Bismillah

652

۶ تا۱۲ذوالقعدہ ۱۴۳۹ھ  بمطابق    ۲۰تا۲۶جولائی۲۰۱۸ء

الفقہ 639

الفقہ

 مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کی کتاب ’’کتاب الفتاویٰ ‘‘ سے ماخوذ

(شمارہ 639)

کھڑے ہو کر مختصر قراء ت یا بیٹھ کر طویل قراء ت؟

س: میری عمر تقریباً چوراسی سال ہے،مجھے بلڈ پریشر و دل کی خرابی کی بیماری بھی ہے، علاج جاری ہے، چلنے سے سانس پھولتی ہے، پنچ وقتہ نماز کے لئے مسجد جایا کرتا ہوں، بعض اوقات اندھیرے کی وجہ سے یا بارش یا کمزوری کی وجہ سے مسجد نہیںجاپاتاہوں، گھرپر ہی نماز پڑھ لیتا ہوں اور مسجد میں نماز باجماعت پڑھنے سے ظاہر ہے بہت زیادہ ثواب ہے، اس لئے میں گھر میں زیادہ ثواب کے خیال سے بڑی بڑی سورتیں پڑھنا چاہتا ہوں، لیکن صحت اجازت نہیں دیتی، سانس پھولتی ہے، جس کی وجہ سے بجائے کھڑے ہو کرنماز پڑھنے کے اسٹول پر بیٹھ کر تخت پر سجدہ کرتے ہوئے بڑی بڑی سورت جو چالیس تاپچاس آیتوں پر مشتمل ہوتی ہے، پڑھتا ہوں، دریافت طلب امریہ ہے کہ صحت یا موسم کی خرابی کی وجہ سے گھر پر زیادہ ثواب کے خیال سے بڑی بڑی سورت اسٹول پر بیٹھ کر ادا کرنا بہتر رہے گا یا گھر پر ہی کھڑے ہو کر تین چار آیتوں کی تلاوت سے نماز فرض و سنت، تہجد، صلاۃ التسبیح وغیرہ ادا کرنا بہتر رہے گا؟

جواب:اگر بیماری، بارش یا تاریکی کی وجہ سے مسجد جانے میں دشواری ہو تو ایسے شخص کے حق میں جماعت میں شرکت واجب نہیں، گھر پر بھی نماز ادا کرنا درست ہے۔

 ’’فسقط الجماعۃ بعذر من… المطر الشدید … والمرض‘‘ (الہدایہ:ج۱ص۱۶۱)

عذر کی بناپر فرائض و واجبات بھی بیٹھ کرادا کی جا سکتی ہیں، لیکن اگر کھڑے ہو کر مختصر قراء ت پڑھنے پر قادر ہو اور بیٹھ کرطویل قراء ت کر سکتا ہو تو فرائض و واجبات میں کھڑے ہو کر ہی نمازادا کرنی چاہئے، کیونکہ قیام فرض ہے اور طویل قراء ت جس کا احادیث میں ذکرآیا ہے۔(صحیح بخاری ) مسنون یا مستحب، تو محض ایک مستحب کے لئے فرض کیونکر چھوڑا جاسکتا ہے؟بلکہ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر تکبیر تحریمہ یا قراء ت کے کچھ حصہ کے بقدر کھڑے ہونے پر قادر ہو تو واجب ہے کہ اتنا حصہ کھڑا ہو کر ادا کرے اور باقی بیٹھ کر۔

’’حتی لو قدران یکبر قائما للتحریمۃ … اوکان یقدر علی القیام لبعض القراء ۃ دون تمامھا، فانہ یومران تکبر قائما ویقرأ ما یقدر علیہ قائما ثم یقعد اذا عجز‘‘(الجوہرۃ النیرہ:ج۱ص۹۵)

نفل نمازیں بلا عذر بھی بیٹھ کر ادا کی جا سکتی ہیں، اس لئے نماز تہجد، صلاۃ التسبیح وغیرہ طویل قراء ت کے ساتھ بیٹھ کر ادا کرلیں، اس میں کوئی حرج نہیں۔

مقتدی کے لئے سورہ فاتحہ کی تلاوت

س: نماز میں امام کے ساتھ مقتدی بھی فاتحہ پڑھے یا مقتدی خاموش کھڑا رہے؟

ج:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:امام اس لئے ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے، لہٰذا جب امام’’اللہ اکبر‘‘ کہے تو تم بھی’’اللہ اکبر‘‘ کہو اور جب قراء ت کرنے لگے تو خاموش ہوجائو،’’اذاکبر فکبر وا واذاقرأ فانصتوا‘‘(سنن نسائی) ایک روایت میں مزید وضاحت ہے کہ’’جب امام’’اللہ اکبر‘‘ کہے تو’’اللہ اکبر‘‘ کہو، جب قراء ت کرے تو خاموش رہو اور جب امام’’غیر المغضوب علیھم و لا الضالین‘‘ کہے تو آمین‘‘ کہو(سنن ابن ماجہ) نیز حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:’’جب کوئی شخص امام کے ساتھ نماز پڑھ رہاہو تو امام ہی کی قراء ت اس کی قراء ت ہے۔‘‘’’من کان لہ امام فقراء ۃ الامام لہ قراء ۃ‘‘(ابن ماجہ) اس لئے امام کے پیچھے سورئہ فاتحہ نہیں پڑھنی چاہئے، اگر پڑھ لے تو گو کراہت سے خالی نہیں لیکن نماز درست ہو جاتی ہے۔’’فان قرء کرہ تحریما و تصح فی الاصح‘‘(ردالمحتار:ج۲ص۲۶۶)

