Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 639

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 639)

موعظت

۱)کائناتِ انسانی کے پاس جس وقت سے اپنی تاریخ کا ذخیرہ موجود ہے وہ اس حقیقت سے بخوشی آشنا ہے کہ دنیا کی جس قوم نے بھی خدا کے پیغام ِحق کے ساتھ استہزاء کا معاملہ کیا اور خدا کے پیغمبروں اور ہادیوں کے ساتھ سرکشی اور شرارت کو جائز رکھا، ان کی زبردست طاقت و شوکت اور عظیم الشان تمدن کے باوجود قدرت کے ہاتھوں نے ہلاک و برباد کرکے ان کانام و نشان تک مٹادیا اور آسمانی یا زمینی عبرتناک عذاب نے صفحۂ عالم سے ان کو حرف غلط کی طرح محوکردیا۔ مگر یہ عجیب بات ہے کہ اپنے پیشروؤں کے ہیبت ناک انجام کو دیکھنے اور سننے کے باوجود ان کی وارث قوموں نے پھر تاریخ کو دہرایا اور اسی قسم کی حرکات کو اختیار کیا جن کے انجام میں ان کے پیشروؤں کو روزبد دیکھنا پڑا تھا۔’’ ان ھذا لشیء عجیب‘‘

۲)ایک حساس دل و دماغ کے لئے یہ تازیانۂ عبرت کافی ہے کہ اس دنیا میں جبکہ کسی شے کو بقا نہیں ہے اور ہر شے کے لئے فنا لازم تو پھر کبر و نخوت اور انانیت کے کیا معنی؟ اور جو مقدس ہستیاں اپنے اوصاف کریمانہ اور اخلاقِ حسنہ کے ساتھ خدمت خلق اور ہدایت ورشد کو بغیر کسی دنیوی لالچ و توقع کے انجام دیتی ہیںان کے ساتھ تحقیر و تضحیک کا برتائو عقل کے کس فیصلہ کے مطابق ہے؟

اگر انسان اس زندگی میں دو حقیقتوں کی معرفت حاصل کرے تو حیات ابدی وسرمدی میں کبھی ناکام نہیں رہ سکتا اور یہی وہ رموزِزندگی ہیں جن پر گامزن ہو کر قومیں’’اصحاب الجنہ‘‘ کہلائیں اور ان سے غافل رہ کر’’اصحاب النار‘‘ کہلانے کی سزاوار ہوئیں۔

بیت المقدس اور یہود   تمہید

جن اصحابِ ذوق نے قصص القرآن جلد اول و دوم کا مطالعہ فرمایا ہے ان کی نظر سے یہ پوشیدہ نہ رہا ہوگا کہ قرآنِ عزیز اقوام ماضیہ کے تاریخی واقعات یعنی ان کے رشد و ہدایت کے قبول و انکار اوراس کے نیک و بدنتائج و ثمرات کے حالات پیش نظر لانے اور ان سے عبرت و بصیرت حاصل کرنے کی جگہ جگہ ترغیب دیتا ہے اور خود بھی اسی لئے گزشتہ قوموں کے ان واقعات کو بکثرت بیان کرتا ہے جو اس مقصد عظمیٰ کے لئے مفید اور عبرت آموز ہیں اور اگر ان وقائع میں حقائق کے ساتھ غلط اور دور ازکار داستانیں شامل ہوگئی ہیں توان کی اصلاح بھی کرتا جاتا ہے۔

