Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 639

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 639)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک دفعہ آنحضرتﷺ ایسے وقت (دولت خانے سے) باہر تشریف لائے جس میں باہر تشریف لانے اور کسی سے ملاقات کرنے کا معمول مبارک نہیں تھا، اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺکی خدمت میں پہنچ گئے، آپﷺ نے دریافت فرمایا:ابو بکر! کیسے آنا ہوا؟عرض کیا:آنحضرتﷺ سے ملاقات کرنے، آپ ﷺکے چہرئہ انورکے دیدار سے مشرف ہونے اور آپ ﷺکی خدمت میںسلام عرض کرنے کے لئے ۔اتنے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی حاضر خدمت ہوئے، آپﷺ نے فرمایا:عمر کیسے آنا ہوا؟عرض کیا:یارسول اللہ!بھوک ہے۔

فرمایا:میں بھی کچھ یہی محسوس کررہا ہوں۔پس حضرت ابو الہیثم بن تیہان انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کی طرف چلے، ان صاحب کے یہاں کھجور اور بکریاں بہت تھیں اور ان کے نوکر چاکر نہیں تھے۔ ان کے گھر پہنچے تو وہ گھر پر نہیں تھے، ان کی اہلیہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا:ہمارے لئے میٹھا پانی لینے گئے ہیں۔ اتنے میں حضرت ابو الہیثم رضی اللہ عنہ اپنا مشکیزہ لئے پہنچ گئے، انہوں نے جلدی سے مشکیزہ رکھا اور ’’میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!‘‘کہتے ہوئے آنحضرتﷺ سے لپٹ گئے، پھر ان حضرات کو لے کر اپنے باغ کی طرف چلے، وہاں ان کے لئے ایک کپڑا بچھا دیا، پھر ایک کھجور سے خوشہ کاٹ لائے اور ان حضرات کی خدمت میں پیش کیا۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا:تم نے اس کی پختہ کھجوریں کیوں نہ توڑلیں؟عرض کیا:میراجی چاہا کہ آپ حضرات( اپنے اپنے ذوق کے مطابق) پختہ و نیم پختہ کا انتخاب خود فرمائیں۔ بہرحال ان حضرات نے کھجوریں کھائیں اور پانی نوش فرمایا تو رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے! یہ منجملہ ان نعمتوں کے ہے جن کے بارے میں قیامت کے دن تم سے سوال کیا جائے گا،ٹھنڈا سایہ، تازہ عمدہ کھجور اور ٹھنڈا پانی۔

 پھر حضرت ابو الہیثم رضی اللہ عنہ ان کے لئے کھانا تیار کرانے چلے تو آنحضرتﷺ نے فرمایا:

’’دودھ والی بکری نہ کاٹ لینا!‘‘انہوں نے ایک بزغالہ ذبح ( کرکے کھانا تیار ) کیا،ان حضرات نے کھانا تناول فرمایا، پھر آنحضرتﷺ نے حضرت ابو الہیثم رضی اللہ عنہ سے فرمایا:کیا تمہارے پاس کوئی خدمت گار ہے؟عر ض کیا:نہیں! فرمایا:جب ہمارے پاس قیدی آئیں تو ہمارے پاس آئیے( تمہیں خادم دیں گے) چنانچہ آنحضرتﷺ کے پاس صرف دوغلام آئے، تیسرا نہیں تھا، تو ابو الہیثم رضی اللہ عنہ حاضرِ خدمت ہوئے،آنحضرتﷺ نے فرمایا:ان دونوں میں سے اپنی پسند کا ایک لے لو! عرض کیا:اے اللہ کے نبی! آپﷺ ہی میرے لئے پسند فرمادیجئے۔ آنحضرتﷺ نے فرمایا:’’جس شخص سے مشورہ لیا جائے وہ امین ہوتا ہے(پس اس کے لئے روا نہیں کہ مشورہ لینے والے کی مصلحت کو نظر انداز کرے اوراسے غلط مشورہ دے کر خیانت کا مرتکب ہو، پھر ان دونوں غلاموں میں سے ایک کی طرف اشارہ کر کے فرمایا) یہ لے لو، کیونکہ میں نے اسے نماز پڑھتے دیکھا ہے اور اس کے ساتھ بھلائی کی وصیت( کرتا ہوں، اس کو) قبول کرو۔ ‘‘

حضرت ابوالہیثم رضی اللہ عنہ اس غلام کولے کر اپنی بیوی کے پاس پہنچے اور ان کو آنحضرتﷺ کے ارشاد سے مطلع کیا، تو بیوی بولیں :تم آنحضرتﷺ کے ارشاد کی تعمیل نہیں کرسکوگے( کیونکہ کبھی بربنائے بشریت اس کے معاملے میں اونچ نیچ ہوسکتی ہے) سوائے اس صورت کے تم اس کو آزاد کردو۔ حضرت ابو الہیثم رضی اللہ عنہ نے فرمایا:یہ آزاد ہے! آنحضرتﷺ( کو اس کی خبر ہوئی تو آپﷺ) نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ نے جتنے نبی بھیجے یا خلیفہ مقرر کئے ، ان کے لئے دومشیر مقرر فرمائے، ایک مشیر اس کو بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے منع کرتا ہے اور دوسرا مشیر( غلط مشورے دے کر) فساد انگیزی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا اور جو شخص برے مشیر ( غلط مشیر) سے بچالیا گیا وہ بچ گیا۔‘‘

تشریح:یہ حدیث بہت سے اہم فوائد پر مشتمل ہے۔

اول:…آنحضرتﷺ اور حضراتِ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم کی تنگیٔ معیشت اور بعض اوقات ان کوبھوک سے بے تاب ہوجانا۔

دوم:…حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی منقبت وفضیلت ،حدیث کے سیاق سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرتﷺ کی بارگاہ میں ان کی بے وقت حاضری بھی شاید بھوک کی وجہ سے ہوئی تھی، لیکن جب آنحضرتﷺ نے آنے کا سبب دریافت فرمایا تو انہوں نے عرض کیا کہ آنحضرتﷺکی زیارت و ملاقات ، آپ ﷺ کے دیدار پر انوار سے لطف اندوز ہونے اور سلام عرض کرنے کے لئے حاضر ہوا ہوں۔ کیونکہ یہی چیز حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کی بھوک کا علاج اور ان کے درد کا درماں تھی، اس لئے انہوں نے اصل سبب کا تذکرہ نہیں فرمایابلکہ جس تدبیر سے یہ سبب زائل ہوسکتا تھا اس کا ذکر فرمایا۔اس سے حضرت صدیق اکبررضی اللہ عنہ کا آنحضرتﷺ سے عشق، بارگاہِ نبوی میں ان کاادب ، حسنِ تعبیر اور سلیقۂ عرض داشت میں ان کاکمال واضح ہوتا ہے۔

سوم:…اس حدیث سے حضرت ابو الہیثم صحابی رضی اللہ عنہ کے متعدد فضائل و مناقب بھی معلوم ہوئے، مثلاً: آنحضرتﷺ کا ازخود ان کے گھر کو تشریف بری کاشرف بخشنا، جو ان سے آپﷺ کے کمالِ تعلق اور نہایت بے تکلفی کی دلیل ہے، پھر ان کافرطِ مسرت میں آنحضرتﷺ سے لپٹنا، ’’میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں!‘‘کے الفاظ سے آپ کااستقبال کرنا اور آپﷺ اور آپ کے معزز رفقاء کے اعزاز و اکرام کا مظاہرہ کرنا۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online