Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف (حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ) 639

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف

از قلم: حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ (شمارہ 639)

خدا وند قدوس نے ارشاد فرمایا:

۷)قل یٰاھل الکتب لاتغلوافی دینکم غیر الحق

ترجمہ:آپ فرمائیے اے اہل کتاب تم اپنے دین میں ناحق کا غلو مت کرو۔(سورۃ المائدۃ:آیت ۷۷)

قرآن مجید کے مندرجہ بالا سات مقامات سے دوباتیں بخوبی ظاہر ہوتی ہیں:

پہلی بات یہ کہ:’’من دون اللّٰہ‘‘یا’’من دونہ‘‘ سے مراد صرف بت نہیں بلکہ بالترتیب مندرجہ ذیل

۱)سورج

۲)اولیاء کرام

۳)ذی روح مخلوقِ خدا

 ۴)فرشتے اور جن

۵)حضرت عیسیٰ علیہ السلام

 ۶)آپ علیہ السلام کی امی جان حضرت مریم صدیقہ علیہا السلام

غیر ذی روح اور ذی روح متبرک و مقدس شخصیتیں بھی ہیں۔ پس یہ کہنا کہ’’من دون اللہ‘‘ سے مراد صرف بت ہیں قرآن کریم کی روشنی میں یہ بات بالکل غلط اور صداقت سے دور ہے۔

 دوسری بات :

یہ کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سوا حضرات انبیاء علیہم السلام اور اولیائے کرام کو مصائب و حاجات کے وقت پکارنا اور ان سے مدد مانگنا شرک اور دین میں زیادتی ہے۔

 ایک غلط فہمی کاازالہ

شرک کے دلدادہ کہتے ہیں کہ جن متبرک ہستیوں کو ہم مختار جانتے ، کارساز مانتے، مصائب اور حاجات کے وقت پکارتے ہیں۔ ان کو ہم ذاتی طور پر مختار اور کار ساز نہیں کہتے بلکہ ان کے متعلق ہمارا عقیدہ یہ ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے اختیارات ان مقدس شخصیتوں کو عطاء فرمائے ہیں، بالفاظ دیگر ہم ان کو ذاتی طو پر نہیں بلکہ عطائی طور پر کارساز اور مختار ترتسلیم کرتے ہیں۔

 حقیقت یہ ہے کہ ان کی یہ دلیل حق وصداقت سے دوراور بہت دور ہے کیونکہ بیّن دلیل اور واضح ثبوت یہ ہے کہ رب العزت نے اپنے سوا کسی کو بھی

’’وکیل‘‘

یعنی’’کارساز‘‘ اور ’’مختار‘‘ قرار نہیں دیا چنانچہ باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

الا تتخذوامن رونی وکیلا(سورۃ بنی اسرائیل)

یہ کہ نہ پکڑو سوائے میرے کارساز ( آیت۲)

 فاتخذہ وکیلا

 پس پکڑاسی کو کارساز(سورۃ المزمل:آیت ۹)

چونکہ عطائی اختیارات کا عقیدہ قرآن کریم کے مندرجہ بالا دونوں مقامات کے صریحاً خلاف ہے اس لئے یہ عقیدہ غیر اسلامی ہے۔

معہذا یہ بات بھی قابل غور ہے کہ عیسائی لوگ بھی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو عطائی طور پر کارساز اور مختار مانتے ہیں چنانچہ یہ لوگ اپنے اس عقیدہ کو اپنی مذہبی کتابوں سے یوں ثابت کرتے ہیں:

’’یسوع نے پاس آکر ان سے باتیں کیں اور کہا کہ آسمان اور زمین کا کل اختیار مجھے دیا گیا ہے۔‘‘( انجیل متی ۲۸:۱۸)

’’کیونکہ باپ کسی کی عدالت بھی نہیں کرتا بلکہ اس نے عدالت کا سارا کام بیٹے کے سپرد کیا ہے۔‘‘(انجیل یوحنا ۵:۲۲)