چنانچہ بہت سی وہ پیچیدگیاں جو گزشتہ اقوام وامم، ان کے مواطن ومساکن اور ان سے متعلق حالات میں صحیح اور غلط واقعات کے خلط ملط سے پیدا ہوچکی تھیں قرآنِ عزیز نے ان کو اس طرح بیان کیا ہے کہ تمام پیچیدگیاں دور ہو کر حقیقت حال روشن سے روشن تر نظر آنے لگی ،چنانچہ ان واقعات سے متعلق اصل حقائق کا اظہار ہوجانے کے صدیوں بعد جب علم الآثار (ARCHAEOLOGY)علمِ طبقاتُ الارض(GEOLOGY)اور تاریخی مشاہدات و تجربات کے ذریعہ ان اقوام وامم کے حالات ناقابلِ انکار درجہ تک روشنی میں آئے تو دنیا کو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ قرآنِ عزیز نے ان سے متعلق جو کچھ کہا تھا وہ حرف بحرف صحیح نکلا اور اس کے بیان میں حقیقت سے سر موتجاوز ثابت نہیں ہوا۔رقیم (پیڑا) کی تاریخِ ماضی اصحاب الحجر کے واقعات،عاد وثمود کا تمدن اور مقامِ تاریخ،موسیٰ علیہ السلام کے زمانہ میں بنی اسرائیل اور فرعونِ مصر کی آویزش کے واقعات اورسد عرم کے حالات، غرض یہ اور اسی قسم کے دوسرے تاریخی وقائع ہیں جومسطورہ بالا حقیقت کے لئے زندہ جاوید شہادت ہیں۔

پس کیا یہ قرآنِ عزیز کے کلام الہٰی ہونے کی ایک ناقابلِ تردید شہادت نہیں ہے کہ ایک’’اُمّی‘‘ انسان ایک ایسے ملک میں جہاں ہر قسم کے علمی ذرائع مفقود و معدوم ہیں دنیا کی قوم کو رشد و ہدایت کے سلسلہ میں اقوام ماضیہ اور امم سابقہ کے ایسے تاریخی واقعات سناتا ہے جن کے ایک حرف کی بھی تردید نہیں ہوسکی اور صدیوں تک علماء تحقیق نے کروڑوں اور اربوں روپے اور اپنے قیمتی وقت اور عمر کو صرف کر کے جب ان حالات کو جدید ’’علوم اکتشاف‘‘کے ذریعہ مشاہدہ کی حد تک حاصل کیا تو ان کو بالآخر یہ اقرار کرنا پڑا کہ قرآن نے ان سے متعلق جو کچھ کہا اور جس قدر کہا بلاشبہ علم تحقیق اس کے آگے ایک شوشہ بھی اضافہ نہیں کر سکا، چہ جائیکہ اس کے خلاف ثابت کر سکتا۔

 بہر حال اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعہ اپنے پیغمبر ﷺ پر گزشتہ اقوام کے حالات ظاہر کر کے عبرت آموز قلب اور بصیرت افروزنگاہ کے لئے بہت کچھ سامانِ رشد و ہدایت عطاء فرمایا تاکہ موجودہ امم واقوام ،سرکش اور مفسد قوموں کے نتائج بد اور ہولناک پاداش ِ عمل سے عبرت حاصل کریں اور نکوکارو خیر اندیشہ قوموں کے حالات و واقعات اور ان کے ثمراتِ خیر کو اختیار کر کے دین و دنیا کی فوزو فلاح کو اپنا سرمایہ بنائیں اور چونکہ قرآنِ عزیز کا مقصد صرف موعظت و تذکیر ہے نہ کہ اقوام و امم کی مکمل تاریخ، اس لئے اس نے نہ دنیا کی تمام قوموں کی تاریخ بیان کی ہے اور نہ جن قوموں کی تاریخ سے تعرض کیا ہے ان کی پوری تاریخ کو پیش کیا ہے کیونکہ یہ اس کے موضوع اور مقصد سے خارج ہے، وہ رشد و ہدایتِ اقوام کے لئے بلاشبہ ایک مکمل صحیفۂ قانون ہے مگر تاریخ و جفرافیہ یا فلسفہ و سائنس کی کتاب نہیں ہے کہ اس میں وہ سب کچھ بھی موجود ہو جس کا فلسفہ وتاریخ کی کتابوں میں ہونا ضروری ہے۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online