۃ … وقالواالاسائۃ دون من الکراھۃ‘‘(الدر المختار:ج۱ص۷۳)

(ب) تکبیرِ تحریمہ کہتے وقت سر کو جھکانا نہیں چاہئے، فقہاء نے اسے بدعت قرار دیا ہے ’’وان لا یطأطأراسہ عند التکبیر‘‘(الدر المختاروالفتاویٰ الہندیہ:ج۱ص۷۳)

(ج)ہاتھ اُٹھاتے ہوئے ہتھیلیوں کا رخ قبلہ کی طرف ہونا چاہئے نہ کہ کان کی طرف، اس طرح ہاتھ اُٹھانا خلاف سنت ہے۔’’یستقبل ببطون کفیہ الی القبلۃ‘‘(الدر المختار:ج۱ص۷۲)

تکبیر اولیٰ کے پانے سے مراد کیا ہے؟

س:حدیث پاک میں آتا ہے کہ چالیس دن تکبیر اولیٰ کی پابندی پر دو پروانے ملتے ہیں،بعض شراح نے یہ قید لگائی ہے کہ امام کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہی جائے تو تکبیراولیٰ میں شریک ہوناشمار ہوگا، کذافی فضائل اعمال۔’’زید‘‘ اس کے چھوٹنے کے اندیشہ پر سنن قبل الظہر کو نماز ظہر کے بعد ادا کرتا ہے کیا یہ صحیح ہے؟نیز عند الجمہور تکبیر اولیٰ کب تک شمار ہوگی؟

ج:تکبیر اولیٰ کے پانے سے کیا مراد ہے؟ اس میں شارحین حدیث کی آراء مختلف ہیں، احناف کے یہاں ترجیح اس کو ہے کہ رکوع پانے والا بھی تکبیر اولیٰ کو پانے والا سمجھا جائے گا(العرف الشذی علی الترمذی:ج۱ص۶۲) مولانا بنوریؒ نے معارف السنن میں اس موضوع پر ایک گونہ تفصیل سے بحث کی ہے۔(ج۲ص۳۴۶)

البتہ یہ ضرور ہے کہ ظہر کی نماز کا وقت قریب آگیا اور سنت میں مشغول ہونے کی وجہ سے پہلی رکعت کے فوت ہوجانے کا اندیشہ ہو تو سنتِ ظہر کو مؤ خر کردینا چاہئے کہ حضورﷺ نے فرمایا:

’’اذاأقیمت الصلوٰۃ فلاصلوٰۃ الا مکتوبۃ‘‘(صحیح مسلم،ترمذی)

ہاتھ کہاں باندھا جائے

س:نماز میں ہاتھ کس جگہ باندھنا چاہئے؟

ج:حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نماز میں سنت طریقہ یہ ہے کہ ناف کے نیچے ایک ہاتھ پر دوسرا ہاتھ رکھا جائے(مصنف ابن ابی شیبہ،ابوداؤد) اس لئے امام ابو حنیفہؒ کے نزدیک مردوں کو ناف کے نیچے اور عورتوں کو سینے پر ہاتھ رکھنا افضل ہے(بدائع الصنائع:ج۱ص۴۷۰) عورتوں کے لئے یہ حکم اس وجہ سے ہے کہ اس میں ستر زیادہ ہے اور عورتوں کے حق میں زیادہ سے زیادہ ستر مطلوب ہے، چونکہ بعض روایتوں میں سینے پر ہاتھ باندھنے کا بھی ذکر ہے (السنن الکبریٰ للبیہقی) اس لئے بعض فقہاء سینہ پر ہاتھ باندھنے کو افضل قرار دیتے ہیں، اس مسئلہ میں زیادہ شدت نہ برتنی چاہئے اور نہ ان کو باہمی اختلاف کا ذریعہ بننے دینا چاہئے۔

 نماز میں ہاتھ باندھنے کے طریقہ کی دلیل

س:احناف کے یہاں نماز میں ہاتھ باندھنے کا جو طریقہ ہے، کیا حدیث سے اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے؟