قراء ت میں ترتیب

س:ہماری مسجد میں امام صاحب نے عشاء کی نماز کی پہلی رکعت میں سورہ بقرہ کا آخری رکوع اور دوسری رکعت میں دوسرے پارہ کے دوسرے رکوع کی تلاوت فرمائی، نماز ختم ہونے کے بعد ایک صاحب نے یہ اعتراض کیاکہ تلاوت میں تسلسل کا لحاظ نہیں کیا گیا ہے، نیز سجدہ سہو بھی نہیں کیا گیا اس لئے نماز کا اعادہ ضروری ہے، ان کے اصرار کے بعد نمازکو دوبارہ لوٹالیا گیا، تو کیا اس صورت میںنماز کا لوٹانا ضروری ہے؟

ج:جو صورت آپ نے ذکر کی ہے، اس میں نماز ادا ہوگئی ،نماز کو دہرانے کی ضرورت نہیں تھی، تاہم اس طرح قرآن پڑھنا بہتر نہیں ہے، فتاویٰ عالمگیری میں ہے:

’’ولو قرأفی رکعۃ من وسط سورۃ اومن آخر سورۃ و قرأفی الرکعۃ الا خری من وسط سورۃ اخری اومن اخر سورۃ اخری لا ینبغی لہ ان یفعل ذلک علی ماھو ظاہرالروایۃ، ولکن لو فعل ذلک لا باس بہ، کذافی الذخیرۃ‘‘(ج۱ص۸۷)

’’اگر ایک رکعت میںکسی سورۃ کا وسطی یا آخری حصہ پڑھے اور دوسری رکعت میں دوسری سورت کا وسطی یا آخری حصہ ، تو یہ مناسب نہیں، یہی ظاہر روایت ہے، لیکن اگر ایسا کر ہی گزرے تو جائز ہے۔‘‘

اگر دوسرے پارہ سے مراد کوئی اور پارہ نہیں بلکہ پارہ سیقول ہے تو یہ صورت خلاف ترتیب قرآن پڑھنے کی ہے، قصداً ترتیب کی خلاف ورزی مکروہ ہے، لیکن نماز ہوجاتی ہے۔

 گونگے اور قراء ت

س:جو لوگ گونگے ہوتے ہیں وہ لوگ بہرے بھی ہوتے ہیں، ان کو نماز کے اذکار اور قرآن کی صورتیں کس طرح سکھائی جائیں اور وہ کس طور پر نماز ادا کریں؟

ج:اگر تحریر کے ذریعہ ان کو سکھانا ممکن ہو تو اس ذریعہ کو استعمال کیا جا سکتا ہے، غالباً ایسے لوگوں کی تربیت کے لئے مستقل ادارے بھی ہیں، جہاں تک نماز کی بات ہے تو چونکہ یہ قراء ت سے عاجز ہیں، اس لئے ان کی نماز بغیر قراء ت قرآن کے ہی درست ہوجائے گی،کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی طاقت و صلاحیت کے مطابق ہی مکلف بنایا ہے(لا یکلف اللّٰہ نفسا الا وسعہا)’’و ان عجز عن ذلک کلہ ترکہ‘‘(ہندیہ:ج۱ص۱۳۷)

’’فان عجز عن القراء ۃ یوم ایماء بغیر قراء ۃ‘‘(ہندیہ:ج۱ص۱۳۸)

تہجد کی ہر رکعت میں تین بار  سورئہ اخلاص

 س:بعض لوگ کہتے ہیں کہ تہجد کی نماز میں ہر رکعت میں سورئہ فاتحہ کے بعد تین دفعہ’’قل ھو اللہ‘‘پڑھنا چاہئے، کیا شریعت میں اس کی کوئی اہمیت ہے؟

ج:رسول اللہﷺ پابندی کے ساتھ تہجد کی نماز ادا فرمایا کرتے تھے، حدیث کی کتابوں میں اس کی تفصیل موجود ہے(صحیح بخاری) لیکن اس طرح تین بار’’قل ھو اللہ‘‘پڑھنے کا کوئی ذکر نہیں، ہاں یہ بات حدیث میں آئی ہے کہ آپﷺ تہجد میں بہت طویل قراء ت فرمایا کرتے تھے اور اسی قدر طویل رکوع و سجدہ بھی کیا کرتے تھے(صحیح بخاری) اس لئے آ پ کو جو طویل سورتیں یاد ہوں، انہیں پڑھنے کا اہتمام کیجئے، اگر طویل سورتیں یا د نہ ہوں تو ایک رکعت میں کئی سورتین بھی ملا کر پڑھ سکتے ہیں۔

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online