دونوں اناجیل کے مندرجہ بالا مقامات سے یہ بات خوب ظاہر ہوگئی کہ مسیحی لوگ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے آ پ علیہ السلام کو عطائی طور پر کارساز اور مختار بنایا ہے۔ اسی لئے مسیحی لوگ آپ علیہ السلام کو مصائب کے وقت پکارتے اور حاجات کے وقت آپ علیہ السلام سے مدد مانگتے ہیں مگر قرآن کریم ان کے اس عقیدہ کی پرزور تردید فرماتا ہے۔

کہہ کیا عبادت کرتے ہوتم سوائے خدا کے اس چیز کو کہ نہیں اختیار میں رکھتے واسطے تمہارے ضرر اور نفع اور اللہ وہی ہے سننے والا جاننے والا۔ کہہ اے اہل کتاب مت زیادتی کرو بیچ دین اپنے کے سوائے حق کے اور مت پیروی کرو خواہشوں اس قوم کی کہ تحقیق گمراہ ہوئے پہلے اس سے اور گمراہ کیا بہتوں کو اور بہک گئے راہ سیدھی سے۔( سورۃ المائدۃ: آیت ۷۶،۷۷)

آیت ۷۵ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور آپ کی امی جان حضرت مریم علیہا السلام کا ذکر خیر موجود، آیت ۷۶ میں آپ علیہ السلام اور آپ کی امی جان علیہاالسلام کے عطائی کارساز اور مختار ہونے کی پرزور تردید اور آیت۷۷ میں ان کو حاجت اور مشکل کشا سمجھنے والوں کو خطاب کر کے فرمایا گیا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سوا کسی اور کو نفع و نقصان کا مالک سمجھنا دین میں زیادتی اور صراط مستقیم سے بہکنے کے مترادف ہے۔

پس قرآنِ کریم سے معلوم ہوا کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سوا کسی اور کو کارساز اور مختار ماننا شرک ہے:

کرے غیر گربت کی پوجا تو کافر

جو ٹھہرائے بیٹا خدا کا تو کافر

 جھکے آگ پر بہر سجدہ تو کافر

کواکب میں مانے کرشمہ تو کافر

 مگر’’مومنوں‘‘ پرکشادہ ہیں راہیں

 پرستش کریں شوق سے جس کی چاہیں

نبی کو جوچائیں خدا کر دکھائیں

اماموں کا رتبہ نبی سے بڑھائیں

 مزاروں پہ دن رات نذریں چڑھائیں

 شہیدوں سے جا جا کے مانگیں دعائیں

 نہ توحید میں فرق جس سے آئے

 نہ اسلام بگڑے نہ ایمان جائے

 جبکہ قرآن کریم یہ تعلیم فرماتا ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے سوا کسی اور کو مشکل کشا، حاجت روا، مختار اور کارساز ماننا شرک ہے تو اس تعلیم کے پیشِ نظر ہر مسلمان کے لئے یہ بات نہایت ضروری اور اشد لازمی ہے کہ

لگائو تو لو، اس سے اپنی لگائو

جھکائو تو سر اس کے آگے جھکائو

 مبرا ہے شرکت سے اس کی خدائی

نہیں اس کے آگے کسی کوبڑائی

الغرض سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام نے جیل میں تعلیم تو حید کوساقی اور نانبائی کے آگے خوب منور اور اجاگر فرمایا۔

شاہ مصر کے خواب کے متعلق یوسف علیہ السلام کی تین باتیں

 جب سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام کی خدمت عالیہ میں ساقی نے شاہِ مصر کا خواب بیان کیا اور اس کی تعبیر کے لئے عرض کی تو آپ علیہ السلام نے اس خواب کی بابت تین باتیں فرمائیں:

اول:تعبیر

دوم:تدبیر

سوم:تبشیر( آیات۴۷،۴۸،۴۹)

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online