ج:فقہاء حنفیہ نے لکھا ہے کہ ہاتھ اس طرح باندھا جائے کہ دائیں ہاتھ کی ہتھیلی بائیں ہاتھ کے اوپری حصہ پر ہو، انگشت شہادت اور اس سے متصل دوانگلیاں یعنی کل تین انگلیاں بائیں ہاتھ کے گٹوں پر ہوں اور انگوٹھا نیز چھوٹی انگلی سے بائیں ہاتھ کے گٹہ پر حلقہ بنالیا جائے، حنفیہ کے یہاں چونکہ تمام حدیثوں پر عمل کرنے کا خصوصی اہتمام ہے، اس لئے وہ کسی مسئلہ سے متعلق مختلف روایات کو جمع کرتے ہیں اور ایسی صورت اختیار کرتے ہیں جس میں سب پر عمل ہوجائے ، چنانچہ حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی ایک روایت میں ہے کہ لوگوں کو حکم دیا جاتا ہے کہ’’دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھیں‘‘(صحیح بخاری) اور ابو دائود کی روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ دائیں ہاتھ کو بائیں ہتھیلی کی پشت، گٹے اور کلائی پر رکھتے تھے:’’علی ظھرکفہ الیسری والرسخ والساعد‘‘اور ترمذی کی روایت میں ہے کہ آپﷺ بائیںہاتھ سے پکڑتے تھے ’’یاخذ شمالہ بیمینہ‘‘تو پہلی روایت سے ہتھیلی کی پشت پر ہاتھ کا رکھنا معلوم ہوا، دوسری روایت سے کلائی اور گٹے پر ہاتھ رکھنا اور تیسری روایت سے ہاتھ کا پکڑنا، احناف نے ان تینوں روایتوں پر عمل کرنے اور جمع کرنے کے لئے یہ کیفیت متعین فرمائی کہ ہتھیلی ہتھیلی کی پشت پر، تین انگلیاں گٹے اور کلائی پر ہوں اور دوانگلیوں سے حلقہ بنا کر بائیں ہاتھ کر پکڑاجائے، تاکہ کوئی روایت عمل سے محروم نہ رہ جائے، احادیث کی توضیح و تشریح اور اس پر عمل کرنے میں یہی احناف کا خاص منہج ہے، جس کے پیچھے تمام سنتوں کی اتباع کا جذبہ کار فرما ہے۔ مگر افسوس کہ جن حضرات کی نظر سطحی ہوتی ہے وہ ایک حدیث پر عمل کر کے باقی ساری حدیثوں کو نظر انداز کردیتے ہیں اور اپنی لاعلمی کی وجہ سے اپنے آپ کو متبع سنت خیال کرتے ہیں اور جو لوگ تمام سنتوں کا احاطہ کرتے ہیں، ان کو تارک سنت کہنے سے بھی نہیں چوکتے۔ والی اللہ المشتکیٰ

ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے کی حدیث اور صحیح بخاری

س:احناف ناف کے نیچے ہاتھ باندھتے ہیں، بعض لوگ کہتے ہیں کہ ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے پر کوئی حدیث نہیں ہے، کیا اس سلسلہ میں کوئی حدیث ہے؟اگر بخاری کی حدیث ہو تو خاص طور پر اس کا ذکر کریں؟

ج:حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:

’’من السنۃ وضع الکف علی الکف فی الصلاۃ تحت السرۃ‘‘(سنن ابی داؤد مع المنہل:ج۳ص۱۶۳)

’’نماز میں ناف کے نیچے ہاتھ پر ہاتھ رکھنا سنت ہے۔‘‘

ظاہر ہے کہ جب صحابی رضی اللہ عنہ کسی چیز کو سنت قرار دے تو اس سے رسول اللہﷺ کی سنت ہی مراد ہو سکتی ہے نیز ہاتھ باندھنے کا مقصد اللہ تعالیٰ کے سامنے تو اضع کا اظہار ہے اور ناف کے نیچے ہاتھ باندھنے میں تو اضع کی کیفیت زیادہ نمایاں ہے، اس لئے احناف نے اس طریقہ کو زیادہ بہتر قرار دیا ہے۔

(جاری)

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online