Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

معارفِ نبوی (کلام ہادی عالم) 644

معارفِ نبوی

کلام ہادیٔ عالمﷺ (شمارہ 644)

دوستی کس سے لگائی جائے؟

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آنحضرتﷺ کا ارشاد نقل فرماتے ہیں:’’آدمی اپنے دوست کے دین پر ہوتا ہے پس تم میں سے ہر ایک شخص کودیکھ لینا چاہئے کہ وہ کس سے دوستی رکھتا ہے‘‘

تشریح:مطلب یہ کہ آدمی کی دوستی اسی کے ساتھ ہوگی جس کے ساتھ اس کو طبعاً مناسبت ہو، بغیر طبعی مناسبت اور قدرِ مشترک کے دو شخصوں کے درمیان دوستانہ جوڑ ہو ہی نہیں سکتا۔ یہی وجہ ہے کہ نیک آدمی کی دوستی نیکوں کے ساتھ ہوتی ہے اور برے کی بروں کے ساتھ، دنیا دار کی اہل دنیا کے ساتھ اور دیندار کی اہل دین کے ساتھ وغیرہ ۔پس اگر یہ دیکھنا چاہو کہ فلاں شخص کس مذاق کا ہے؟ تو یہ دیکھ لو کہ اس کی نشست و برخاست اور اُلفت و محبت کن لوگوں کے ساتھ ہے؟جس قماش کے اس کے یار اور ہم جولی ہوں گے، اسی مزاج کا یہ بھی ہوگا۔

اور پھر آدمی کی طبیعت سراقہ( چوری کرنے والی) واقع ہوئی ہے اس میں فطری طور پر اخذ و انفعال کا مادہ رکھا گیا ہے جس کے ساتھ اس کی اُلفت و محبت اور رفاقت،مصاحبت ہوگی، یہ دانستہ و نادانستہ اس کے اخلاق و عادات اور اوصاف و خصائل کو اپنا تا چلا جائے گا اور اُلفت ومحبت میں جتنا اضافہ ہوگا اسی قدر دوست کے ساتھ ہم رنگی بھی بڑھتی جائے گی۔ یہ انسانی نفسیات کا ایک عظیم اصول ہے جس کی طرف حکیم انسانیت ﷺ نے توجہ دلائی ہے۔

 پہلا فقرہ تو ایک نفسیاتی اصول کی حیثیت رکھتا ہے، دوسرا فقرہ تشریعی حکم ہے، یعنی جب معلوم ہوا کہ آدمی اپنے دوست کے دین و اخلاق کواپناتا ہے تو آدمی کو خوب غور و فکر سے دوستی کا تعلق قائم کرنا چاہئے اور یہ دیکھ لینا چاہئے کہ وہ کسی اچھے آدمی سے دوستی کررہا ہے یا برے سے؟اچھے آدمی سے دوستی کرنا محمود اورموجب سعادت ہے اور برے سے یارانہ گا نٹھنا مذموم اور موجب شقاوت ہے۔

 انسان کے مال و اولاد اور عمل کی مثال

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:میت کے پیچھے( قبر تک) تین چیزیںجاتی ہیں، دو واپس لوٹ آتی ہیں اور ایک باقی رہ جاتی ہے، اس کے پیچھے اس کے اہل وعیال ، اس کا مال اور اس کا عمل جاتا ہے، اہل و عیال اور مال واپس آجاتے ہیں اور عمل باقی رہ جاتاہے۔‘‘

 تشریح: آدمی کے تین دوست ہیں جن کے لئے یہ جان کھپاتا ہے ، ایک اس کا مال ،دوسرے اس کے خویش اور تیسرا اس کا عمل۔مال کی وفاداری توجیتے جی تک ہے ،جونہی روح وتن کا رشتہ ختم ہوا، اس کا مال اس کی ملک سے نکل کر وارثوں کی ملک میں چلا گیا اور اہل وعیال اورعزیز و اقارب کی وفاداری قبر تک ہے، جونہی اسے قبر میں دفن کیا گیا اہل وعیال، عزیز واقارب اور دوست احباب نے اس سے منہ موڑلیا اور منوں مٹی ڈال کر واپس گھر لوٹ آئے، البتہ عمل کا ساتھ ہمیشہ رہتا ہے، قبر میںبھی اور حشر میں بھی۔ اس لئے عقل کا مقتضایہ ہے کہ جو سب سے زیادہ وفادار ہے یعنی عمل ،اس کے ساتھ سے زیادہ وفاداری کی جائے۔ عمل کی وجہ سے اگر کچھ مال کا نقصان ہوتا ہے یا اہل وعیال اور دوست احباب ناراض ہوتے ہیں ان کی پروانہ کی جائے۔ لیکن عام لوگوں کا رویہ بالکل برعکس ہے، وہ مال کی وجہ سے اپنے عزیز واقارب سے بگاڑتے ہیں اورعزیز واقارب کی خاطر عمل کو برباد کرتے ہیں۔ اس حدیث میں تنبیہ فرمائی گئی ہے کہ سب سے مقدم عمل ہے اور اس بات سے بھی آگاہ فرمایا گیا ہے کہ قبر اور حشر میں( بلکہ اس سے پہلے نزع کی حالت میں بھی) آدمی کے ساتھ اس کے اعمال کے مطابق معاملہ ہوگا، اگر نیک اعمال کا ذخیرہ ساتھ لے کر گیا تو راحت و رضوان کا مستحق ہوگا اور اگر برے اعمال کابوجھ لاد کر لے گیا تو اس کے مطابق سزا کا مستحق ہوگا، پھر نہ اس کا مال کام آئے گااور نہ اہل وعیال اس کا بوجھ ہٹائیں گے۔ حق تعالیٰ شانہ ہمیں اپنی رحمت و رضوان سے نوازیں۔ آمین!

