Bismillah

645

۸تا۱۴رمضان المبارک ۱۴۳۹ھ  بمطابق ۲۵تا۳۱مئی۲۰۱۸ء

قرآن عزیز اور اصحاب سبت (قرآن کے سائے میں) 644

قرآن کے سائے میں

قرآن عزیز اور اصحاب سبت

ماخوذ از قصص القرآن۔ مولانا حفظ الرحمٰن سیو ہارویؒ (شمارہ نمبر 644)

اور اس کی صفت رحمت نے ان سے منہ نہیں موڑا بلکہ ان کی رشد وہدایت اور اصلاح و اخلاق و اعمال کے لئے نبیوں اور پیغمبروں کا سلسلہ قائم رکھا جو برابر ان کو نکوکاری کی ترغیب دیتے اور بدکاری سے اجتناب کی تلقین کرتے رہتے تھے، تاکہ ان کو دین و دنیا کی سربلندی حاصل ہو اور وہ انبیاء ورسل علیہم السلام کی اولاد ہونے کی حیثیت سے دوسروں کے لئے اسوئہ حسنہ بن سکیں مگر یہود پر ان کے ارشاد و تبلیغ کامطلق کوئی اثر نہیں ہوا اور ان کی سرکشی اورنافرمانی ترقی پذیر ہوتی گئی اور ان کے علماء واحبار نے سیم وزر کی خاطر خدائے برتر کے احکام میں تلبیس شروع کردی اور حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنانے میںبے خوف ہوگئے اور عوام نے کتاب الہٰی کو پس پشت ڈال کر گمراہی کو اپنا امام بنالیا اور بے باکی کے ساتھ ہر قسم کی بداخلاقی کو اپنا لیااور آخر کار ان کے خواص وعوام اس انتہائی شقاوت و بدبختی پر اتر آئے کہ خدا کے معصوم پیغمبروں کو قتل کرناشروع کردیا اور ان کی تکذیب کر کے ان کے خون ناحق پر فخر و مباہات کرنے لگے چنانچہ یسعیاہ نبی کی کتاب میں جگہ جگہ ان کی بدکرداریوں اور نافرمانیوں کا اس طرح ذکر موجود ہے:

بنی اسرائیل نہیں جانتے، میرے لوگ کچھ نہیں سوچتے آہ خطا کار گروہ ایک قوم جو گناہوں سے لدی ہوئی ہے بد کرداروں کی نسل خراب اولاد کہ انہوں نے خدا کو ترک کیا اسرائیل کے قدوس کو حقیر جانا اس سے بالکل پھر گئے۔( باب آیات۳۰۴)

اے میری امت تیر ے پیشوا تجھ کو گمراہ کرتے ہیں اور تیرے راہ گیروں کی راہ مارتے ہیں خداوند کھڑا ہے کہ مقدمہ پیش کرے اور وہ لوگوں کی عدالت کرنے پر مستعد ہے۔ (باب ۲ آیات ۱۳۔۱۲)

کیونکہ وہ جوان کے پیشوا ہیں ان سے خطا کاری کراتے ہیں اور وہ جوان کی پیروی کرتے ہیں نگلے جائیں گے سو خداوند کے جوانوں سے خوشنودنہیں اور وہ ان کے یتیموں اور ان کی بیوائوں پر رحم نہ کرے گا کہ ان میں ہر ایک بے دین ہے اور بد کردار ہے۔( باب ۹ آیات ۱۷۔۱۶)

اور یرمیاہ نبی کی کتاب میں اس طرح مذکور ہے:

اور خداوند نے اپنے سارے خدمت گذار نبیوں کو تمہارے پاس بھیجا صبح سویرے اٹھ کے بھیجا، پر تم نے نہ سنانہ سننے کواپنا کان لگایا، انہوں نے کہا کہ ہر ایک اپنی بری راہ سے اور اپنے کاموں کی برائی سے باز آئو اور اس سرزمین میں جسے خدانے تم کو اور تمہارے باپ دادوں کو ہمیشہ کے لئے دیا بستے رہو اور تم بیگانے باطل معبودوں کا پیچھانہ کرو کہ ان کی بندگی اور ان کو سجدہ کرنے لگو اور اپنے ہاتھوں کے کاموں سے مجھے غصہ دلائو۔( باب ۲۵ آیات ۴۰۷)

اور ایسا ہوا کہ جب یرمیاہ ساری باتیں کہہ چکا جو خداوند نے اسے حکم دیا تھا کہ ساری قوم سے کہے تب کاہنوں اور نبیوں( جھوٹے مدعیانِ نبوت) اور ساری قوم نے اس کو پکڑا اور کہا کہ تو یقینا قتل کیا جائے گا۔ تو نے خداوند کا نام لے کر کس لئے نبوت کی ہے اور یہ کہا کہ یہ گھر (یروشلم) سیلا کی مانند ہوجائے گا اور یہ شہر ویران کیا جائے گا۔( باب ۲۱ آیات ۱)

