Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف (حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ) 644

صورت یوسف علیہ السلام اورسورت یوسف

از قلم: حضرت مولانا بشیر احمد حسینیؒ (شمارہ 644)

ربط اور قصۂ یوسف علیہ السلام کا اختتام

اللہ تبارک و تعالیٰ نے قصۂ یوسف علیہ السلام کی ابتداء آپ علیہ السلام سے فرمائی تھی۔( آیت ۴)

اور اس کی انتہا بھی آپ علیہ السلام ہی پر یوں فرمادی

رب قداتیتنی من الملک و علمتنی من تاویل الاحادیث فاطرالسموت والارض  انت ولی فی الدنیا والاخرۃ توفنی مسلما والحقنی بالصلحین( سورۃ یوسف آیت ۱۰۱)

مذکورہ بالا آیت مبارکہ کا ترجمہ وتفسیر نقل کرنے سے پیشر ہم چاہتے ہیں کہ آپ علیہ السلام کی اس دعاء میں جو پرلطف بات پنہاں ہے اسے عیاں کردیں۔ چنانچہ سیدنا حضرت یوسف علیہ السلام کی مندرجہ بالا دعاء میں تین چیزوں کا چار مرتبہ ذکر پایا جاتا ہے، سماعت فرمائیے:

اول:’’رب، ملک اور علم تاویل الاحادیث‘‘

دوم:فاطر، سموت اور ارض‘‘

سوم:ولی ،دنیا اور آخرت‘‘

چہارم:توفنی، مسلمااور الحقنی بالصالحین‘‘

اس کے بعد آیت مبارکہ کی تفسیر تحریر کی جاتی ہے چنانچہ حضرت علامہ ابن کثیرؒ تحریر فرماتے ہیں:

’’نبوت مل چکی، پادشاہت عطا ہوگئی ،دکھ کٹ گئے، ماں باپ اور بھائی سب سے ملاقات ہوگئی۔ تو اللہ تعالیٰ سے دعاء کرتے ہیں کہ جیسے دنیاوی نعمتیں تو نے مجھ پر پوری کی ہیں ان نعمتوں کو آخرت میں پوری فرما۔ جب بھی موت آئے اسلام پر اور تیری فرمانبرداری پر آئے اور میں نیک لوگوں میں ملادیا جائوں اور نبیوں اور رسولوں صلواۃ اللہ وسلامہ علیہم اجمعین میں۔ بہت ممکن ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی یہ دعاء بوقت وفات ہو جیسے کہ صحیحین میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ثابت ہے کہ انتقال کے وقت رسول اللہﷺ نے اپنی انگلی اٹھائی اور یہ دعاء کی کہ اے اللہ! رفیق اعلیٰ میں ملادے۔تین مرتبہ آپ ﷺ نے یہی دعاء کی۔

وہاں یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی اس دعاء کا مقصود یہ ہے کہ جب بھی وفات آئے اسلام پر آئے اور نیکوں میں مل جائوں ، یہ نہیں کہ اسی وقت آپ نے یہ دعاء اپنی موت کے لئے کی ہو۔ اس کی بالکل وہی مثال ہے جو کوئی کسی کودعاء دیتے ہوئے کہتا ہے کہ اللہ تجھے اسلام پر موت دے اس سے یہ مراد نہیں ہوتی کہ ابھی ہی تجھے موت آجائے یا جیسے ہم مانگتے ہیں کہ خدایا! ہمیں تیرے دین پر ہی موت آئے۔

 یا ہماری یہی دعاء کہ اللہ مجھے اسلام پر مار اور نیک کاروں میں ملا اور اگر یہی مراد ہو کہ واقعی آپ نے اسی وقت موت مانگی، تو ممکن ہے کہ یہ بات اس شریعت میں جائز ہو چنانچہ قتادہؒ کا قول ہے کہ جب آپ کے تمام کام بن گئے، آنکھیں ٹھنڈی ہوگئیں، ملک، مال، عزت آبرو و خاندان، برادری، بادشاہت سب مل گئے تو آپ کو صالحین کی جماعت میں پہنچنے کا اشتیاق پیدا ہوا۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کسی نبی نے سوائے حضرت یوسف علیہ السلام کے آپ سے پہلے موت طلب نہیں کی ۔ابن عباسؓ فرماتے ہیں: یہی سب سے پہلے اس دعاء کے مانگنے والے ہیں، ممکن ہے اس سے مراد ابن عباسؓ کی یہ ہو کہ اس دعاء کو سب سے پہلے کرنے والے یعنی خاتمہ اسلام پر ہونے کی دعاء کے سب سے پہلے مانگنے والے آپ ہی تھے۔ ( ابن کثیرؒ اردو)

حضرت مولانا شاہ عبدالقادرمحدث دہلویؒ اس آیت مبارکہ کے تحت تحریر فرماتے ہیں:

’’علم کامل پایا،دولت کامل پائی، اب شوق ہوا اپنے باپ دادے کے مراتب کا،حضرت یعقوب کی زندگی تک رہے دنیا کے کام میں، پیچھے اپنے اختیار سے چھوڑدیا ۔‘‘ (تفسیر موضح القرآن)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے اس آیت کاترجمہ وتفسیر یوں تحریر فرمائی ہے:

’’اے میرے پروردگار آپ نے مجھ کو(ہرطرح کی نعمتیں دیں ظاہری بھی باطنی بھی، ظاہری یہ کہ مثلاً)سلطنت کا بڑا حصہ دیا اور(باطنی یہ کہ مثلاً)مجھ کو خوابوں کی تعبیر دینا تعلیم فرمایا(جو کہ علم عظیم ہے خصوصاً جبکہ وہ  یقینی ہو جو موقوف ہے وحی پر پس اس کا وجود مستلزم ہوگا عطائے نبوت کو) اے خالق آسمانوں اور زمین کے آپ میرے کارساز ہیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی(پس جس طرح دنیا میں میرے سارے کام بنائے کہ سلطنت دی،علم د یا اسی طرح آخرت کے کام بھی بنادیجئے کہ)مجھ کو فرمانبرداری کی حالت میں دنیا سے اُٹھالیجئے اور خاص نیک بندوں میں شامل کردیجئے‘‘(یعنی میرے بزرگوں میں جو انبیاء عظام ہوئے ہیں ان میں مجھ کو پہنچادیجئے)

ف: اشتیاق موت کا اگر شوقاً الی لقاء اللہ ہو تو جائز ہے اور حصہ سلطنت کا اس لیے کہا کہ ساری دنیا کی سلطنت تو آپ کے پاس نہ تھی اور مثلاً اس لیے بڑھادیا گیا کہ نعمتیں ان ہی امور مذکورہ میں تو منحصر نہیں اور بعض علماء نے کہا ہے کہ یہ دعاء طلب موت کے لیے نہیں تھی بلکہ مطلب یہ تھا کہ جب وفات ہو اسلام اور صلاح پر ہو اور ہر حالت میں گو انبیاء علیہم السلام کا اسلام وصلاح پر وفات پانا یقینی ہے لیکن اس کے مراتب مختلف ہیں اور متزائد ہوتے رہتے ہیں اس لیے اس کی طلب میں کوئی اشکال نہیں۔(تفسیر موضح القرآن)

راہِ ہستی کا دستور مقدر ہے جمال

نقش رہ جاتے ہیں انسان گزرجاتا ہے

ربنا ولا تحملنا مالاطاقۃ لنا بہ واعف عنا واغفرلناوارحمنا انت مولنا فانصرنا علی القوم الکافرین

٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online