زیادہ کھانے کی ممانعت کابیان

 حضرت مقداد بن معدیکرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہﷺ کویہ ارشاد فرماتے ہوئے خود سنا ہے : کسی آدمی نے کوئی برتن نہیں بھر ا جو پیٹ سے بدتر ہو، ابن آدم کو چند لقمے کافی ہیں جو اس کی کمر سیدھی رکھیں اور اگر بہت ہی کھانا ہو تو پیٹ کا ایک تہائی حصہ کھانے کے لئے ہونا چاہئے، ایک تہائی پانی کے لئے اور ایک تہائی سانس کے لئے۔‘‘

تشریح:پیٹ سب سے بدتر برتن ہے، اس لئے کہ جو چیز اس میںجاتی ہے وہ نجس اور گندی ہوجاتی ہے اور پھر سڑ کر فضلات کی شکل میں خارج ہوتی ہے۔ معلوم ہوا کہ کھانا خود مقصود نہیں بلکہ ایک ضرورت ہے کہ اس کے بغیر زندگی کا قیام عادۃً ممکن نہیں اوریہ مقصود چند لقموں سے حاصل ہو سکتا ہے۔ اس لئے اصل تو یہی ہوا کہ آدمی چند لقموں پر کفایت کرے، لیکن اگر اس پر طبیعت راضی نہ ہو تو معتدل طریقہ یہ ہے کہ پیٹ کو اناڑی کی بندوق کی طرح کھانے ہی سے بھر لے کہ سانس لینا بھی مشکل ہوجائے۔ حکماء امت کا اس پر اتفاق ہے کہ پرخوری مضر صحت ہے، اس سے بدن میں کسل اور گرانی پیدا ہوتی ہے، طبیعت کا نشاط ختم ہوجاتا ہے اور آدمی کو ذکر وعبادت میں بھی مزہ نہیں آتا ۔حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس سرہ فرماتے ہیں:

’’غذائے جسمانی کی کثرت سے غذائے روحانی یعنی ذکر اللہ کم ہوجاتا ہے ۔‘‘شیخ سعدی ؒ فرماتے ہیں:

تہی از حکمتی بعلت آں

کہ پری از طعام تابینی

(تم حکمت سے اس وجہ سے خالی ہو کہ کھانے سے ناک تک پیٹ بھر رکھا ہے)

 اس لئے سالک کو غذائے جسمانی میں کثرت نہ چاہئے بلکہ تو سط کا لحاظ رکھنا چاہئے مگر یہ ضروری ہے کہ سب کا اوسط ایک نہیں ہے بلکہ ہر شخص کا اوسط مختلف ہے۔

 اسی طرح اوسط سے کم کھانا بھی مضر ہے، ایک ضرر تو جسمانی ہے کہ غذا بہت کم کرنے سے ضعف لاحق ہوجاتاہے اور کام نہیں ہوسکتا اور ایک ضرر مقصودِ سلوک کا ہے وہ یہ کہ انسان کا کمال یہ ہے کہ تشبہ بالملائکہ حاصل کرے اور تشبہ بالملائکہ اس شخص کو حاصل ہوتا ہے جو نہ شبع سے بد مست ہو نہ جوع سے پریشان ہو، بلکہ معتدل حالت میں رہ کر طمانیت و جمعیتِ قلب سے متصف ہو۔

 پس کھانے سے اصل مقصود جمعیت قلب ہے نہ بہت کھانا مطلوب ہے، دلیل اس کی یہ ہے کہ :’’اذا حضر العشاء والعشاء فابدؤابالعشائ(جب ایک طرف عشاء کی نماز کاوقت ہو اور دوسری طرف رات کا کھانا تیار ہو تو پہلے کھانا کھا لو) فقہاء نے کھانے کی یہاں تک رعایت کی ہے کہ اگر کھانا ٹھنڈا ہونے، اس کی لذت زائل ہوجانے کا اندیشہ ہو،جب بھی نماز کو مؤخر کردینا جائز ہے،منشا اس کا وہی تحصیلِ جمعیتِ قلب ہے کہ بار بار یہ خیال نہ آوے کہ نماز جلدی  پڑھوں تاکہ کھانا ٹھنڈا نہ ہوجاوے۔( انفاس عیسیٰ: ص۱۸۲)

 ٭…٭…٭

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online