کیونکہ اے یہوداہ جتنے تیرے شہر میں اتنے ہی تیرے معبود ہیں تم کا ہے کو مجھ سے حجت کرو گے تم سب مجھ سے پھر گئے ہو خداوندکہتا ہے میں نے تمہارے لڑکوں کو عبث مارا پیٹا ہے وہ تربیت پذیر نہیں ہوئے ، تمہاری ہی تلوار پھاڑ نے والے شیر ببر کی مانند تمہارے نبیوں کوکھاگئی ہے( یعنی تم نے اپنی ہی ہاتھوں سے اپنے سچے پیغمبروں کو قتل کیاہے)

یہود کی سرکشی اور خدا سے بغاوت کے یہ افسوسناک حالات تھے جن پر خداکی جانب سے بار بار ان کو تنبیہ کی جاتی اور مہلت سے فائدہ اٹھانے کی ترغیب دی جاتی رہی لیکن ان پر الٹا ہی اثر ہوتا رہا اور ان کی بے حیائی اور بے جا جسارت بڑھتی ہی رہی تب یکایک غیرت حق نے قہر اور بطشِ شدید کی شکل اختیا کرلی اور اس کا زبردست ہاتھ ان کی جانب پاداش عمل کے لئے بڑھا۔

 ساتویں صدی قبلِ مسیح کے آخری دور میں بابل( عراق ) کی حکومت پر ایک زبردست جری اور ظالم و جابر بادشاہ سریر آرائے سلطنت ہوا۔ اس کا نام بنو کذندریا بنو کدزار تھا اورعرب اس کو بخت نصر کہتے تھے اگر چہ اس زمانہ میں بابل کی حکومت بذاتِ خود ایک متمدن اور زبردست حکومت شمار ہوتی تھی مگر اس سے قریب نینویٰ کی مشہور طاقت کی تباہی کے بعد تو اس کو اور زیادہ قوت و شوکت حاصل ہوگئی اور وہ ایک عظیم الشان شہنشاہیت تسلیم کرلی گئی ۔حتی کہ ایران کی مختلف قبائلی حکومتیں بھی اس کی باج گزار اور ماتحت حکومتیں سمجھی جانے لگیں۔

 بنو کذمذر کی شمشیر کشور ستان نے اس پر بھی اکتفابھی نہیں کیا اور اس کی نظر یں شام و فلسطین کے علاقوں پر بھی پڑنے لگیں جویہودیا کا علاقہ کہلاتا اور بنی اسرائیل کے مذہب اور قومیت کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا چنانچہ وہ اس کی جانب بڑھا۔ جب یہود یا کی سرزمین کے باشندوں نے یہ سنا تو ان کے ہوش و حواس جاتے رہے اور بادشاہ سے لے کر رعایا تک سب کو موت کا نقشہ نظر آنے لگا اور اب وہ سمجھے کہ یسعیاہ اور یرمیاہ علیہ السلام نے ہماری بدکاریوں پر متنبہ کرتے ہوئے جس سزا اورعذاب الہٰی کا ذکر کیا تھا اور جس سے ناراض ہو کر ہم نے یرمیاہ علیہ السلام کو قید خانہ میں ڈال رکھا ہے وہ وقت آپہنچا مگر شومی قسمت دیکھئے کہ انہوں نے اس حالت کو دیکھ کر اپنی بداعمالیوں اور بدکرداریوں پر اظہار ندامت اور درگاہ الہٰی میں توبہ وانابت کی جانب پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی مادی طاقت کے اسباب و وسائل پر بھروسہ کیا اور شاہ بابل کی مقاومت کے لئے آمادہ ہوگئے۔

رنگین صفحات کے مضامین

  • رنگ و نور ۔ سعدی کے قلم سے
  • Rangonoor English
  • Message Corner
  • رنگ و نور پشتو ترجمہ
  • کلمۂ حق ۔ مولانا محمد منصور احمد
  • السلام علیکم ۔ طلحہ السیف
  • قلم تلوار ۔ نوید مسعود ہاشمی
  • نقش جمال ۔ مدثر جمال تونسوی
  • سوچتا رہ گیا ۔ نورانی کے قلم سے

Alqalam Latest Epaper

Alqalam Latest Newspaper

  • القلم کے گذشتہ شمارے و مضامین
  • کارٹون
TAKWIR Web Designing (www.takwir.com) Copyrights Alqalam Weekly Online